
ایک شخص اپنے سسر کے ساتھ لڑتے ہوئے پشتو میں یہ کہتا ہے: "زما دِ طلاق"، جس کا اردو میں معنی ہے "میری طلاق" ۔ یہ الفاظ اس نے چار مرتبہ کہے ہیں، البتہ اس نے یہ نہیں کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"۔ مذکورہ شخص قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس نے یہ الفاظ غصے کی حالت میں کہے تھے، اور یہ الفاظ کہتے وقت اس کے ذہن میں اس کی بیوی کا خیال نہیں تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1۔ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوجائے گی؟
2۔ اگر اس کے ذہن میں اس کی بیوی کا خیال ہو تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟
3۔ اگر طلاق واقع ہوگئی تو بیوی کے دوبارہ حلال ہونے کی کیا شرائط ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے "زما دِ طلاق" کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، خواہ یہ الفاظ کہتے وقت اس کے ذہن میں اپنی بیوی کا خیال تھا یا نہیں تھا؛ کیونکہ مذکورہ جملہ نامکمل ہے، طلاق کے واقع پر دلالت نہیں کرتا، لہذا دونوں کا نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي."
(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج: 3: ص: 230، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
فتح القدير میں ہے:
"ولو قال: طلاقك علي لا يقع أصلا."
(كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، ج: 4، ص: 66 ، ط: دار الفكر، بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802102015
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن