بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق واقع ہونے كے بعد بيوی كا حق مہراورجہیز میں دئے گئے سونے كا حكم


سوال

میری والدہ محترمہ کے نکاح کے وقت 100 مثقال سونا حق مہر مقرر ہوا تھا، جس میں 18 مثقال سونا، ہمارے والد صاحب نے نقد ادا کر دیا، باقی 82 مثقال سونا قرض تھا جو کہ والد صاحب نے ادا کرنا تھا، اور جو 18 مثقال سونا والد نے ادا کیا تھا وہ کبھی وقتاً فوقتاً والدہ سے لے کر اپنی ضروریات میں خرچ کرتے رہے اور والدہ سے کہا کہ میں آپ کا سونا ادا کر دوں گا ۔

اب ایک ماہ قبل میرے والد صاحب نے والدہ کو طلاق دے دی ہے، لیکن حق مہر 82 مثقال سونا جو قرض تھا وہ اور باقی 18 مثقال سونا جو والد صاحب والدہ سے لے کر خرچ کرتے رہے، ادا نہیں کیا ہے۔

اسی طرح والدہ کو ان کے والدین نے دس تولہ سونا دیا تھا جو کہ والد صاحب نے  والدہ سے لے کر اپنی ضروریات میں استعمال کیا تھا اور اس کے بھی واپس کرنے کا کہا تھا، لیکن اب وہ حق مہر 18 مثقال اور باقی سونا جو والد صاحب نے ادا نہیں کیا ہے ، اور دس تولہ سونا جو میری والدہ کو ان کے والدین نے دیا تھا، وہ سب سونا والد صاحب دینے سے انکار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں ادا نہیں کروں گا۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا حق مہر اور میری والدہ کو والدین  نے جو سونا دیا تھا وہ میری والدہ کا حق  بنتا ہے یا نہیں ؟

اور والد صاحب کا  انکار کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟ 

جواب

(1) صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کے  نکاح میں 100 مثقال سونا حقِ مہر کے طور پر مقرر تھا، جس میں سے 18 مثقال نقد ادا کیا گیا تھا اور باقی 82 مثقال بطورِ قرض ذمہ میں باقی تھا ۔ یہ سارا سونا سائل کی والدہ کا حق تھا، اور شوہر نے جو 18 مثقال ادا کرنے کے بعد سائل کی والدہ سے دوبارہ بطورِ قرض لیا تھا اور واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا، تو ایسی صورت میں جتنا سونا لیا  قرض میں  لیا تھا  اور جتنے کیریٹ والا سونا لیا تھا اتنا سونا   یا اس کی موجودہ مالیت کے اعتبار سے  رقم کی ادائیگی سائل کے والد پر لازم ہے ۔

الغرض 100 مثقال سونا حقِ مہر کا اور وہ 10 تولہ سونا جو سائل کی والدہ کو والدین کی طرف سے جہیز میں ملا تھا یہ سب سائل کی والدہ کا حق اور اِنہی کی ملکیت شمار ہوگا۔

(2) سائل کے والد صاحب کا حقِ مہر یا اس کے کسی حصے سے انکار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،یہ عورت کا حق ہے، شوہر جب تک نہیں دے گا ، یہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا، اگر دنیا میں نہیں دیا توآخرت میں دینا پڑے گا جو آسان ہرگز نہیں ہوگا۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أتدرون ‌من ‌المفلس؟ قالوا: المفلس فينا يا رسول الله من لا درهم له ولا متاع، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاته وصيامه وزكاته، ويأتي قد شتم هذا وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا فيقعد فيقتص هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقتص ما عليه من الخطايا أخذ من خطاياهم فطرح عليه ثم طرح في النار."

(‌‌باب ما جاء في شان الحساب والقصاص، ج:4، ص:218، ط:دار الغرب الإسلامي - بيروت)

"ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ،کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا،تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا،چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں ،اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے، اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع."

(كتاب النكاح،الباب السابع في المهر،الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج: 1، ص:  303، ط: رشيديه)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة أو إزالة بكارتها بنحو حجر بخلاف إزالتها بدفعة فإنه يجب النصف بطلاق قبل وطء ولو الدفع من أجنبي، فعلى الأجنبي أيضا نصف مهر مثلها إن طلقت قبل الدخول وإلا فكله نهر بحثا .(قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. "

(كتاب النكاح ، باب المھر،ج:3، ص: 102-103 ،ط:سعيد )

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."

(كتاب النكاح، باب المهور،ج:5، ص: 63، ط: بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولو دفعت في تجهيزها لابنتها أشياء من أمتعة الأب بحضرته وعلمه وكان ساكتا وزفت إلى الزوج فليس للأب أن يسترد ذلك من ابنته) لجريان العرف به (وكذا لو أنفقت الأم في جهازها ما هو معتاد والأب ساكت لا تضمن) الأم، وهما من المسائل السبع والثلاثين."

(كتاب النكاح، باب المھر، مطلب انفق علي معتدة الغير، ج: 3، ص: 157، ط: سعيد)

وفيه ايضا:

"(قوله هلك بالدين) والفرق أن الإبراء يسقط به الدين أصلا كما قدمه، وبالاستيفاء لا يسقط، لما تقرر أن الديون تقضى بأمثالهالا أنفسها لأن الدين وصف في الذمة لا يمكن أداؤه، لكن إذا أدى المديون وجب له على الدائن مثله فتسقط المطالبة لعدم الفائدة."

(  كتاب الرھن، باب التصرف في الرھن،فصل في مسائل متفرقة، ج: 6، ص: 525، ط: سعيد )

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں