بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1448ھ 25 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

یکم محرم کو یوم عمر رضی اللہ عنہ مناتے ہوئے جلسہ و جلوس کرنا اور ریلیاں نکالنا کیسا ہے


سوال

کیا یکم محرم کا جلوس نکالنا شرعا جائز ہے؟ کیا یہی دن حضرت عمر کی شہادت کا دن ہے یعنی یکم محرم الحرام اور اس کو کسی کی مخالفت میں آکر باقاعدہ جلوس اور ریلی نکال کر ایونٹ بنا لینا شرعاً بدعت ہے؟

جواب

کسی شخص کی  وفات والے دن   کو ہرسال ’’برسی  یا یومِ وفات، یوم شہادت ‘‘ کے عنوان سے منانا، جلسہ و جلوس کرنا ریلیاں نکالنا شریعت مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،مذکورہ رسوم  کا شریعتِ مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ،اس لیے ان رسوم کا التزام کرنا اگر دین سمجھ کر ، ثواب کے طور پر ہو تو یہ شرعاً بدعت ہوگا۔

لہٰذا انبیاء کرام  علیہم السلام ،خلفاء راشدین،اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اور  کسی بھی شخصیت کا یوم پیدائش /یوِمِ وفات منانا، جلسہ و جلوس کرنا، ریلیاں نکالنا، روڈ بلاک کرناشرعاً جائز نہیں ۔البتہ اگر ان شخصیات سے اپنی محبت کااظہار کرنا ہے توان کے مشن اورمقصد ِ زندگی پر عمل پیرا ہونے کاعزم لیے ان مقاصد کواپنی عملی زندگی میں  اپنانا چاہیے، ایام و اوقات کا تعین  کیے بغیر،مذکورہ بالا رسمی اورتکلیف دہ اعمال سے اجتناب کرتے ہوئے برائے ترغیب اور تبلیغ ان شخصیات  کے محاسن ذکر کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔

نيز حضرت عمر رضي الله تعالي عنه كي شهادت كي تاريخ كے بارے ميں مختلف  روايات هيں، ايك قول كے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت چھبیس (26) ذی الحجہ  تئیس  (23) ہجری بروز چہارشنبہ بمطابق 31/اکتوبر 644 عیسوی کو نمازِ فجر میں ابولوٴلوٴ مجوسی کے خنجر سے زخمی ہوئے، تین راتیں زخمی حالت پر زندہ رہے، 29/ذی الحجہ بمطابق تین  نومبرکو وصال ہوا۔ یکم محرم سن چوبیس (24) ہجری کو روضہٴ اطہر میں آسودہٴ خاک ہوئے، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود.

(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب."

(کتاب اللباس، الفصل الثانی، ج: 8، ص: 222، ط: مکتبة حنیفیة)

بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا ‌يعقوب: حدثنا ‌إبراهيم بن سعد، عن ‌أبيه، عن ‌القاسم بن محمد، عن ‌عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد» رواه عبد الله بن جعفر المخرمي، وعبد الواحد بن أبي عون، عن سعد بن إبراهيم".

(كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، ج: 3، ص: 184، ط: السلطانية)

البداية والنهاية  للحافظ ابن کثیر الدمشقی میں ہے:

"فاتفق له ان ضربه ابو لؤلؤة فيروز المجوسي الاصل الرومي الدار وهو قائم يصلي في المحراب صلاة الصبح من يوم الاربعاء لاربع بقين من ذي الحجة من هذه السنة بخنجر ذات طرفين...

"ومات رضى الله عنه بعد ثلاث ودفن يوم الاحد مستهل المحرم من سنة اربع وعشرين بالحجرة النبوية الى جانب الصديق عن اذن ام المؤمنين عائشة رضى الله عنها في ذلك وفي ذلك اليوم حكم امير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله عنه 

 قال الواقدي رحمه الله حدثني ابو بكر بن اسماعيل بن محمد بن سعد عن ابيه قال طعن عمر يوم الاربعاء لاربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ودفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنة اربع وعشرين فكانت ولايته عشر سنين وخمسة اشهر واحدا وعشرين يوما وبويع لعثمان يوم الاثنين لثلاث مضين من المحرم قال فذكرت ذلك لعثمان الاخنس فقال ما اراك الا وهلت توفي عمر لاربع ليال بقين من ذي الحجة وبويع لعثمان لليلة بقيت من ذي الحجة فاستقبل بخلافته المحرم سنة اربع وعشرين وقال ابو معشر قتل عمر لاربع بقين من ذي الحجة تمام سنة ثلاث وعشرين وكانت خلافته عشر سنين وستة اشهر واربعة ايام وبويع عثمان ابن عفان 

 وقال ابن جرير حدثت عن هشام بن محمد قال قتل عمر لثلاث بقين من ذى الحجة سنة ثلاث وعشرين فكانت خلافته عشر سنين وستة اشهر واربعة ايام وقال سيف عن خليد بن وفرة ومجالد قالا استخلف عثمان لثلاث من المحرم فخرج فصلى بالناس صلاة العصر وقال علي بن محمد المدائني عن شريك عن الاعمش او جابر الجعفى عن عوف بن مالك الاشجعي وعامر بن ابي محمد عن اشياخ من قومه وعثمان بن عبدالرحمن عن الزهري قال طعن عمر يوم الاربعاء لسبع بقين من ذي الحجة والقول الاول هو الاشهر والله سبحانه وتعالى اعلم".

( خبر سلمة بن قيس الأشجعي والأكراد، ج: 7، ص: 138، ط: مکتبة المعارف)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں