بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جسم کے متعدد زخموں کی صورت میں ارش(تاوان) اور علاج کے اخراجات کا حکم


سوال

عرض  یہ ہے کہ سائل  ایک حملہ میں زخمی ہوا۔ Final Medico-Legal Reportکے مطابق ،سر پر متعدد زخم ،دائیں کندھے پر چوٹ۔اگر چه  کھوپڑی (Skull)اور  کندھے(Shoulder) میں ہڈی کا ٹوٹنا(Fracture) نہیں پایا گیا، تاہم زخم موجود تھے۔بعض زخم شجاج خفیفہ قرار دیے گئے۔ایک زخم جا ئفہ دامیہ قرار دیا گیا۔

اب مندرجہ ذیل امور  کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے :

1. شجاج خفیفہ کا  شرعی حکم کیا ہے ؟

2 دامیہ کی موجودہ ارش یا حکومت العدل  کتنی ہے؟

3.کیا متعدد زخموں کی الگ الگ ضمان ہو گی ؟

4.اگر ہڈی نہ ٹوٹے لیکن شدید ضرب لگے تو اس کا حکم کیا ہو گا ؟

5. علاج اور ادویات کے اخراجات کا شرعی حکم کیا ہے ؟

6. اگر متعدد افراد نے مشتر کہ حملہ کیا ہو تو ذمہ داری کس طرح تقسیم ہو گی۔

جواب

واضح رہے کہ سر کے زخموں کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر کھال کٹ کر ہڈی ظاہر ہو جائے تو اس زخم کو موضِحہ کہا جاتا ہے، اور اس کے بدلے جانی پر دیت کا نصفِ عشر (بیسواں حصہ) لازم ہوتا ہے، جو 500 درہم ہے۔ البتہ اگر ہڈی ظاہر نہ ہو بلکہ زخم اس سے کم درجے کا ہو تو اس میں حکومتِ عدل واجب ہوتی ہے، یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ یہ زخم موضِحہ کے مقابلے میں کس قدر کم ہے، اسی نسبت سے نصفِ عشر کا حصہ لازم ہوگا۔ مثلاً اگر کھال ایک چوتھائی کٹی ہو تو 125 درہم، اور اگر ایک تہائی کٹی ہو تو تقریباً 166 درہم کے بقدر معاوضہ لازم ہوگا۔

1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شِجَاجِ خفیفہ کی صحیح مقدار معلوم نہیں کہ زخم کس قدر تھا۔ تاہم اگر کھال اتنی نہ کٹی ہو کہ ہڈی ظاہر ہو جائے، بلکہ اس سے کم ہو، تو مذکورہ اصول کے مطابق اس میں حکومتِ عدل لازم ہوگی، یعنی ماہرین کے اندازے کے مطابق جو معاوضہ مقرر ہو، وہ ادا کرنا ضروری ہوگا۔

2۔ دامیہ (وہ زخم جس سے خون نکلے مگر بہہ نہ جائے) میں بھی حکومتِ عدل لازم ہوتی ہے، یعنی ماہرین کے مقرر کردہ معاوضے کے مطابق ادائیگی ضروری ہوگی۔

3۔ شریعتِ مطہرہ میں ہر زخم کا ارش یا دیت الگ الگ مقرر کی گئی ہے، لہٰذا جب زخم متعدد ہوں گے تو ہر زخم کا حکم بھی الگ ہوگا، اور ہر ایک کا ارش یا دیت جداگانہ لازم ہوگی۔

4۔ اگر ہڈی نہ ٹوٹے، لیکن شدید ضرب لگنے کی وجہ سے چوٹ پہنچے، تو اس صورت میں جانی پر ارش یا دیت لازم نہیں ہوگی، البتہ علاج اور ضروری طبی اخراجات کی ادائیگی اس کے ذمے ہوگی۔

5۔ علاج اور ادویات کے اخراجات کا حکم یہ ہے کہ اگر مجنیٰ علیہ کو ارش یا حکومتِ عدل مل جائے تو پھر علاج اور ادویات کے لیے الگ سے کوئی رقم مستحق نہیں ہوگی۔ البتہ اگر  ارش یا حکومتِ عدل نہ ملا ہو تو جانی پر علاج اور ادویات کے اخراجات ادا کرنا لازم ہوگا۔

6۔جس طرح چند افراد مل کر ایک شخص کو قتل کر دیں تو سب سے قصاص لیا جاتا ہے، اسی طرح اگر متعدد افراد مل کر کسی شخص کو زخمی کر دیں تو اس صورت میں ذمہ داری اور  ارش ان سب پر برابر تقسیم ہوگی؛ کیونکہ ایسی حالت میں یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس جرم میں کس شخص کا کتنا حصہ ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"أما الأول فالأصل فيه أن ما لا قصاص فيه من الجنايات على ما دون النفس وليس له أرش مقدر ففيه الحكومة."

(کتاب الجنایات،فصل في الجنايات التي تجب فيها أرش غير مقدر،ج:7،ص:323،ط:دار الكتب العلمية )

فتاوی شامی میں ہے :

"(وفي الحارصة والدامعة والدامية والباضعة والمتلاحمة والسمحاق حكومة عدل) إذ ليس فيه أرش مقدر من جهة السمع، ولا يمكن إهدارها فوجب فيها حكومة عدل (وهي) أي حكومة العدل (أن ينظر كم مقدار هذه الشجة من الموضحة فيجب بقدر ذلك من نصف عشر الدية)

(قوله فيجب بقدر ذلك من نصف عشر الدية) أي الذي هو أرش الموضحة. بيانه: أن الشجة لو كانت باضعة مثلا فإنه ينظر كم مقدار الباضعة من الموضحة، فإن كان ثلث الموضحة وجب ثلث أرش الموضحة وإن كان ربع الموضحة يجب ربع أرش الموضحة عناية ."

( کتاب الدیات ،فصل في الشجاج ، ج : 6 ، ص : 681 ، ط : سعید )

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"شجه عشرين موضحة إن لم يتخلل البرء تجب دية كاملة في ثلاث سنين، وإن تخلل البرء يجب كمال الدية في سنة واحدة كذا في الكافي في باب المتفرقات."

(کتاب الجنایات،الباب الثامن في الديات،فصل في الشجاج،ج:6،ص:29،ط:دار الفكر بيروت )

وفیہ ایضاً:

والجراحات التي في غير الرأس والوجه ففيها حكومة إذا أوضحت العظم، أو كسرته إذا بقي لها أثر، وإن لم يبق للجراحة أثر فعند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - لا شيء عليه، وعند محمد رحمه الله يلزمه قيمة ما أنفق عليه إلى أن يبرأ كذا في محيط السرخسي.

(کتاب الجنایات ،الباب الثامن في الديات ،فصل فی الشجاج ،ج:6،ص،29،ط:دار الفكر بيروت )

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي جواهر الفتاوى: رجل جرح رجلا فعجز المجروح عن الكسب يجب على الجارح النفقة والمداواة.

(قوله فعجز المجروح عن الكسب) أي مدة الجرح.وانظر ما لو عجز عن الكسب أصلا. والظاهر أنه بعد الحكم بموجبه من الأرش أو حكومة العدل لا يجب شيء ط."

(کتاب الجنایات،فصل في الفعلين،ج:6،ص :562۔ط:سعید)

شرح مختصر الکرخی میں ہے: 

" قال: وإن جنى رجلان على رجلٍ جنايةً فيما دون النفس مما يجب على الواحد فيها القِصَاص لو كان انفرد بها، فلا قِصَاص عليهما، قطعا يده أو رجله، أو قلعا سنًّا، أو كائنًا ما كان من الجوارح التي يجب على الواحد فيها القِصَاص، فلا قِصَاص عليهما، وعليهما الأَرْش نصفان، وكذلك ما زاد على ذلك من العدد، فهو بمنزلة هذا لا قصاص عليهم،وعليهم الأَرْش على عددهم بالسواء."

(كتابُ الجناياتِ ،بَاب في الجوارحِ الناقصةِ،فَصْل: جناية رجلين على رجل فيما دون النفس ،ج: 6، ص: 634، ط:دار أسفار  الكويت)

فقط واللہ اعلم .


فتویٰ نمبر : 144802101725

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں