
میری بیوی اپنے میکے گئی تھی،میری اس سے فون پر بات ہورہی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ :آپ گھر آجائیں،انہوں نے کہا کہ:میں نہیں آؤں گی،میں نے غصے کی حالت میں کہا کہ:'' میں طلاق دیتاہوں،میں طلاق دیتاہوں،میں طلاق دیتاہوں''۔
اب سوال یہ ہےکہ:
کیا ان الفاظ سے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟حالانکہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی محض دھمکانے کے لیے میں نے یہ الفاظ کہے تھے۔اگر طلاق ہوگئی ہے،تو کیا رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی گنجائش ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے جب فون پر اپنی بیوی کو غصے میں تین بار ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ :"میں طلاق دیتا ہوں"، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،عورت اپنےشوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب سائل کے لیے رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مطلقہ اپنی عدت(پوری تین ماہواریاں اگر حاملہ نہ ہو،اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک )گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
نیز یہ الفاظ طلاق کے باب میں صریح الفاظ ہیں، اور صریح الفاظ میں نیت یا ارادے کی حاجت نہیں ہوتی ، ان الفاظ سے بہر صورت طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)
"ترجمہ:اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو جب وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (بیان القرآن)"
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير."
(کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعة و فیما تحل به المطلقة وما یتصل به، فصل فیما تحل به المطلقة ومایتصل به، ج:1،ص:473:ط:رشیدیه)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠]".
(کتاب الطلاق ،فصل :حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802102081
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن