بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تحریری سلام کے جواب دینے کا حکم


سوال

آج کل ہمارے یہاں لوگ موبائل پر میسج میں سلام لکھ کر بھیجتے ہیں۔ کیا میسج پر بھی سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی کو بذریعہ میسج سلام (السلام علیکم ...)لکھ کر بھیجتا ہے تو جس شخص کو سلام بھیجا گیا ہے اس شخص پر اس تحریری سلام کا بذریعہ زبان جواب دینا یا جواب لکھ کر بھیجنا ،دونوں میں سے کسی ایک طریقے سے سلام کا جواب دینا واجب ہے ۔ 

الدر المختار میں ہے:

"ويجب رد جواب كتاب التحية كرد السلام."

وفی حاشیتہ لابن عابدین:

"(قوله ويجب رد جواب كتاب التحية) لأن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر مجتبى والناس عنه غافلون... لكن في الجامع الصغير للسيوطي: رد جواب الكتاب حق كرد السلام. قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:415، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144802102203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں