بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر تم اپنے ماں کے گھر گئی تو وہی ہوگا کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

بندہ کی شادی کو تیرہ سال ہوگئے ،میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا ہوں،ایک مسئلہ جو ہر وقت دل میں کھٹکتا ہے ، اس  میں آپ حضرات کی رہنمائی کا طالب ہوں۔

شادی کے دوسرے سال میاں بیوی میں جھگڑا ہوا، جس کی وجہ سے میں گھر چھوڑ کر اپنے چچا کے ساتھ چلا گیا ،ابھی راستے میں ہی تھے کہ بیوی کا فون آیا کہ تم واپس آجاؤ،تم جیسا کہوگے آج کے بعد ویسا ہی ہوگا،اس پر میں نے کہاکہ واپس آجاتا ہوں ،اس شرط پر کہ آج کے بعد "اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر گئی تو وہی ہوگا"،یعنی میری مراد اور نیت طلاق کی تھی ،جس پر بیوی نے کہا :ٹھیک ہے۔

پھر میں واپس آگیا ،دن گزرے اور ہم نے بیوی کی والدہ کے ہاں آنا جانا شروع کردیا ،اور مسلسل آتے جاتے رہے ،ایک دن میں نے بیوی سے کہا کہ میں نے تو ان الفاظ کے ساتھ شرط لگائی تھی ،کہیں طلاق نہ ہوئی ہو ،اس نے کہا کہ نہیں ہوئی میں نے ایک مولانا سے پوچھا ہے۔

میں خاموش ہوگیا ،اس بات کو تیرہ سال بیت گئے اور ہم ساتھ ہیں ،لیکن گھر میں سب کچھ ہونے کے باوجود سکون نہیں ،اور اپنے دل میں مسلسل یہ شک موجود ہے کہ ہمارا نکاح  باقی ہے یا نہیں ؟

اس دوران ایک دفعہ جھگڑا ہوا ،جس پر میں نے اس کو ایک  طلاق رجعی بھی دی ،پھر صلح ہوئی اور ہم نے رجوع کرلیا ۔

اب پہلا سوال یہ ہے کہ "تم اگر ماں کے گھر گئی تو وہی ہوگا "کہنے سے ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہوگیا؟کیونکہ آنا جانا میرا اور بیوی کا مسلسل ہوتا ہے۔

2۔ دوسری طلاق کا کیا حکم ہے؟اور اب مجھے کتنی طلاقیں دینے کا حق باقی ہے ؟

3۔اگر "وہی ہوگا"سے طلاق واقع ہوئی ہو تو اس کے بعد والی طلاق رجعی کے ساتھ دو ہوگئی یا نہیں ؟

4۔"وہی ہوگا"ان کلمات کوکہے ہوئے 12سال ہوگئے ،اگر طلاق ہوئی ہو تو عدت کا کیا حکم ہے؟

5۔کیا اس کے بعد تجدید نکاح کی صورت میں ہم ساتھ رہ سکتے ہیں یانہیں ؟

وضاحت: دوسری طلاق رجعی تقریبا اس واقعہ کے چھ سال بعد دی تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے ابتداءً اپنی بیوی سے یہ کہا تھا: "كہ اگر تم اپنے ماں کے گھر گئی تو وہی ہوگا"، تو اگرچہ اس جملے کے کہتے وقت سائل کی نیت طلاق کی تھی، تاہم اس جملے میں نہ صراحتاً طلاق کا لفظ موجود ہے اور نہ ہی یہ ایسا کنایہ ہے جس میں طلاق کا احتمال پایا جاتا ہو، لہٰذا اس جملے کے کہنے اور بیوی کے اپنے والدین کے گھر چلے جانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،  اور  دونوں بدستور میاں بیوی ر ہیں۔
البتہ بعد میں ہونے والے جھگڑے کے دوران سائل نے اپنی بیوی کو  جوایک طلاقِ رجعی دی تھی، اور  رجوع بھی کر لیا تھا،تو  اس رجوع کی وجہ سے  دونوں کے درمیان نکاح بدستور برقرار رہا ، تاہم اس ایک طلاق کے واقع ہو جانے کے سبب آئندہ کے لیے سائل کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(هو)...(رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق .

وفی الرد:(قوله أو المآل) أي بعد انقضاء العدة أو انضمام طلقتين إلى الأولى وعليه فلو ماتت في العدة أو بعدما راجعها ينبغي أن يتبين عدم وقوع الطلقة الأولى؛ حتى لو حلف أنه لم يوقع عليها طلاقا قط لا يحنث بحر. وفيه أن المراجعة تقتضي وقوع الطلاق، فقد صرح الزيلعي وغيره بأن المراجعة بدون وقوع الطلاق محال مقدسي فالصواب في تعريفه الشامل لنوعيه ما في القهستاني، من أنه إزالة النكاح أو نقصان حله بلفظ مخصوص. قلت: ولذا قال في البدائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا. وعند الشافعي زوال حل الوطء من أحكامه الأصلية له حتى لا يحل له وطؤها قبل المراجعة (قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية كمطلقة بالتخفيف وكأنت ط ل ق وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونة ولفظ الخلع فتح، لكن قوله وغيرهما أي غير الصريح والكناية يفيد أن قول القاضي فرقت، والكنايات ولفظ الخلع مما اشتمل على مادة ط ل ق وليس كذلك، فالمناسب عطفه على ما اشتمل والضمير عائد على ما وثناه نظرا للمعنى لأنه واقع على الصريح والكناية".

(کتاب الطلاق، ج:3، ص: 226، ط:سعید)

الأصل لمحمد بن الحسن میں ہے :

"وإذا طلق الرجل امرأته واحدة يملك الرجعة، للعدة أو هي في الحيض أو بعد الجماع، فالطلاق واقع عليها، وهو يملك الرجعة ما لم تنقض عدتها، فإذا انقضت عدتها فهو خاطب من الخُطّاب".

(كتاب الطلاق ،باب الرجعة ،ج:4،ص:396،ط:دار ابن حزم)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"(قال)، وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي صلى الله عليه وسلم «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة رضي الله عنها ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة رضي الله عنه طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود رضي الله عنه منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك".

( كتاب الطلاق ،باب الرجعة ،ج:6،ص: 19،ط:دار المعرفة )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں