
میاں بیوی کے درمیان تین طلاقیں ہوگئی ہیں، زبانی بھی اور قانونی طور پر بھی۔ طلاق کے بعد اب دونوں دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ معاہدے کے تحت دو دن کے لیے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اور دوبارہ عدت پوری کرنے کے بعد آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا مذکورہ طریقے سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے؟
شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو پھر رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، عورت حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، اور عدت مکمل کرنے کے بعد کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔
البتہ اگر عورت عدت مکمل کرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور میاں بیوی میں ازدواجی تعلقات قائم ہوجائیں، اس کے بعد اگر طلاق ہوجائے یا دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے تو پھر عورت عدت گزار کر نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اور اپنی مرضی سے پہلے شوہر سے بھی نکاح کرسکتی ہے۔
لیکن اس مقصد کے لیے حیلہ کرنا اور طلاق دینے کے ارادے یا طلاق دینے کی شرط پر وقتی نکاح کرنا از روئے حدیث باعثِ لعنت ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں مانگے ہوئے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کا کسی دوسرے شخص سے پہلے ہی یہ معاہدہ کرنا کہ وہ صرف دو دن کے لیے نکاح کرے گا اور اس کے بعد طلاق دے دے گا، شرعاً مکروہِ تحریمی ہے، اور ایسا نکاح تحلیل کی شرط کی وجہ سے گناہ اور موجبِ لعنت ہے، لہٰذا اس شرط کے ساتھ نکاح کرنے سے اجتناب کیا جائے، تاہم اس کے باجود اگر مطلقہ عورت کسی شخص کے ساتھ طلاق کی شرط کے ساتھ نکاح کرلے اور اس کے بعد اس دوسرے شوہر کے ساتھ جسمانی تعلق بھی قائم ہوجائے، بعد ازاں طلاق وغیرہ کا معاملہ ہوجائے جیسا کہ ابتداء میں تفصیل لکھی گئی تو ایسی صورت میں بیوی اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔
حدیث مبارک میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال: لعن رسول الله صلی اللہ علیه وسلم المحل، والمحلل له."
(مسند احمد بن حنبل، من مسند ابی ھریرۃ رضی اللہ عنه، 14/ 42، ط : مؤسسة الرسالة)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
(سنن ابن ماجه، كتاب النكاح، حدیث: 1936)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن، 3 /187، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل)كتزوجتك على أن أحللك(وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال، خلافا لما زعمه البزازي...(أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي (قوله: أما إذا أضمر ذلك) محترز قوله بشرط التحليل (قوله: لا يكره) بل يحل له في قولهم جميعا قهستاني عن المضمرات (قوله: لقصد الإصلاح) أي إذا كان قصده ذلك لا مجرد قضاء الشهوة ونحوها.
وأورد السروجي أن الثابت عادة كالثابت نصًّا أي فيصير شرط التحليل كأنه منصوص عليه في العقد فيكره. و أجاب في الفتح بأنه لايلزم من قصد الزوج ذلك أن يكون معروفا بين الناس، و إنما ذلك فيمن نصب نفسه لذلك و صار مشتهرًا به اهـ تأمل."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، 3/ 414، 415، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101899
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن