
میں نے اپنی بیٹی کو اپنی سالی جو کہ بے اولا د ہے ،اس کے بے حد اصرار پر عارضی طور پر ساتھ رکھنے کی اجازت دی تھی اور اب ایک سال کے عرصہ سے غیر شرعی کام مثلا ً میری سالی کا شوہر سوشل میڈیا پر میری بیٹی کی ویڈیوز شائع کرتا ہےجس میں نازیبا کپڑے پہناتا ہے اور غلط باتوں کی تربیت کرتاہے جبکہ میں ایک دیندار آدمی ہوں اور میرا گھرانہ دیندار ہے۔
اب بچی کی عمر تین سال چھ ماہ ہے جبکہ میری سالی کا شوہر میری بچی کا نامحرم ہے یعنی کوئی خونی رشتہ نہیں ہے تو اب مجھے اپنی بیٹی کو واپس لینا ہے۔
میری سالی کا شوہر بضد ہے کہ میں اس بچی کو پال پوس رہا ہوں تو میں کیسے اس بچی کے لیے نامحرم ہوسکتا ہوں۔
1۔آیا یہ بچی کے لیے نامحرم ہے کہ نہیں؟
2۔میرے مطالبہ پر وہ مجھے میری بیٹی واپس نہیں کر رہا ،تو اس کا کیا حکم ہے؟
وضاحت: سائل کی سالی اور نہ ہی اس کے شوہر کی بہن نےرضاعت کی مدت میں دودھ پلایا۔
1۔واضح رہے کہ محض گود لینے سے محرمیت قائم نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر گود لینے والی (سائل کی سالی) نےسائل کی بیٹی کو رضاعت کی مدت(دوسال کی عمر) میں دودھ نہیں پلایا تھااور نہ ہی سالی کے شوہر کی بہن وغیرہ نے اس کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو محرمیت قائم نہیں ہوئی یعنی سائل کی سالی کا شوہر اس بچی کے لیے نامحرم ہے ۔
2۔صورتِ مسئولہ میں سائل کی سالی اور اس کے شوہر پر مذکورہ بچی کے والدین کے مطالبہ پر بیٹی کو واپس کرنالازم ہے۔
نیز بچی کو غیرشرعی لباس پہنانا یا ویڈیوز بنانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، سائل کی سالی کے شوہر کو اس عمل سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا "[الأحزاب: 4، 5]
ترجمہ:" اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔" (از بیان القرآن)
التفسیرالمظہری میں ہے:
"فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(سورۃالأحزاب ج: 7 ص: 284 ط :رشيدية)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة، إلى يوم القيامة"
(باب الرجل ینتمی الی غیر موالیه،ج:4،ص:330،ط:المکتبة العصریة)
ترجمہ: ’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو "۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"اعلم أن الحضانة حق الصغير لاحتياجه إلى من يمسكه فتارة يحتاج إلى من يقوم بمنفعة بدنه في حضانته وتارة إلى من يقوم بماله حتى لا يلحقه الضرر وجعل كل واحد منهما إلى من أقوم به وأبصر فالولاية في المال جعلت إلى الأب والجد؛ لأنهم أبصر وأقوم في التجارة من النساء."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة،ج:4، ص:180، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"كل من تحرم بالقرابة والصهرية تحرم بالرضاع."
(كتاب النكاح،ج:1، ص:277،ط:دارالفكر)
وفيه ايضاً:
"يحرم علي الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جمعاً حتي أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أوبعده...إلخ."
(كتاب النكاح،فصل في الرضاعة: ج:1، ص:343،ط:دارالفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802102162
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن