بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الاول 1448ھ 10 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جادو کے زیرِ اثر کیے گئے ایجاب و قبول سے نکاح کا حکم


سوال

اگر کوئی لڑکی نکاح پر راضی نہ ہو اور اس پر جادو کر کے اس سے ایجاب و قبول کروالیا جائے تو ایسے نکاح کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

نکاح کے منعقد ہونے کے لیے فریقین کی جانب سے ایجاب و قبول ضروری ہے، اور ایجاب و قبول کے شرعا معتبر ہونے کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ عاقدین کا عاقل ہونا اور حوش و حواس میں ہونا بھی شرط ہے ۔ بالفاظِ دیگر نکاح کے انعقاد کے لیے عقل کا ہونا بھی شرط ہے، چناں چہ اسی لیے مجنون اور ناسمجھ نابالغ بچے کا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر جادو کے اثر سے لڑکی کی عقل ماؤف ہوگئی ہو اور جس کی وجہ سے وہ ایجاب و قبول کے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو اور اسے اپنے قول و فعل کا بالکل ادراک نہ ہو، تو اس حالت میں اس کی طرف سے کیا گیا ایجاب و قبول شرعاً معتبر نہیں ہوگا، اور اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔

البتہ محض جادو کا اثر ہونا نکاح کے عدمِ انعقاد کے لیے کافی نہیں، چناں چہ اگر جادو کے زیرِ اثر ہونے کے باوجود لڑکی کی عقل ماؤف نہ ہواور وہ مجلسِ نکاح میں ہونے والی گفتگو کو سمجھ رہی تھی، ایجاب و قبول کا مطلب جانتی تھی اور اپنے ارادے اور شعور کے ساتھ الفاظِ ایجاب و قبول ادا کیے، تو اس کا ایجاب و قبول معتبر ہوگا اور دیگر شرائطِ نکاح کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجائے گا۔

نوٹ: جادو کے ذریعے کسی سے نکاح کا ایجاب و قبول کروانا شرعا ناجائز ہے۔

فتاوى هنديه میں ہے:

"(وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل."

(كتاب النكاح، باب في تفسيره وشروطه، ج:1 ص:296-298، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں