بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا طلاق نامہ پڑھے بغیر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے؟


سوال

میں نے طلاق نامہ پر خاندانی دباؤ کی وجہ سے دستخط کیے ہیں۔ خاندانی دباؤ سے مراد یہ نہیں ہے کہ خاندان کی طرف سے  مارنے پیٹنے یا کسی قسم کی جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، بلکہ اس سے صرف ذہنی دباؤ مراد ہے۔ دستخط کرتے وقت طلاق نامے پر جو کچھ لکھا ہوا تھا،نہ پڑھا تھا اور نہ ہی دستخط کرنے سے پہلے یا بعد میں پڑھا۔ البتہ یہ علم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے۔ نیز منہ سے بآواز  طلاق کے الفاظ نہیں کہے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے طلاق نامہ نہ پڑھا ہو، اور نہ کسی نے اسے بتایا ہو کہ اس میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، اور نہ ہی سائل کو اس بات کا علم ہو کہ طلاق نامہ میں کتنی طلاقیں درج ہیں، بلکہ سائل نے صرف طلاق نامہ پر دستخط کیے ہوں، تو اس صورت میں دستخط کرنے سے بیوی  پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے، اور سائل کو عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر عدت گزر جائے تو باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔ رجوع کے بعد سائل کے پاس آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

لیکن اگر سائل کو دستخط کرنے سے پہلے معلوم تھا کہ طلاق نامہ میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، خواہ سائل نے خود طلاق نامہ پڑھا ہو یا کسی دوسرے شخص نے اسے بتایا ہو، یا کسی اور طریقے سے اسے اس بات کا علم ہوگیا ہو کہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہیں، تو اس صورت میں دسخط کرنے سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر سائل کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی۔ اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ دوبارہ نکاح جائز ہے۔ سائل کی بیوی عدت گزارنے کے بعد، یعنی اگر حمل نہ ہو تو مکمل تین ماہواریاں اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت گزار کر، دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا."

(کتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: دارالفکربیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 470، ط: دارالفکربیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802102033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں