
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ" اگر تو گھر سے باہر نکلی تو میری طرف سے تین طلاق ہیں"،پھر بیوی اسی وقت برقعہ پہن کر گھر سے نکل گئی اور اپنے میکے چلی گئی تو کیا اس صورت میں مذکورہ شخص کی بیوی پر طلاقیں واقع ہوئیں ہیں یا نہیں؟
نیز مذکورہ شخص کی بیوی کا بیان ہے کہ" شوہر نے انگلیوں سے گن کر یہ الفاظ استعمال کیے تھے ایک طلاق،دو طلاق،تین طلاق اگر تو نے کمرے سے باہر قدم نکالا"،پھر اسی وقت اس (بیوی )نے برقعہ پہنا اور میکے چلی گئی۔
صورت مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے یہ الفاظ اپنی بیوی سے کہے: " اگر تو گھر سے باہر نکلی تو میری طرف سے تین طلاق ہیں"،پھر اسی وقت بیوی برقعہ پہن کر گھر سے نکل گئی اور اپنے میکے چلی گئی تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوچکی ہے،اب نہ رجوع کرنا جائز ہے اور نہ دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے۔
بیوی اپنی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(كتاب الطلاق ، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ، الفصل الثالث ، ج: 1، ص: 420، ط: رشيديه)
فتاوی شامی میں ہے:
"ومعنى كون إن للتراخي أنها تكون للتراخي وغيره عند عدم قرينة الفور، والمراد فعل الشرط الذي دخلت عليه، وما رتب عليه فإذا قال لها إن خرجت فكذا وخرجت فورا أو بعد يوم مثلا حنث إلا لقرينة الفور، فيتقيد به كما مر."
(كتاب الأيمان، باب اليمين في الدخول والخروج، ج: 3، ص: 763، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101763
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن