
زید نے بکر کو بارہ ہزار (12,000) درہم بطورِ امانت دیے اور کہا کہ آپ دبئی جا رہے ہیں، وہاں پہنچ کر یہ رقم عمر کو دے دینا۔ بکر رات تقریباً دو بجے دبئی ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے بعد وہ ایئرپورٹ سے اپنی رہائش گاہ پر چلا گیا۔ رات گزر گئی، پھر دن بھی گزر گیا، لیکن بکر نے زید کو اس دوران رقم کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی۔ پھر اسی دن شام کے وقت بکر نے زید کو اطلاع دی کہ ایئرپورٹ پر کسی شخص نے اس کی جیب سے بٹوا نکال لیا ہے، جس میں اس کے اپنے کچھ ضروری کاغذات کے ساتھ زید کے مکمل بارہ ہزار درہم بھی موجود تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا زید، بکر کو مذکورہ بارہ ہزار درہم کا شرعاً ضامن قرار دے سکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ بکر نے امانت چوری ہونے کی اطلاع فوراً نہیں دی، بلکہ تقریباً ایک دن گزرنے کے بعد شام کو اطلاع دی، حالانکہ موجودہ زمانے میں جدید ذرائعِ مواصلات اور ٹیکنالوجی کی سہولت موجود ہے، اور اگر بکر زید کو بروقت اطلاع دے دیتا تو زید فوری طور پر رقم کی تلاش، ایئرپورٹ انتظامیہ سے رابطہ، کمپلین درج کروانے اور دیگر ممکنہ ذرائع سے رقم کی بازیابی کی کوشش کرسکتا تھا۔
کیا بکر کی طرف سے بروقت اطلاع نہ دینا اور امانت کی چوری کے بعد مناسب وقت پر اس کی اطلاع نہ کرنا شرعاً تعدی یا تفریط شمار ہوگا؟ اور کیا اس تاخیر کی وجہ سے بکر امین کی حیثیت سے نکل کر ضامن بن جائے گا؟
براہِ کرم اس مسئلے کا جواب فقہِ حنفی کی روشنی میں معتبر فقہی دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ مرحمت فرمائیں۔ نیز عرف کے متغیر ہونے کی وجہ سے کوتاہی کے حکم کے متغیر ہونے کا مسئلہ بھی ذکر فرمائیں، اور یہ بھی واضح فرمائیں کہ کیا عرف کی وجہ سے مذکورہ بالا سوال کا جواب تبدیل ہوسکتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں بکر نے چونکہ مذکورہ رقم باحفاظت اپنے بٹوے میں رکھی، اور وہ بٹوا اس کی جیب سے نکال لیا گیا، لہٰذا رقم کی حفاظت میں بکر کی جانب سے کسی قسم کی تعدی یا غفلت نہیں پائی گئی۔ اس لیے از روئے شرع بکر مذکورہ رقم کا ضامن نہیں ہے۔
نیز یہ کہنا کہ اگر بکر زید کو بروقت اطلاع دے دیتا تو زید رقم کی فوری تلاش اور دیگر ممکنہ ذرائع سے اس کی بازیابی کی کوشش کرسکتا تھا، ایک احتمالی اور غیر یقینی امر ہے، جو رقم چوری ہوجانے کے بعد کا معاملہ ہے؛ لہٰذا ضمان کے سلسلے میں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ بکر کی جانب سے بروقت اطلاع نہ دینے اور اطلاع دینے میں تاخیر کرنے کی وجہ سے مذکورہ شرعی حکم تبدیل نہیں ہوگا۔
العقود الدریہ فی تنقيح الفتاوی الحامدیہ:
"(سئل) فيما إذا أودع زيد عند عمرو أربعة دنانير فوضعها عمرو في جيبه ثم فقدت منه بدون تعد ولا تقصير في الحفظ فهل يكون عمرو غير ضامن؟(الجواب): نعم قال في العمادية وكذا إذا جعلها في جيبه وحضر مجلس الفسق فسرقت منه لا يضمن وهكذا ذكر في العدة."
(كتاب الوديعة، ج: 2، ص: 75، ط: دار المعرفة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"مودع جعل دراهم الوديعة في جيبه وحضر مجلس فسق فضاعت الدراهم بسرقة أو سقوط أو غيره، قال بعضهم: لا يضمن؛ لأنه حفظ الوديعة في موضع يحفظ مال نفسه وهو جيبه"
(كتاب الوديعة، الباب الرابع فيما يكون تضييعا للوديعة وما لا يكون، ج: 4، ص: 345، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102121
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن