بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل خرید کر قسطوں یا ادھار پر زائد قیمت میں فروخت کرنے کا شرعی حکم


سوال

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مجھ سے کسی خاص موبائل کا مطالبہ کرے اور کہے کہ مجھے فلاں موبائل چاہیے، آپ کتنے کا دیں گے؟ تو میں مارکیٹ سے اس موبائل کی نقد قیمت معلوم کرکے اسے بتاتا ہوں کہ مارکیٹ میں اس کی قیمت اتنی ہے، جب کہ میں آپ کو قسطوں یا ادھار پر اتنی قیمت میں دے سکتا ہوں۔ اگر وہ شخص اس قیمت پر خریدنے پر رضامند ہوجائے، تو میں اس کے بعد مارکیٹ سے وہ موبائل نقد خریدتا ہوں اور پھر اسے پہلے سے طے شدہ قیمت پر اس شخص کو قسطوں یا ادھار پر فروخت کردیتا ہوں۔ کیا شرعاً میرے لیے اس طریقے سے موبائل خرید کر قسطوں یا ادھار پر فروخت کرنا جائز ہے؟ اور کیا اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقہ درست ہے، بشرطیکہ ابتدا میں گاہک کے ساتھ جو قیمت طے ہوتی ہے وہ محض وعدۂ بیع ہو، اور اصل بیع (ایجاب و قبول) موبائل خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد کی جائے؛ کیوں کہ کسی چیز کو اپنی ملکیت اور قبضے میں آنے سے پہلے آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔

لہٰذا آپ گاہک کو نقد و ادھار دونوں قیمتیں بتا کر اس سے وعدہ لے لیں، پھر مارکیٹ سے وہ موبائل خرید کر اپنے قبضے میں لیں، اور اس کے بعد گاہک سے باقاعدہ بیع کا معاملہ کرکے اسے طے شدہ قیمت پر قسطوں یا ادھار پر فروخت کردیں۔

نیز نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت وصول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ عقد کے وقت یہ طے ہوجائے کہ معاملہ ادھار کا ہورہا ہے اور کسی ایک قیمت پر فریقین کا اتفاق ہوجائے، قسط کی رقم اور مدت متعین ہو، اور قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی قسم کا اضافہ یا جرمانہ وصول نہ کیا جائے۔

اسی طرح اگر گاہک ایڈوانس رقم دے اور آپ اسی سے مارکیٹ سے موبائل خریدیں تو بھی حرج نہیں، بشرطیکہ خریداری آپ اپنے لیے کریں، پھر قبضے کے بعد گاہک کو فروخت کریں۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إذا تبايعتهم العينة، و أخذتم أذناب البقر، و رضيتم بالزرع، و تركتم الجهاد، سلط الله عليكم الذلة، لاينزعه حتي ترجعوا إلی دينكم."

( كتاب البيوع،باب في النهي عن العينة،  ج :5 ص:332رقم الحديث:3462 ط: دار الرسالة)

رد المحتار میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهما وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال - عليه الصلاة والسلام - «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»."

( كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5 ص:273، ط:سعید)

تبیین الحقائق  شرح کنز الدقائق میں ہے:

"لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام"۔

(کتاب البیوع، باب التولیۃ، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4، ص:79، ط: المطبعة الكبرى)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يصبح البيع بتأجيل الثمن وتقسيطه ...... وكما أنه يجوز تأجيل الثمن وتقسيطه حين عقد البيع كذلك يجوز تأجيله وتقسيطه بعد العقد ويصبح الأجل لازما وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر مالا على أن يدفع الثمن معجلا ثم أجل البائع الثمن بعد البيع إلى أجل معلوم أصبح التأجيل لازما."

(الکتاب الاول البیوع، الفصل الثانی، المادۃ: 245، ج: 1، ص: 227، ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101878

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں