بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الثانی 1448ھ 14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانا کھاتے وقت بائیں ہاتھ سے سلاد یا پانی استعمال کرنے کا شرعی حکم


سوال

کھانا کھاتے وقت اگر دائیں ہاتھ سے کھانا کھایا جا رہا ہو اور ساتھ میں سلاد وغیرہ بھی رکھی ہو، تو کیا وہ چیزیں بائیں ہاتھ سے اٹھا کر کھائی جا سکتی ہیں؟ اسی طرح اگر کھانے کے درمیان پانی پینا ہو اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر کھانا لگا ہوا ہو تو کیا بائیں ہاتھ سے پانی پینے کی گنجائش ہے؟

 

جواب

احادیثِ مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے  اور پینے کا حکم دیا گیا ہے اور بغیر عذر کے بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت وارد ہوئی ہے؛لہذا صورتِ مسئولہ میں سلاد کھانے اور پانی پینے کے لیے بھی دایاں ہاتھ ہی استعمال کیا جائے ،یہی سنت طریقہ ہے ، البتہ بائیں ہاتھ سے معاونت حاصل کرنا مثلاً سلاد اٹھانا،یا گلاس کو بائیں ہاتھ سے سہارا دینا اور دائیں ہاتھ سے پینا جائز ہوگا۔

حدیث  شریف میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يأكلن أحدكم بشماله ولا يشربن بها فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بها». رواه مسلم."

(كتاب الأطعمة، الفصل الأول، ج:2، ص:1210، ط: المكتب الإسلامي)

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"وقال صلى الله عليه وسلم: «سيد إدام أهل الجنة اللحم»، وأخذ لقمة بيمينه وتمرة بشماله، وقال: «هذه إدام هذه»."

(كتاب الأيمان، باب الأكل، ج:8، ص:177، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں