
ایک لڑکے کا نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہوگئی۔ اس کے بعد کسی نے اس لڑکے پر جادو کیا اور اس پر جنات کو مسلط کردیا، جس کی وجہ سے اس پر جنات آتے تھے اور وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ اس پر جنات آئے اور اس کے منہ سے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ نکلے۔ لیکن جنات کے جانے کے بعد جب اس سے کہا گیا کہ آپ نے تین مرتبہ طلاق دی ہے تو اس نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی، مجھے طلاق دینے کا بالکل علم نہیں ہے۔ وہ اس بات پر قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہے۔ گویا مذکورہ طلاق اس نے اپنے اختیار اور شعور سے نہیں دی، بلکہ جنات کے اثر کی حالت میں اس کے منہ سے طلاق کے الفاظ نکلے۔
مذکورہ شخص کے گھر والے اور اس کی بیوی بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس پر جنات کے اثرات آتے تھے، اور جس وقت طلاق کے الفاظ اس کے منہ سے نکلے، اس وقت بھی اس پر جنات کے اثرات تھے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ شخص پر سحر یا جنات کا ایسا اثر تھا کہ طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس کے ہوش و حواس بالکل قائم نہیں تھے، عقل مغلوب تھی، اسے اپنے قول و فعل کا شعور نہیں تھا، اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ زبان سے کیا الفاظ کہہ رہا ہے اور ان الفاظ کا کیا نتیجہ ہوگا، اور حالت کے ختم ہونے کے بعد اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اس نے طلاق کے الفاظ کہے تھے، نیز اس کی یہ حالت لوگوں میں معروف ہے اور وہ اس بات پر قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہے کہ اسے طلاق دینے کا بالکل علم نہیں تھا اور نہ اس حوالے سے اسے کچھ یاد ہے، تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی اور نکاح بدستور قائم رہے گا۔
البتہ اگر سحر یا جنات کے اثر کے باوجود اس شخص کے ہوش و حواس برقرار ہوں، وہ اپنے معاملات کو سمجھ رہا ہو، اپنی بیوی کو پہچان رہا ہو اور طلاق کے الفاظ کے بارے میں اسے علم ہو، تو ایسی حالت میں اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ."
(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، 3/ 243، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"وسئل نظمًا فيمن طلق زوجته ثلاثًا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظمًا أيضًا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله ...
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لاتعتبر من الصبي العاقل."
(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، مطلب في طلاق المدهوش، 3/ 244، ط: سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، 1/ 353، ط: رشيدية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101961
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن