بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کو گھر سے باہر نکلنے پر معلق کرنے کے بعد بیوی کا گھر سے نکلنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ" اگر تو گھر سے باہر نکلی تو میری طرف سے تین طلاق ہیں"،پھر بیوی اسی وقت برقعہ پہن کر گھر سے نکل گئی اور اپنے میکے چلی گئی تو کیا اس صورت میں مذکورہ شخص کی بیوی پر طلاقیں واقع ہوئیں ہیں یا نہیں؟

نیز مذکورہ شخص کی بیوی کا بیان ہے کہ" شوہر نے انگلیوں سے گن کر یہ الفاظ استعمال کیے تھے ایک طلاق،دو طلاق،تین طلاق اگر تو نے کمرے سے باہر قدم نکالا"،پھر اسی وقت اس (بیوی )نے برقعہ پہنا اور میکے چلی گئی۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے یہ الفاظ اپنی بیوی سے کہے: " اگر تو گھر سے باہر نکلی تو میری طرف سے تین طلاق ہیں"،پھر  اسی وقت بیوی برقعہ پہن کر گھر سے نکل گئی اور اپنے میکے چلی گئی تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوچکی ہے،اب نہ رجوع کرنا جائز ہے اور نہ دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے۔

بیوی اپنی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(كتاب الطلاق ، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ، الفصل الثالث ، ج: 1، ص: 420، ط: رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"ومعنى كون إن للتراخي أنها تكون للتراخي وغيره عند عدم قرينة الفور، والمراد فعل الشرط الذي دخلت عليه، وما رتب عليه فإذا قال لها إن خرجت فكذا وخرجت فورا أو بعد يوم مثلا حنث إلا لقرينة الفور، فيتقيد به كما مر."

(كتاب الأيمان، باب اليمين في الدخول والخروج، ج: 3، ص: 763، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101763

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں