بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1448ھ 01 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو بیٹا کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم


سوال

1۔  میں اپنی اہلیہ کے ساتھ گاؤں گیا ہوا تھا ، وہاں پر ایک دن میں نے اہلیہ کو بولا کہ میرے کپڑے استری کردو ، لیکن انہوں نے دھیان نہیں دیا، تو میں نے غصے میں کہا کہ " بیٹا میں آپ کو کب سے بول رہا ہوں، آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی " ۔ میں نے غلطی سے بیوی کو "بیٹا " بول دیا ۔ اس پر میرے سسرال والے یہ کہہ رہے ہیں  کہ بیٹا " بولنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگئی  ہے، کیا طلاق واقع ہوگئی ہے ؟

جب میں کراچی واپس آگیا، اور میں نے سسرال والوں کو کہا کہ میری بیوی کو کب بھیج رہے ہو، تو اس پر میرے سسرال والوں نے کہا کہ اس کو تو طلاق ہو چکی ہے، کیوں کہ تم نے نے اسے بیٹا بولا تھا۔

2۔  گاؤں سے واپس آتے وقت میں  نےبیوی سے ساتھ چلنے کا تقاضہ کیا کہ چلو ہم واپس کراچی چلتے ہیں، لیکن بیوی نہیں مان رہی تھی، تو اس پر میں نے غصے میں یہ الفاظ کہے کہ " اگر تم نہیں چلتی تو میں کراچی پہنچ کرکورٹ کے ذریعے تین طلاقیں دے دوں گا " لیکن میں نے ابھی تک کوئی طلاق نہیں دی ۔ اور بیوی ابھی تک گاؤں میں ہی ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ بیوی کو "بیٹا" کہنے سے سائل کی بیوی پرکوئی  طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے، لہذا اس بنیادپر سائل کے سسرال والوں کے لیے لڑکی کو شوہر کے ساتھ آنے سے روکنا درست نہیں ، البتہ بیوی کو بیٹا کہنا مکروہ ہے، لہذا ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

2۔ صورتِ  مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی سے کہا کہ”اگر تم نہیں چلتی تو میں کراچی پہنچ کرکورٹ کے ذریعے تین طلاقیں دے دوں گا“ یہ مستقبل میں طلاق  دینے کی دھمکی ہے ، جب تک طلاق  نہیں دے  گا، اس وقت تک  اس  جملے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی  ۔

 رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه."

(باب الظهار، ج: 3، ص: 470، ط: سعید)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا ۔"

(کتاب العتق، ج: 3، ص: 669، ط: سعید)

البحرالرائق میں ہے:

" وليس منه أطلقك بصيغة المضارع۔"

(کتاب الطلاق ، باب الفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 271، ط: دار الكتاب الإسلامي)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

'' بیوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا'' 

(باب الظہار ، ج: 6، ص: 670، ط: مکتبۃ لدھیانوی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802102227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں