بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ پر زکات اور اس کی وصولی کا حکم


سوال

بندہ ایک اسکول میں ماسٹر ہے اور ماہانہ اعتبار سے تنخواہ سے حکومت کٹوتی کرتی ہے، جس کو جی پی فنڈ کہا جاتا ہے، پھر پینشن کے وقت پور اکا پورا دیا جاتا ہے، تو شرعاً اس کا لینا کیسا ہے؟  اور لینے کی صورت میں زکات کا حکم کیا ہے؟ یہ بندہ کے اختیار میں نہیں ہوتا، سب حکومت کرتی ہے، پھر اضافہ بھی دیا جاتا ہے، تو کیا صرف اس اضافہ کا لینا جائز نہیں/ یا تمام کے تمام کا لینا جائز نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر حکومت سائل کی تنخواہ سے ماہانہ جی پی فنڈ کے نام پر جبری کٹوتی کرتی ہے اور سائل کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہے، بلکہ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی  کرلی جاتی ہے اور پھر ریٹائرمنٹ کے وقت یہ کٹوتی اضافہ کے ساتھ دی جاتی ہے، تو یہ سود نہیں ہے اور اس کا لینا شرعاً جائز ہے، اس لیے جبری کٹوتی شدہ رقم قبضہ سے پہلے سائل کی ملک نہیں ہے، کیوں کہ تنخواہ کا جو حصہ ملازم نے وصول نہیں کیا وہ اس کی ملک میں داخل نہیں ہوا، لہٰذا اس کٹوتی شدہ رقم پر اضافہ حکومت کی طرف سے ملازم کے لیے تبرع  و انعام ہے اور سائل کے لیے اس پر اضافہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے۔ نیز اس رقم پر زکوٰۃ کا حکم وصولی کے بعد ہوگا۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃمیں ہے:

"‌المتبرع ‌لا ‌يرجع ‌بما ‌تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ."

(كتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101897

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں