بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

موروثی مکان میں دیگر ورثاء کی اجازت سے تعمیرات کرنے کا حکم


سوال

ہمارے والد کا ایک مکان تھا، جو کہ والد کی زندگی میں صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا، 1981 میں ہمارے والد کا انتقال ہوگیا، ورثاء میں 4 بیٹے، ایک بیٹی اور ایک بیوہ تھیں جو کہ اس وقت حیات تھیں، پھر 2010 میں ان کا بھی انتقال ہوگیا۔

والد کے فوت ہونے کے بعد میں نے ملک سے باہر جاکر کام کرنا شروع کیا، اور میں ہی گھر کی کفالت کررہا ہوں، اس مکان میں گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل میرے پیسے سے بھائیوں نے تعمیر کی تھی، اور وہ اس کے معترف بھی ہیں، پھر میں نے پاکستان آکر اس پر مزید دو منزلیں تعمیر کروائی، یہ سب میں نے ان کی آسانی کے لیے کیاتھا، ہر بھائی اس مکان کے مختلف پورشن میں رہائش پذیر ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ: یہ جو میرے پیسے سے مکان  کی تعمیر ہوئی ہے اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ میرا شمار ہوگا؟ جبکہ اس پر تمام تعمیرات دیگر وارثین کی رضامندی سے ہوئی ہیں۔

اور والد اور والدہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ ورثاء میں 4 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ سائل نے دیگر ورثاء کی رضامندی سے موروثی مکان میں تعمیرات کیں، لہذا مذکورہ مکان میں سے سائل کو تعمیرات پر خرچ کردہ رقم کے بقدر پیسے لینا جائز ہے، اور باقی مکان کی رقم ورثاء میں ان کے حصص کے بقدر تقسیم ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کل ترکہ میں سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی ترکہ سے اس کو نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 9 حصوں میں تقسیم کرکے 2 ،2حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 1 حصہ مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

مرحوم والد: 9

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی 
2222

1

یعنی فیصد کے حساب سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 22.22 فیصد، اور اکلوتی بیٹی کو 11.11 فیصد ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء...قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ ه…. قوله ( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط."

(کتاب الخنثٰی، مسائل شتیٰ، ج:6، ص:747، ط:سعید)

درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے:

[(المادة 1309) عمر أحد الشريكين الملك المشترك بإذن الآخر وصرف من ماله قدرا معروفا]

" إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة:

الاحتمال الأول - أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر ولو لم يشترط الشريك الآمر الرجوع على نفسه بالمصرف بقوله: اصرف وأنا أدفع لك حصتي من المصرف."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، ج:3، ص:314، ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں