
میری اہلیہ 30 مئی 2026ءعین فجر کی اذان کے وقت دورانِ علاج ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔
ان کی طبیعت 2024ء میں خراب ہوئی، لیکن مرض کی تشخیص نہ ہو سکی۔ اپریل 2025ء میں ڈاکٹر کے معائنے اور رپورٹس کی روشنی میں معلوم ہوا کہ انہیں ایک موذی مرض لاحق ہے۔ تاہم الحمدللہ علاج شروع ہونے کے بعد بتدریج طبیعت میں افاقہ ہونا شروع ہوا، لیکن خوراک اور مرض کی نوعیت کو سنجیدگی سے نہ لیا جا سکا۔ اگست، ستمبر 2025ء سے جنوری 2026ء تک طبیعت میں جو ہشاش بشاشی نظر آئی، اسے مستقل طور پر برقرار نہ رکھا جا سکا۔
فروری، رمضان اور مارچ 2026ء، خصوصاً چاند رات کے موقع پر، طبیعت دوبارہ خراب ہونا شروع ہوئی۔ اس موقع پر بھی 2024ء کی طرح علاج میں کوتاہی رہی۔ اپریل 2026ء کے دوسرے ہفتے میں طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید گراوٹ کا شکار ہونا شروع ہوئی اور 14 اپریل 2026ء سے آخری سانس تک طبیعت بالکل سنبھل نہ سکی۔ آخری ہفتے میں نیم بے ہوشی کی کیفیت رہی۔ اس حالت میں فرض نمازوں کا اہتمام نہ ہو سکا، شاید ہی ایک آدھ مرتبہ نماز ادا کرنا ممکن ہوا ہو۔
اب میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی راہنمائی چاہتا ہوں:
1۔ تقریباً دو ہفتوں پر مشتمل اس نیم بے ہوشی کی کیفیت میں، جب کہ آخرکار ان کا سفرِ آخرت ہوا، اندرونی طور پر ان کی کیا کیفیت رہی ہوگی؟ آخری دن انہیں آکسیجن لگی ہوئی تھی اور پھر روح پرواز کر گئی۔ ان ایام میں غسل و پاکی کے معاملات، فرض نمازوں کے احکام، نیز زندگی میں جو فرض نمازیں اور فرض روزے رہ گئے ہوں، ان کی کوتاہی کا اب کس طرح ازالہ ممکن ہے؟
2۔ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ روح پرواز کرنے کے بعد غسل، نمازِ جنازہ اور تدفین تک مرحومہ کے ساتھ کیا معاملات یا کیفیت رہی ہوگی؟ تدفین کے بعد جب سب لوگ انہیں قبر میں چھوڑ کر واپس آگئے، تو فوراً بعد قبر میں مرحومہ کے ساتھ کیا معاملات پیش آتے ہیں؟
3۔ کیا مرحومہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون ان کی قبر پر روزانہ حاضری دینے آ رہا ہے؟ الحمدللہ، تدفین کے بعد سے اب تک میں روزانہ ان کی لحد پر حاضری دیتا ہوں اور دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ کیا بحیثیت شوہر میرا روزانہ قبر پر حاضری دینا خلافِ شریعت، بدعت یا شرک کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ نیز قبر پر حاضری اور فاتحہ خوانی کا اجر مرحومہ کو پہنچتا ہے یا نہیں؟
4۔ جب بھی میں قبر پر جاتا ہوں تو قبرستان میں موجود نیم کے درخت سے ایک ٹہنی توڑ کر ان کی قبر پر رکھ دیتا ہوں۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی ممانعت ہے؟ نیز قبرستان کے نیم کے درخت سے ٹہنی توڑنے کی صورت میں کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟
5۔ اگر کسی وجہ سے مرحومہ کی قبر پر حاضری میں کمی بیشی یا وقفہ ہو جائے تو کیا مرحومہ کو اس کا علم ہوگا کہ اب کوئی ان کی لحد پر نہیں آ رہا؟ اس صورت میں مرحومہ کو کیا محسوس ہوگا؟ کیا قبر پر حاضری میں کمی یا زیادہ وقفہ ہونے سے مرحومہ کو ملنے والے اجر پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ البتہ ان شاء اللہ، جب تک میں زندہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نمازوں کے بعد حسبِ موقع استغفار، دعائیں اور دیگر اعمالِ خیر جاری رکھنے کی کوشش کروں گا۔
6۔ عالمِ ارواح،عالمِ برزخ، پلِ صراط،میزان،حشر نشر کی کیا حقیقت ہے؟نیز قیامت کے دن ہر مرد اور عورت کے ساتھ کیا معاملات پیش آئیں گے؟ ذرا تفصیل سے بیان کریں ۔
7۔ روح کا کیا معاملہ ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
8.اگر میاں بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کے لیے اہلیہ مرحومہ کے گھر والوں کے ساتھ کس طرح رابطہ رکھنا شرعاً مناسب ہے؟ اگر مرحومہ کے بہن بھائی اپنی بھانجیوں کے کہنے پر مجھ سے قطع تعلق کرلیں، تو کیا اس صورت میں شریعت کی رو سے یہ کیسا عمل شمار ہوگا؟ نیز اگر میں صلہ رحمی کو ترجیح دوں اور میری طرف سے ایسا کوئی عمل نہ ہو جو قطع تعلقی کے زمرے میں آتا ہو، تو ایسی صورتِ حال میں مجھے شرعاً کیا کرنا ہوگا؟
مذکورہ تمام امور کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بالتفصیل شرعی رہنمائی فرمائیں۔
(1)صورت مسئولہ میں اگر آپ کی اہلیہ مرحومہ کی آخری دو ہفتوں میں نیم بیہوشی کی کیفیت ایسی ہو کہ وہ نماز کے بارے میں مطلع نہ ہو سکتی ہو ں اور کسی کے بتانے پر نمازوں کا انہیں علم نہ ہو سکتا ہو، اگر ایسی کیفیت تھی اور یہی کیفیت مسلسل دو ہفتے رہی ہے، تو اس صورت میں اس عرصہ کی نمازیں معاف ہیں، قضا یا فدیہ لازم نہیں ۔
البتہ اگر ان دنوں میں کچھ دن ایسے گزرے ہوں جن میں انہیں اتنا افاقہ ہوا ہو کہ وہ نماز کے بارے میں مطلع ہو کر کسی بھی طرح نماز ادا کرنے پر قادر تھیں ۔لیکن نماز ادا نہیں کی تو ان دنوں کی نمازوں کا حساب کر کے ان کا فدیہ ادا کر دیا جائے، نیز گزشتہ زندگی کی جو نمازیں اور روزے قضا ہو گئے ہوں ان کا بھی فدیہ ادا کر دیا جائے۔
فدیہ کی ادائیگی سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر مرحومہ نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو اور ترکہ میں مال بھی چھوڑا ہو، تو قرض کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی حصے سے ان کی وصیت کے مطابق فدیہ ادا کرنا ورثاء پر لازم ہوگا۔ اور اگر مرحومہ نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو تو ورثاء کے ذمے فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ ورثاء اپنی خوشی سے فدیہ ادا کریں تو یہ مرحومہ کے ساتھ نیکی ہوگی۔
ہر فرض نماز اور ہر فرض روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہے، یعنی گندم کے اعتبار سے پونے دو کلو گندم یا پونے دو کلو گندم کی موجودہ مارکیٹ قیمت۔ احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔ ایک دن کی پانچ فرض نمازوں کے ساتھ وتر ملا کر کل چھ نمازیں ہیں، لہٰذا ایک دن کی نمازوں کے چھ فدیے ہوں گے۔
اور فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے یعنی فدیہ اسی مسلمان فقیر کو دیا جائے جو سید یا ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو۔ لہٰذا مرحومہ کی باقی ماندہ نمازوں اور روزوں کا اندازہ کرکے ہر نماز اور ہر روزے کے بدلے پونے دو کلو گندم، اس کا آٹا یا اس کی موجودہ قیمت کسی مستحق مسلمان فقیر کو ادا کر دی جائے تو فدیہ ادا ہوجائے گا۔
موت کے وقت روح کا قبض ہونا اور عِلّیِّین و سِجّین
(2)موت کے وقت انسان کی روح قبض کی جاتی ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح کو عِلّیِّین کی طرف لے جایا جاتا ہے، جب کہ کافروں اور مشرکوں کی ارواح سِجّین میں پہنچائی جاتی ہیں۔ تاہم روح کے عِلّیِّین یا سِجّین میں ہونے کے باوجود، تدفین کے بعد روح کا اپنے جسم کے ساتھ ایک خاص قسم کا تعلق اور اتصال برقرار رہتا ہے۔
جب میت کو قبر میں دفن کردیا جاتا ہے اور دفنانے والے لوگ واپس جانے کے لیے وہاں سے چلتے ہیں، تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ میت ان لوگوں کے جوتوں کی آواز سنتی ہے۔ اس کے بعد منکر و نکیر فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو تدفین کے بعد قبر کے پاس ٹھہرنے کا حکم فرماتے اور میت کے لیے مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا کرنے کی تلقین فرماتے، کیوں کہ اس وقت اس سے سوال کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدفین کے فوراً بعد میت کے لیے دعا کرنا نہایت اہم اور مستحب عمل ہے۔
(3)قبر کی زیارت شرعاً جائز بلکہ آخرت کی یاد دہانی اور اہلِ قبور کے لیے دعا و استغفار کی غرض سے مستحب ہے۔ قبرستان میں حاضر ہوکر اہلِ قبور کو سلام کرنا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا مسنون ہے۔ مثلاً یہ دعا پڑھی جاسکتی ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ۔یا: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ، يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ۔
لہٰذا شوہر کا اپنی مرحومہ بیوی کی قبر پر روزانہ حاضر ہونا، سلام کرنا، فاتحہ پڑھنا اور دعائے مغفرت کرنا فی نفسہٖ خلافِ شریعت، بدعت یا شرک نہیں ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی غیر شرعی عقیدہ یا عمل شامل نہ ہو۔ بلکہ اگر مقصد آخرت کی یاد، مرحومہ کے لیے دعا، استغفار اور ایصالِ ثواب ہو تو یہ نیک اور باعثِ اجر عمل ہے۔ البتہ روزانہ قبر پر حاضری کو شرعاً لازم، واجب یا کوئی ضروری عمل سمجھنا درست نہیں؛ اگر کسی دن حاضری نہ ہو سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
اسی طرح اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک میت کے لیے دعا کرنا اور نیک اعمال کا ثواب اسے پہنچانا جائز ہے اور ایصالِ ثواب کا فائدہ میت کو پہنچتا ہے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت، صدقہ و خیرات، نوافل، حج، عمرہ اور دیگر نیک اعمال کا ثواب میت کو بخشا جاسکتا ہے۔ لہٰذا قبر پر سورۂ فاتحہ، تین قل، سورۂ یٰسن یا قرآنِ کریم کا کوئی بھی حصہ پڑھ کر اس کا ثواب مرحومہ کو بخشا جاسکتا ہے۔ ایصالِ ثواب کے لیے قبر پر جانا ضروری نہیں؛ قبر سے دور رہ کر بھی دعا اور ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے۔
شریعت نے ایصالِ ثواب کے لیے کوئی خاص دن، وقت یا مدت مقرر نہیں کی۔ اس لیے جب بھی اور جہاں بھی سہولت ہو، نفل عمل کرکے اس کا ثواب مرحومہ کو بخشا جاسکتا ہے۔ البتہ اپنی طرف سے کسی خاص دن، وقت یا مدت کو لازم قرار دے کر ایصالِ ثواب کا باقاعدہ اہتمام کرنا درست نہیں، اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
قبر پر ہری ٹہنی رکھنے کا حکم
(4) اگر آپ مرحومہ کی قبر پر حاضری کے وقت قبرستان میں موجود نیم کے درخت سے ایک ہری ٹہنی توڑ کر ان کی قبر پر رکھ دیتے ہیں، تو اس عمل کو معمول بنانا شرعاً درست نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے دو قبروں پر تر ٹہنیاں رکھنے کا واقعہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، لیکن محدثین و فقہائے کرام نے اس واقعے کو آپ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ کو بذریعۂ وحی ان دونوں قبروں کے عذاب میں مبتلا ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، اور یہ بھی معلوم تھا کہ ٹہنی کے تر رہنے تک عذاب میں تخفیف ہوگی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے بعد عام قبروں پر اس عمل کو معمول نہیں بنایا۔ لہٰذا عام مسلمانوں کے لیے قبروں پر ٹہنیاں یا پودے نہیں رکھنا چاہیے، اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(5)مردوں کی روحوں کو ان کے زندہ عزیز و اقارب کے بعض اعمال و احوال سے بھی آگاہی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر عزیز و اقارب نیک اعمال کریں تو اس سے مردے کی روح خوش ہوتی ہے، اور اگر وہ برے اعمال کریں تو مردے کی روح کو رنج پہنچتا ہے اور وہ افسردہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی مجبوری کی وجہ سے مرحومہ کی قبر پر حاضری میں چند دن یا اس سے زیادہ کا وقفہ ہوجائے تو اس بارے میں یہ قطعاً لازم نہیں کہ مرحومہ کو اس طرح کے وقفے سے کوئی تکلیف یا پریشانی لاحق ہوگی؛ بلکہ اس کی کیفیت کا قطعی تعین ہمارے لیے ممکن نہیں۔ البتہ یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے زندہ متعلقین کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قدرت کے مطابق آگاہ ہوسکتی ہیں۔
(6)عالمِ ارواح سے مراد وہ عالم ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ارواح کو پیدا فرمایا۔ قرآنِ کریم میں میثاقِ اَلَسْت کا ذکر موجود ہے:
«وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ شَهِدْنَآ»(الأعراف: 172)ترجمہ: ’’اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا، فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہ ہیں۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی ذریت سے ایک عہد لیا تھا، جسے میثاقِ اَلَسْت کہا جاتا ہے۔ البتہ عالمِ ارواح کی مکمل کیفیت، اس کا مقام، ارواح کی باہمی صورت اور وہاں کے تمام احوال ہماری عقل و حواس کے دائرے سے باہر ہیں؛ اس لیے جن تفصیلات کی قرآن و حدیث سے صریح دلیل نہ ہو، ان کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کوئی بات کہنا درست نہیں۔
عالمِ برزخ اور عالمِ قبر
انسان کے مرنے کے بعد اس کا تعلق اس ظاہری اور دنیوی عالم سے نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک دوسرے عالم میں منتقل ہوجاتا ہے جسے عالمِ برزخ اور عرفِ عام میں عالمِ قبر کہا جاتا ہے۔ اب جو کچھ اس پر گزرتا ہے وہ اسی برزخی عالم میں ہوتا ہے۔ دنیا میں انسان نے جیسی عملی زندگی گزاری ہوتی ہے، اس کے اعتبار سے عالمِ برزخ میں اس کے لیے راحت یا عذاب کا معاملہ پیش آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو اپنی حکمتِ بالغہ سے عام انسانوں کی نگاہوں سے مخفی رکھا ہے؛ اس لیے میت ہمارے سامنے ہونے کے باوجود اس پر عذاب یا راحت کا معاملہ ہمیں عموماً محسوس یا مشاہد نہیں ہوتا۔
ہمارے نہ دیکھنے یا محسوس نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مردے کو راحت یا تکلیف محسوس نہیں ہورہی۔ بلکہ برزخی زندگی ایک حقیقی زندگی ہے، البتہ اس کی کیفیت دنیاوی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ نیک شخص کے لیے برزخ راحت و نعمت کا مقام ہوگا، جبکہ بدکار کے لیے عذاب کا مقام ہوگا۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ قبر کا عذاب انسان اور جنات کے علاوہ تمام مخلوقات محسوس کرتی ہیں۔ چوں کہ انسان اور جنات مکلف ہیں، اس لیے ان سے اس معاملے کو مخفی رکھا گیا ہے، تاکہ ایمان بالغیب، آزمائش اور انسان کا اختیار باقی رہے اور وہ اپنے اختیار سے اچھی یا بری راہ اختیار کرکے اجر یا سزا کا مستحق بنے۔
پلِ صراط، تو آخرت میں صراط کا قائم ہونا اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک ثابت شدہ عقیدہ ہے۔ پلِ صراط ایک حقیقی پل ہوگا اور اہلِ ایمان اپنے ایمان و اعمال کے اعتبار سے اس سے گزریں گے۔ صحیح احادیث میں اس کے بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ پلِ صراط ’’بال سے زیادہ باریک، تلوار سے زیادہ تیز اور پانی سے زیادہ نرم‘‘ ہوگا، تو پہلے دو اوصاف کی اصل احادیث میں ملتی ہے، لیکن ’’پانی سے زیادہ نرم‘‘ ہونے کی بات صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
اسی طرح پلِ صراط کی مسافت کے بارے میں بعض روایات میں تین ہزار سال کا ذکر ملتا ہے، جبکہ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ’’تاریخ دمشق‘‘ میں حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ پلِ صراط کا سفر پندرہ ہزار سال کی راہ ہے: پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے، پانچ ہزار سال نیچے اترنے کے اور پانچ ہزار سال اس کی پشت پر چلنے کے۔ تاہم ان روایات صحیح مرفوع احادیث سے قطعی طور پر ثابت نہیں۔ لہٰذا پلِ صراط پر ایمان رکھنا ضروری ہے، البتہ اس کی مکمل کیفیت اور تفصیلات کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
حشر و نشر اور حساب و کتاب
قیامت کے دن حشر و نشر، حساب و کتاب اور میزانِ اعمال بھی ثابت شدہ عقائد میں سے ہیں۔ حشر سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو زندہ کرکے ایک مقام پر جمع فرمائیں گے، جبکہ نشر سے مراد مردوں کا قبروں سے زندہ ہوکر اٹھنا ہے۔ قیامت قائم ہونے کے بعد اولین و آخرین سب میدانِ حشر میں جمع ہوں گے اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انسان نے دنیا میں جو نیک یا بد اعمال کیے ہوں گے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں محفوظ ہوں گے اور قیامت کے دن انہی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
(7)روح کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روح کی حقیقت کے بارے میں جواب نہیں دیا، بلکہ وحیِ الٰہی کا انتظار فرمایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ کریم میں نازل فرمایا:
﴿وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ (الإسراء: 85)یعنی: اے نبی! یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
روح کے بارے میں حدیثِ نبوی ﷺ
چناں چہ صحیح بخاری سمیت حدیث کی دیگر کتب میں یہ روایت موجود ہے:
"عن عبد الله، قال: بينا أنا أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في خرب المدينة وهو يتوكأ على عسيب معه، فمر بنفر من اليهود فقال بعضهم لبعض: سلوه عن الروح، وقال بعضهم: لا تسألوه لا يجيء فيه بشيء تكرهونه، فقال بعضهم: لنسألنه، فقام رجل منهم، فقال: يا أبا القاسم! ما الروح؟ فسكت فقلت: إنه يوحى إليه، فقمت فلما انجلى عنه قال: ﴿وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾"۔
ترجمہ:حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گزرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو ،پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ سے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعود کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپ سے دور ہوئی، تو آپ نے فرمایا: (ترجمہ) اے نبی یہ لوگ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے پرودگار کے حکم سے (پیدا ہوئی) ہے اور اس کی اصل حقیقت تم نہیں جان سکتے؛ کیوں کہ تمہیں کم ہی علم دیا گیا ہے۔
روح کی حقیقت
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روح بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کا وجود اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے۔ روح کی مکمل حقیقت اور ماہیت کا ادراک انسان کے لیے آسان نہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾یعنی تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
بعد کے زمانے میں فلاسفہ، عقلاء اور سائنس دانوں نے اپنی علمی بساط کے مطابق روح کے بارے میں اظہارِ خیال کیا اور مسئلۂ روح پر مستقل کتابیں اور رسائل بھی لکھے گئے۔ اسی طرح مفسرین حضرات میں بھی دو جماعتیں ہیں: بعض مفسرین نے اس مسئلے میں تفصیل اور گہرائی میں جانے سے گریز کیا ہے اور اسی اجمال کو ترجیح دی ہے جو کلام اللہ میں بیان کیا گیا ہے۔ چناں چہ جمہور علماء نے﴿قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي﴾کے پیشِ نظر اس مسئلے میں سکوت اختیار کرنے کو ہی افضل اور بہتر قرار دیا ہے۔
مرحومہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ صلہ رحمی، حسنِ سلوک اور قطعِ تعلقی کا شرعی حکم
(8) اگر میاں بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو اور بیوی کا انتقال ہوجائے، تو شوہر کے لیے مرحومہ کے اہلِ خانہ، خصوصاً اس کے والدین، بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ حسبِ استطاعت حسنِ سلوک اور مناسب تعلق برقرار رکھنا شرعاً درست اور پسندیدہ ہے۔ صلہ رحمی کا مطلب رشتہ داروں کے ساتھ تعلق قائم رکھنا، حسنِ سلوک کرنا، ان کی خبرگیری و خیرخواہی کرنا، حسبِ استطاعت ان کی مدد کرنا اور ملاقات وغیرہ کے ذریعے تعلقات کو قائم رکھنا ہے۔ نسبی رشتہ داروں میں قریب و بعید سب داخل ہیں، البتہ جو رشتہ جتنا قریب ہو اس کا حق اسی قدر زیادہ ہے۔
لہٰذا مرحومہ کے انتقال کے بعد بھی ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور مناسب حد تک رابطہ باقی رکھنا باعثِ اجر ہے۔ تاہم اس سلسلے میں شرعی حدود اور پردے کے احکام کی مکمل رعایت ضروری ہے۔
اگر مرحومہ کے بہن بھائی اپنی بھانجیوں یا کسی دوسرے شخص کے کہنے پر شوہر سے بلا کسی شرعی وجہ کے تعلق ختم کردیں، سلام وکلام چھوڑ دیں اور رابطہ منقطع کردیں، تو محض کسی کے کہنے پر ایسا کرنا درست نہیں؛ کیونکہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے اور بلاشرعی عذر قطع تعلقی سے منع کیا گیا ہے۔ قطع رحمی سے مراد اہلِ قرابت کے حقوق ادا نہ کرنا، ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا اور تعلقات منقطع کرنا ہے، جس پر شریعت میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
البتہ اگر کسی رشتہ دار سے تعلق رکھنے میں دین یا دنیا کا معتبر نقصان ہو، یا کسی کے کھلے فسق و فجور سے باز رکھنے کے لیے شرعی مصلحت کے تحت وقتی طور پر تعلق محدود کیا جائے، تو اس کی الگ صورت ہے۔ محض ذاتی رنجش، کسی کی مخالفت یا دوسرے لوگوں کے کہنے کی وجہ سے قطع تعلق کرنا اس حکم میں داخل نہیں۔
اور اگر مرحومہ کے بہن بھائی آپ سے تعلق ختم کردیں، باوجود اس کے کہ آپ کی طرف سے کوئی ایسا عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے تعلق ختم کرنا شرعاً ضروری یا جائز ہو، تو آپ کو ان کے جواب میں قطع تعلق نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی طرف سے سلام، دعا، خیرخیریت دریافت کرنے، مناسب وقت پر رابطہ کرنے اور صلح و مفاہمت کی کوشش کا سلسلہ حتی المقدور جاری رکھنا چاہیے۔ حقیقی صلہ رحمی یہی ہے کہ آدمی دوسرے کے تعلق توڑنے کے باوجود اپنی طرف سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرے۔
اگر آپ نے اپنی طرف سے بار بار تعلق قائم کرنے، سلام وکلام اور مصالحت کی کوشش کی، لیکن وہ لوگ جواب دینے یا تعلق رکھنے پر آمادہ نہیں، تو جو چیز آپ کے اختیار سے باہر ہے اس کے آپ مکلف نہیں۔ ایسی صورت میں امید ہے کہ ان کے قطع تعلق کا گناہ آپ کے ذمہ نہیں ہوگا؛ البتہ آپ اپنی طرف سے قطع تعلق کو بڑھاوا دینے والی کوئی بات یا عمل نہ کریں، مثلاً یہ کہنا کہ اب ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں، سلام وکلام بالکل ختم کردینا وغیرہ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے شرعی طریقہ یہی ہے کہ مرحومہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنی طرف سے صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کو حتی المقدور قائم رکھیں، ان کے قطع تعلق کے جواب میں قطع تعلق نہ کریں، بلکہ سلام وکلام اور خیرخواہی کا دروازہ کھلا رکھیں۔ اگر وہ آپ کی کوششوں کے باوجود تعلق قائم نہ کریں تو آپ اپنی استطاعت کے مطابق صلہ رحمی کا حق ادا کرنے کی وجہ سے ان شاء اللہ بری الذمہ ہوں گے، اور ان کے اختیار سے باہر کے عمل کا آپ سے مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"و عن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال:"الماء" فحفر بئراً وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي."
(کتاب الزکاۃ،باب أفضل الصدقة، ج:1،ص:604،رقم،1938،ط: المكتب الاسلامي،بيروت)
ترجمہ:’’حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے لیے کیا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی، انہوں نے ایک کنواں کھدوایا، اور فرمایا کہ یہ سعد کی والدہ کے لیے ہے۔‘‘
صحیح مسلم میں ہے:
" عن أبي سعيد ...قيل: يا رسول الله! وما الجسر؟ قال "دحض مزلة. فيه خطاطيف وكلاليب وحسك. تكون بنجد فيها شويكة يقال لها السعدان. فيمر المؤمنون كطرف العين وكالبرق وكالريح وكالطير وكأجاود الخيل والركاب. فناج مسلم. ومخدوش مرسل. ومكدوس في نار جهنم. ... قال أبو سعيد: بلغني أن الجسر أدق من الشعرة وأحد من السيف."
( كتاب الإيمان، باب معرفة طريق الرؤية، ج:1،ص:167، رقم الحديث: 183،ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ : یا رسول اللہ! پل کیسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "ایک پھسلنے کا مقام ہو گا وہاں آنکڑے ہوں گے اور کانٹے جیسے نجد میں ایک کانٹا پایا جاتا ہے، جس کو سعدان کہتے ہیں یعنی (ٹیڑھے سر والا)، مؤمن اس پر سے گزریں گے بعض پلک جھپکنے کی سی تیز رفتاری میں، بعض بجلی کی طرح، بعض پرندے کی ماند، بعض تیز گھوڑوں کی طرح، بعض اونٹوں کی طرح اور بعض بالکل جہنم سے بچ کر پار ہو جائیں گے، اور بعض کچھ صدمہ اٹھائیں گے لیکن پار ہو جائیں گے اور بعض صدمہ اٹھا کر جہنم میں گر جائیں گے۔" ۔۔۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ: "پل، بال سے زیادہ باریک ہو گا اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا۔"
مصابیح السنّۃ میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلق الله الخلق، فلما فرغ منه قامت الرحم، فأخذت بحقوي الرحمان، فقال: مه؟ قالت: هذا مقام العائذ بک من القطیعة، قال: ألا ترضین أن أصل من وصلک، وأقطع من قطعک؟ قالت:بلیٰ یا رب! قال فذاک. متفق علیه.“
(كتاب الآداب،باب البر والصلة،ج:3،ص:350،رقم الحديث:3823،ط: دار المعرفة)
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی ان صورتوں کے ساتھ اپنے علم ازلی میں مقدر کردیا جن پر وہ پیدا ہوں گی، جب اس سے فارغ ہوا تو رحم یعنی رشتہ ناتا کھڑا ہوا، پروردگار نے فرمایا: کہہ کیا چاہتا ہے؟ رحم نے عرض کیا:یہ قطع رحمی کے خوف سے تیری پناہ کے طلب گار کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے (یعنی کہ میں تیرے رو برو کھڑا ہوں اور تیرے دامنِ عزت وعظمت کی طرف دستِ سوال دراز کیے ہوئے ہوں، تجھ سے اس امر کی پناہ چاہتاہوں کہ کوئی شخص مجھ کو کاٹ دے اور میرے دامن کو جوڑنے کے بجائے اس کو تار تار کردے)پروردگار نے فرمایا: کیا تو اس پر راضی نہیں ہے جو شخص (رشتہ داری اور عزیزوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعہ) تجھ کو قائم وبرقرار رکھے اور اس کو میں بھی اپنے احسان وانعام اور اجر وبخشش کے ذریعہ قائم وبرقرار رکھوں اور جو شخص رشتہ داری اور حقوق کی پامالی کے ذریعہ تجھ کو منقطع کردے، میں بھی (اپنے احسان وانعام) کا تعلق اس سے منقطع کرلوں؟ رحم نے عرض کیا کہ: پروردگار! بے شک میں اس پر راضی ہوں، پرووردگار نے فرمایا: اچھا تو وعدہ تیرے لیے ثابت وبرقرار ہے"۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة.
(قوله: وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها، وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام: «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه». وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد. مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت.
(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك، إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعاً؛ لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات: إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة؛ لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطاً؛ لاحتمال كون النص فيه معلولاً بالعجز، فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولاً تكون الفدية براً مبتدأً يصلح ماحياً للسيئات، فكان فيها شبهة، كما إذا لم يوص بفدية الصوم، فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى".
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2،ص:72،ط: سعيد)
احوال اہل القبور واحوال اہلہا الی النشور لابن رجب الحنبلی میں ہے:
"فهؤلاء السلف كلهم صرحوا بأن الروح تعاد إلى البدن عند السؤال وصرح بمثل ذلك طوائف من الفقهاء والمتكلمين من أصحابنا وغيرهم كالقاضي أبي يعلى وغيره."
(الباب الثامن في ماورد من سماع الموتى كلام الأحياء ...، ص: 83، ط: دار الغد الجديد)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عثمان رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال: استغفروا لأخيكم، ثم سلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل."
(كتاب الإيمان، باب اثبات عذاب القبر،ص:24،رقم الحديث:133،ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)
فتاوی شامی میں ہے:
ويستحب …… بعد دفنه للدعاء والقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه."
( كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2،ص:237،ط: سعيد)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"ظاہرتو یہی ہے کہ اس دنیاوی جسم میں روح لوٹائی جاتی ہے،چنانچہ روایات میں ہے کہ مردہ کودفن کرکے جب اس کے اصحاب لوٹتےہیں تووہ قرع نعال کو سنتاہے۔۔۔۔کبھی کبھی عبرت کےلیے بعض آدمیوں پربھی عذابِ قبرظاہرکردیاجاتاہے،ان سب آثارسے معلوم ہوتاہے کہ اسی جسم پر اسی (گڑھے)میں عموماًیہ عذاب ہوتاہے ،ثواب کے آثاربھی بعض قبورمیں دیکھے گئےہیں ،جس لوگوں کو قبر(گڑھے)میں دفن نہ کیاجائے ،مثلاًدرندہ کھالےتوان کامعاملہ دوسراہے۔۔۔ملخصاً"
(مایتعلق باحوال القبوروالأرواح،ج:21،ص:89/90/91،ط:ادارة الفاروق)
عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں ہے:
"وذكر عن ابن عمر: أن هذه العقبة جبل في جهنم، وعن الحسن وقتادة، هي عقبة في النار دون الجسر فاقتحموها بطاعة الله تعالى، وعن مجاهد والضحاك والكلبي، هي الصراط يضرب على جهنم كحد السيف مسيرة ثلاثة آلاف سنة سهلا وصعودا وهبوطا وأن بجنبيه كلاليب وخطأ طيف كشوك السعدان، وعن كعب: هي سبعون دركة في جهنم."
( كتاب تفسير القرآن، سورة لا أقسم، ج:19،ص:292، ط: دار الفكر )
فتح الباری میں ہے:
"وجاء عن الفضيل بن عياض قال بلغنا أن الصراط مسيرة خمسة عشر ألف سنة خمسة آلاف صعود وخمسة آلاف هبوط وخمسة آلاف مستوى أدق من الشعرة وأحد من السيف على متن جهنم لا يجوز عليه إلا ضامر مهزول من خشية الله أخرجه بن عساكر في ترجمته وهذا معضل لا يثبت وعن سعيد بن أبي هلال قال بلغنا أن الصراط أدق من الشعر على بعض الناس ولبعض الناس مثل الوادي الواسع أخرجه بن المبارك وبن أبي الدنيا وهو مرسل أو معضل."
(قوله باب الصراط جسر جهنم،ج:11، ص:454، ط:دار المعرفة)
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
’’أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس، وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء‘‘.
(كتاب الوضوء،باب ما جاء في غسل البول،ج:3،ص:121،ط: دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا بأس برش الماء عليه) حفظًا لترابه عن الاندراس.
(قوله: ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب؛ «لأنه صلى الله عليه وسلم فعله بقبر سعد»، كما رواه ابن ماجه، «وبقبر ولده إبراهيم»، كما رواه أبو داود في مراسيله، «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون»، كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته؛ لأنه يشبه التطيين، حلية".
(كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت،ج:2،ص:237،ط: سعيد)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال(317): مرنے والے کو مرنے کے بعد اپنے ماں باپ سے کوئی تعلق رہتا ہے؟
الجواب حامدومصلیاً: رہتا ہے، اس طرح کہ میت کو ان کے اعمال کی اطلاع دی جاتی ہے، اگر اچھے اعمال ہیں تو میت کی روح کو خوشی ہوتی ہے، اگر بُرے اعمال ہیں تو رنج ہوتا ہے، اور وہ رُوح ان کی اصلاح کی دعا کرتی ہے، اور یہ تعلق ماں باپ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جمیع اقربا اور متعارفین سے رہتا ہے۔"
(باب ما یتعلق باحوال القبور والارواح، ج: 1، صفحہ: 611 ،612، ط: مکتبہ الفاروق کراچی)
عقائد اسلام (تالیف مولانا ادریس کاندھلویؒ )میں ہے:
"عقیده هفتم: پل صراط حق ہے وہ ایک پل ہوگا جس کو دوزخ کی پشت پر قائم کریں گے جو بال سے زیادہ بار یک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا وزن اعمال کے بعد سب لوگوں کو اس پر سے گزرنے کا حکم ہوگا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا(۱) مومن اس پل سے عبور کر کے بہشت میں جائیں گے اور کافر پھسل پھسل کر دوزخ میں گریں گےتفصیل کے لئے اتحاف شرح احیاء العلوم صفحہ ۳۸ ۳۹ جلد ۲ دیکھئے ۔ علامہ زبیدی شرح احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ پل صراط کا بال سے زیادہ باریک ہونا اور تلوار سے زیادہ تیز ہونا صحیح مسلم میں ابو سعید خدری سے اور مسند احمد میں حضرت عائشہ سے مروی ہے اور علاوہ ازیں انس بن مالک اور عبد اللہ بن مسعود اور سلمان فارسی سے بھی منقول ہے اور معتزلہ پل صراط کے اور عامہ خلائق کے اس پر سے عبور و مرور کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی بار یک چیز پر چلنا اور اس پر سے گزرنا ناممکن ہے۔ اہل حق کہتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی قدرت کاملہ سے اپنے بندوں کو ایسی بار یک چیز پر سے گزارنے پر بھی قادر ہے وَ مَاذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِیز (۱) اور عالم آخرت کی تو ہر چیز عجیب و غریب ہے اور وہم و خیال سے بلند اور برتر ہے۔ عالم آخرت کی چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے جو خدا پرندوں کو ہوا میں چلانے اور اڑانے پر قادر ہے وہ ایک ایسے باریک پل پر چلانے پر بھی قادر ہے، پل صراط بہر حال ہو اسے زیادہ مستحکم ہے اور عقلاً اس پر سے گذرنا جائز اور ممکن ہے محال نہیں۔ لیکن یہ روایت اور یہ کیفیت جس میں پل صراط کا بال سے زیادہ باریک ہونا آیا ہے وہ روایت درجہ تواتر کو نہیں پہنچی لہذا پل صراط پر تو ایمان لانا ضروری ہے مگر اس کیفیت خاصہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ۔ دیکھو اتحاف شرح احیاء العلوم صفحہ ۲۲۰ جلد ۲ و مسامره شرح مسایرہ صفحہ ۲۸۴ اور شرح عقیدہ سفارینیہ صفحہ ۱۸۳ جلد ۲ ، اور اضاءةالدجنۃ في شرح عقائد اہل السنته صفحه ۱۲۴ و صفحه ۱۲۵ اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ صراط کا راستہ محسوس ہوگا اور لوگ اس کو بچشم سرور دیکھیں گے تمام انبیاء سابقین نے اور پھر آخر میں خاتم النبین محمد اللہ نے اس کی خبر دی ہے اور اس خبر کو ایسا صاف اور واضح اور صریح بیان کیا ہے جس میں کسی شک اور شبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں۔ لہذا امت پر فرض ہے کہ وہ پل صراط کو حقیقی اور حسی طور پر اس کو مانے اور اس کی تصدیق کرے کہ وہ حقیقۃ ایک راستہ ہے جس سے قیامت کے دن گذرنے کا حکم ہوگا۔ جو شخص جس درجہ دنیا میں صراط مستقیم یعنی راہ اسلام پر قائم رہا اسی درجہ وہ بآسانی پل صراط سے گزر سکے گا۔ اور بعض لوگ پل صراط کے بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہونے کو تسلیم نہیں کرتے اور ان احادیث کی کہ جن میں پل صراط کا بال سے زیادہ بار یک ہونا اور تلوار سے زیادہ تیز ہوتا آیا ہے یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس قسم کی احادیث سے مراد یہ ہے کہ پل صراط پر سے گزرنا اس قدر مشکل ہے جیسے کسی ایسی چیز سے گزرنا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو، مشکل ہے، اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ پل صراط عریض ( چوڑا) ہوگا اور اس میں دو راستے ہوں گے ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب اہل سعادت اور اصحاب یمین دائیں طرف سے گزریں گے اور اصحاب شمال بائیں جانب سے، بہر حال پل صراط حق ہے جس پر ہر مومن کو ایمان لانا ضروری ہے مگر پل صراط کی یہ بار یکی درجه تو اتر کو نہیں پہنچی اس لئے پل صراط کی اس خاص کیفیت اور اس خاص صفت پر ایمان لاناضروری نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔"
(حصہ دوم،ص:409، ط:ادارہ اسلامیات)
احکام اسلام عقل کی نظر میں ہے:
"حقیقت پل صراط آخرت : عالم آخرت میں ہر ایک سعید اور شقی کو متشکل کر کے دکھلایا جائے گا کہ وہ دنیا میں سلامتی کی راہوں میں چلایا اس نے ہلاکت اور جہنم کی راہیں اختیار کیں سو اس دن وہ سلامتی کی راہ جو کہ صراط مستقیم اور نہایت باریک راہ ہے اور جس سے تجاوز کرنا اور ادھر ادھر ہونا در حقیقت جہنم میں گرنا ہے تمثل کے طور پر نظر آئے گی اور جو لوگ دنیا میں صراط مستقیم پر چل نہیں سکتے وہ اس صراط پر بھی چل نہیں سکیں گے کیونکہ وہ صراط در حقیقت دنیا کی روحانی صراط کا ہی ایک نمونہ ہے اور جیسا کہ ابھی روحانی آنکھوں سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے صراط کے دائیں بائیں در حقیقت جہنم ہے اگر ہم صراط کو چھوڑ کر داہنے طرف ہوئے تب بھی جہنم میں گرے اور اگر بائیں طرف ہوئے تب بھی گرے اور اگر سیدھے صراط مستقیم پر چلے تب جہنم سے بچ گئے۔ یہی صورت جسمانی طور پر عالم آخرت میں ہمیں نظر آئے گی اور ہم آنکھوں سے دیکھیں گے کہ در حقیقت ایک پل صراط ہے جو پل کی شکل پر دوزخ پر بچھایا گیا ہے جس کے داہنے بائیں دوزخ ہے تب ہم مامور کئے جائیں گے کہ اس پر چلیں سو اگر ہم دنیا میں صراط پر چلتے رہے ہیں اور اپنے داہنے بائیں نہیں چلے تو ہم کو اس صراط سے کوئی خوف نہیں اور نہ جہنم کی بھاپ ہم تک پہنچے گی اور نہ کوئی فزع اور خوف ہمارے دل پر طاری ہو گا بلکہ نورا یمان کی قوت سے چمکتی ہوئی برق کی طرح ہم اس سے گزر جائیں گے۔ کیونکہ پہلے دنیا میں اس سے گزر چکے ہیں۔"
(حصہ سوم،ص؛266، ط:عمرفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101892
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن