بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پینٹ کے ڈبے میں موجود انعامی ٹوکن کی رقم دس فیصد اضافہ کے ساتھ وصول کرنے کا حکم


سوال

ہمارا پینٹ کا کام ہے، کمپنی سے جو مال ہم خریدتے ہیں اس میں ہر ڈبے میں انعامی ٹوکن ہوتا ہے، اور انعامی ٹوکن پینٹ کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں، کسی میں سو کسی میں ڈیڑھ سو وغیرہ، اس میں بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ جب کسی دکاندار سے کوئی مال خریدے تو خریدنے والے کو کبھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈبے میں انعامی ٹوکن ہوتا ہے، اور کبھی اسے یہ معلوم نہیں ہوتا، اور کاریگر کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈبے میں انعامی ٹوکن ہوتا ہے۔ 

اکثر یہ جھگڑا ہوتا ہے کہ کاریگر کہتا ہےکہ یہ ٹوکن میرا ہے، اور مالک کہتا ہے کہ میرا ہے، کمپنی والے کبھی کہتے ہیں کہ کاریگر کے لیے رکھا جاتا ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ خریدنے والے کے لیے رکھا جاتا ہے، کبھی جب مال خریدنے والے کو ڈبے میں موجود ٹوکن کی خبر نہیں ہوتی تو کاریگر چھپا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ 

دکاندار اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ اگر کوئی اسے انعامی ٹوکن دے گا تو دکاندار اسے کیش رقم دے گا، پھر جب دکاندار تقریباً چھ ماہ بعد کمپنی والوں کو انعامی ٹوکن دے دیتا ہے تو کمپنی والے اسے ان ٹوکنوں پر دس فیصد نفع دیتی ہے، جو دکاندار کے خریدے گئے مال کے بل سے کاٹ لی جاتی ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ تمام صورتوں کا کیا حکم ہے؟ نیز اس طرح دکاندار کے لیے دس فیصد نفع لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو بچنے کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔ 

جواب

 واضح رہے کہ اگر مصنوعات بنانے والی کمپنیاں کسی بھی پروڈکٹ کے بنانے میں معیار کا لحاظ رکھیں، یعنی وہ چیز غیر معیاری اور ناقص نہ ہو، اور کمپنی نے اس چیز کی قیمت بھی اتنی ہی مقرر کی ہو جتنی قیمت مارکیٹ میں رائج ہو، انعامی ٹوکن ڈال کر قیمت کو مارکیٹ ریٹ سے بڑھا نہ دیا ہو، اور  خریداروں کا اصل مقصود اس چیز کی خریداری سے اس چیز سے نفع اٹھانا ہو صرف  انعامی ٹوکن کا حصول  مقصد نہ ہو، اور  اگر انعام نقدی کی صورت میں دیا جائے تو پراڈکٹ کی قیمت اس میں موجود نقد انعام سے زیادہ ہو، تو ایسی صورت میں کمپنی کا کسی پروڈکٹ کے  ڈبے میں انعامی رقم کا ٹوکن رکھنا شرعاً درست ہے، اور مذکورہ   ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ہوگا، اگر رنگ ساز اپنے پیسوں سے رنگ خرید کر رنگ کرتا ہو، اور رنگ کروانے والے سے رنگ اور اپنی محنت کا ایک مجموعی معاوضہ طے کر  کے  لیتا ہو، تو ایسی صورت میں   رنگ ساز ہی ٹوکن کا حق دار ہوگا؛ کیوں کہ خریدار بھی وہی ہے،لیکن اگر رنگ ساز صرف رنگ سازی کا کام کرے، اور رنگ کروانے والا رنگ خود خریدے یا رنگ ساز کو پیسے دے اور رنگ ساز اس کے وکیل کی حیثیت سے خریدے، تو ان دونوں صورتوں میں ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ( مالک )ہوگا۔ رنگ ساز کا اس ٹوکن پر دعویٰ کرنا، یا خفیہ طور پر ٹوکن لے کر فروخت کرنا غلط ہے، ہاں اگر خریدار اس کی اجازت دے تو کوئی حرج نہیں۔

نیز ٹوکن دکاندار کو دےکر اس کے بدلے ٹوکن میں درج شدہ رقم دکاندار سے وصول کرنا، اسی طرح دکاندار کا مذکورہ ٹوکن کے بدلے کمپنی سے ٹوکن کی رقم کے ساتھ ساتھ دس فیصد اضافی رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے؛ کیوں کہ ٹوکن کے بدلے حاصل ہونے والی تمام رقم محض ایک انعامی رقم ہے، جو کہ تبرع کی بنیاد پر کمپنی کی طرف سے دی جارہی ہے۔ 

تبیین الحقائق میں ہے: 

"لأن من ملك شيئا ملك ما هو من ضروراته وتوابعه."

(كتاب المكاتب، باب مايجوز للمكاتب أن يفعله، ج: 5، ص: 158، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

بحوث في قضايا فقهية المعاصرة میں ہے: 

"وإنَّ النوع الأول من هذه الجوائز غالباً ما تمنح على أساس القرعة ونحوها، لمشتري بضاعة مخصوصة أو منتج مخصوص؛ فإن كثيراً من التجار يعلنون جوائز يوزعونها على جملة منتخبة من المشترين الذين يشترون بضاعتهم، ويقع انتخاب المجازين إما عن طريق القرعة، أو على أساس أرقام الكوبونات التي توضع مع البضاعة، فمن اشترى بضاعة حصل على كوبون فلو وافق رقم كوبونه الرقم المنتخب للجائزة، استحق أن يحوز الجائزة المخصصة لذلك الرقم، وإن حكم مثل هذه الجوائز أنها تجوز بشروط.

الشَّرط الأول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله، ولا يزاد في ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول على الجوائز؛ وهذا لأنه إن زاد البائع فلم تبق تبرعاً على ثمن المثل فالمقدار الزَّائد إنما يدفع من قبل المشتري مقابل الجائزة المحتملة، فصارت الجائزة بمقابل مالي وإن هذا المقابل الماليَّ إنما وقع به المخاطرة، فصارت العملية قماراً، أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشتري قد حصل على عوض كامل للثمن الذي بذله ولم يخاطر بشيء، فالجائزة التي يحصل عليها جائزة بدون مقابل، فيدخل في التبرعات المشروعة، الشرط الثاني: أن لا تتخذ هذه الجوائز ذريعة لترويج البضاعات المغشوشة؛ لأن الغش والخداع حرام لا يجوز بحال، الشرط الثالث: أن يكون المشتري يقصد شراء المنتج للانتفاع به، ولا يشتريه لمجرد ما يتوقع من الحصول على الجائزة؛ لأنه إن لم يكن يقصد شراء المنتج، فإنَّ ما يبذله من الثَّمن، إنما يبذله من أجل الجائزة، فكأن فيه شبهة المخاطرة، فلا يخلو من شبهة القمار."

(البحث التاسع عشر أحکام الجوائز، ج: 2، ص: 159/158، ط: دار القلم)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں