بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الاول 1448ھ 03 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈمپر کو نفع میں شراکت کی بنیاد پر چلانے کے لیے دینے کا حکم


سوال

ایک شخص نے ڈمپر بینک سے خریدا، اور  وہ ڈمپر اس نے دوسرے شخص کو دےدیا، کہ آپ اس کے انتظامات دیکھیں ، اور سارے انتظامات ، ڈرائیور،   اور خراب ہونے کی صورت میں ٹھیک کروانا سب اس کے حوالے کر  دیے، اور یہ طے ہوا کہ ڈمپر سے ماہانہ جو کمائی ہوگی ، اس کا بیس فیصد اس نگرانی کرنے والے شخص کا حصہ ہوگا۔

اب نگرانی کرنے والے شخص کی کمائی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ 

مالک نے یہ ڈیمپر بینک سے خریدا، اور اس کا انشورنس بھی کرایا ہوا ہے۔

جواب

1۔ واضح رہے کہ ڈمپر یا گاڑی کسی کو عوض کے بدلے چلانے کے لیے دینا اجارہ کہلاتا ہے، اور اجارہ  میں اجرت مجہول ہونا  اجارہ کو فاسد کردیتا ہے، نیز  گاڑی چلانے کے لیے دے کر نفع و نقصان میں برابر کا شریک ہونا  بھی درست نہیں ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک شخص کا دوسرے شخص کو ڈمپر چلانے کے لیے دینا اور خراب ہونے کی صورت میں نقصان چلانے کے ذمہ لگانا اور نفع میں دونوں کا متعین فیصد کے اعتبار سے شریک ہو نا   درست   نہیں ہے، اور جنہوں نے یہ معاملہ کیا ہے ان پر   اس  معاملہ  کو فسخ (ختم) کرنا ضروری ہے۔اور گزشتہ  چند ماہ میں جو نفع ہوا ہے وہ گاڑی کے مالک کا حق ہے، اور ڈرئیور کو اپنے عمل کی اجرت مثل (یعنی اس جیسے کام کرنے کی جتنی اجرت بنتی ہے) ملے گی۔

جواز کی یہ  صورت اختیار کی جاسکتی ہے  کہ نفع نقصان سب گاڑی کے مالک کا ہو اور  گاڑی چلانے  والے کے لیے   متعین  اجرت مقرر کر لی جائے ، اگر ڈرائیور پر  نقصان  کی شرط لگادی جاۓ تو اس صورت میں اجارہ  فاسد ہوجائے گا، یا ڈمپر  متعین کرایہ پر دے دیا جائے باقی جو آمد ہو وہ کرایہ پر لینے والے کی ہوگی ۔

(1) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة فكثيرة....منها أن يكون  رأس المال دراهم أو دنانير عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعند محمد رحمه الله تعالى أو فلوسا رائجة حتى إذا كان رأس مال المضاربة ما سوى الدراهم والدنانير والفلوس الرائجة لم تجز المضاربة إجماعا.... ولا تجوز بالذهب والفضة إذا لم تكن مضروبة في رواية الأصل."

(كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وشرائطها،وركنها، ج: 4، ص: 286، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد، أشباه.

(قوله: ومرمة الدار أو مغارمها) قال في البحر: وفي الخلاصة معزياً إلى الأصل: لو استأجر داراً على أن يعمرها ويعطي نوائبها تفسد؛ لأنه شرط مخالف لمقتضى العقد اهـ. فعلم بهذا أن ما يقع في زماننا من إجارة أرض الوقف بأجرة معلومة على أن المغارم وكلفة الكاشف على المستأجر أو على أن الجرف على المستأجر فاسد كما لايخفى اهـ. أقول: وهو الواقع في زماننا، ولكن تارةً يكتب في الحجة بصريح الشرط فيقول الكاتب: على أن ما ينوب المأجور من النوائب ونحوها كالدك وكري الأنهار على المستأجر، وتارةً يقول: وتوافقا على أن ما ينوب إلخ. والظاهر أن الكل مفسد؛ لأنه معروف بينهم وإن لم يذكر، والمعروف كالمشروط، تأمل."

(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 46، ط: سعيد)

و فیه أیضاً:

"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان، وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز، (وحكم الأول)  وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولاتملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض، بخلاف فاسد الإجارة، حتى لو قبضها المستأجر ليس له أن يؤجرها، ولو آجرها وجب أجر المثل ولايكون غاصبًا، وللأول نقض الثانية، بحر معزياً للخلاصة وفي الأشباه: المستأجر فاسداً لو آجر صحيحاً جاز وسيجيء."

(كتاب الإجارة، مطلب في الإستئجار على المعاصي، ج:6، ص:56، ط:سعيد)

(2) سنن الترمذی میں ہے:

"عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة."

ترجمہ:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔"

(أبواب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج: 3، ص: 84، ط: دار الرسالة العالمية)

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

"تأمين تجاري أو التأمين ذو القسط الثابت، وهو المراد عادة عند إطلاق كلمة التأمين، وفيه يلتزم المستأمن بدفع قسط معين إلى شركة التأمين القائمة على المساهمة، على أن يتحمل المؤمن (الشركة) تعويض الضرر الذي يصيب المؤمن له أو المستأمن. فإن لم يقع الحادث فقد المستأمن حقه في الأقساط، وصارت حقا للمؤمن....

أما التأمين التجاري أو التأمين ذو القسط الثابت: فهو غير جائز شرعا، وهو رأي أكثر فقهاء العصر ... وسبب عدم الجواز يكاد ينحصر في أمرين: هما الغرر والربا."

 (القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية، أنواع التامین، ج: 5، ص: 3423/3421، ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لا باخذ مال في المذهب) ... إذ لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(باب التعزير:مطلب في التعزير بأخذ المال، ج: 4، ص: 61، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802102141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں