بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف عورتوں کی گواہی سے طلاق کے ثابت ہونے کا حکم


سوال

دورانِ لڑائی میں نے اپنی اہلیہ کے سامنے صرف گنتی کے الفاظ کہے تھے: "یو، دوا، درے، یو، دوا، درے" (ایک، دو، تین، ایک، دو، تین)۔ تاہم موقع پر موجود گھر کی پانچ چھ خواتین کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نے ساتھ میں یہ جملہ بھی ادا کیا تھا: "تہ پہ مو طلوقہ ئے" (ترجمہ: "تم مجھ پر طلاق شدہ ہو")۔

مجھے اس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ میں نے طلاق کے یہ الفاظ ("تہ پہ مو طلوقہ ئے") ہرگز نہیں کہے، اور میری اہلیہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہیں اور یاد نہیں کہ میں نے یہ جملہ کہا ہے یا نہیں۔ اب صرف ان خواتین کی گواہی ہے کہ میں نے یہ الفاظ کہے ہیں۔

درج بالا صورتِ حال میں شرعی راہ نمائی فرمائیں کہ کیا ہماری طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو کتنی ہوئی ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل  (شوہر) کو سو فیصد یقین ہے کہ اس نے طلاق کے الفاظ "تہ پہ مو طلوقہ ئے" (تم مجھ پر طلاق شدہ ہو) نہیں کہے بلکہ صرف اور صرف  "یو، دوا، درے، یو، دوا، درے" (ایک، دو، تین، ایک، دو، تین)کہا ہے اور سائل کی اہلیہ بھی اس حوالے سے بے خبر اور شک میں ہے، جبکہ طلاق کے الفاظ سننے کا دعویٰ کرنے والی صرف چند خواتین ہیں اور موقع پر کوئی مرد گواہ موجود نہیں، اس لیے محض ان خواتین کی گواہی کی بنیاد پر طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ لہٰذا سائل کے یقین اور بیان کا اعتبار کیا جائے گا، اور شرعی و قانونی (قضاءً) اعتبار سے سائل کی اہلیہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، سائل کا نکاح بدستور برقرار ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما {فتذكر إحداهما الأخرى} [البقرة: 282] ولا تقبل شهادة أربع بلا رجل لئلا يكثر خروجهن."

(كتاب الشهادات، ج:5، ص: 464، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا، كما لو شك أطلق أم لا، ولو شك أطلق واحدةً أو أكثر بنى على الأقل."

(كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص: 283، ط: سعيد)

درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:

"(و) نصابها (لبقية الحدود والقود رجلان) لقوله تعالى {واستشهدوا شهيدين من رجالكم}، ولا تقبل فيها شهادة النساء لما فيها من شبهة البدلية (و) نصابها (للولادة واستهلال الصبي للصلاة عليه والبكارة وعيوب النساء في موضع لا يطلع عليه الرجال امرأة واحدة) لقوله - صلى الله عليه وآله وسلم - "شهادة النساء جائزة فيما لا يستطيع الرجال النظر إليه" والجمع المحلى باللام يراد به الجنس إذا لم يكن ثمة معهود إذ الكل ليس بمراد قطعا فيراد به الأقل لتيقنه (و) نصابها (لغيرها) من الحقوق سواء كان (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال الصبي للإرث رجلان أو رجل وامرأتان) لما روي أن عمر وعليا - رضي الله تعالى عنهما - أجازا شهادة النساء مع الرجال في النكاح والفرقة كما في الأموال وتوابعها."

(كتاب الشهادات، نصاب الشهادة، ج: 2، ص: 371، ط: دار إحياء الكتب العربية)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي."

(قاعدة: من شك هل فعل أم لا؟ص: 52،ط:العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں