
سائل پر متعدد افراد نے حملہ کیا، جس کے نتیجہ میں اسے متعدد جسمانی چوٹیں آئیں۔
Final Medico-Legal Report کے مطابق:
(1) بائیں ہاتھ کی ایک انگلی کی ہڈی (Phalanx) میں Undisplaced Fracture ہے۔
(2) دائیں ٹانگ (Tibia) پر زخم ۔
(3)متعدد سر کے زخم۔
(4) بعض زخم شجاج خفیفہ قرار دیے گئے۔
(5) ایک زخم جائفہ ہاشمہ قرار دیا گیا۔
(6) دو زخم جائفہ دامیہ قرار دیے گئے۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دریافت کرنا مقصود ہے:
(1) فقہ حنفی میں انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کا حکم کیا ہے؟
(2) کیا اس پر ارش مقرر ہے؟
(3) ہاشمہ کی موجودہ مقدار کیا ہوگی؟
(4) دامیہ کا حکم کیا ہوگا؟
(5) اگر ایک ہی حملہ میں مختلف نوعیت کے زخم ہوں تو ہر زخم کا الگ حساب ہوگا یا مجموعی؟
(6) اگر بعد میں ہڈی صحیح جڑ جائے تو کیا ارش ساقط ہو جائے گی؟
(7) علاج اور آپریشن کے اخراجات کا شرعی حکم کیا ہے؟
(8) شریک حملہ آوروں کی ذمہ داری کس حد تک ہوگی؟
قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کے معتبر حوالوں سے جواب مرحمت فرمایا جائے۔
(1) صورت مسئولہ میں انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کا حکم یہ ہے کہ اس میں حکومت عدل (فدیہ یا جرمانہ) واجب ہو جاتی ہے، "اور حکومت عدل (فدیہ یا جرمانہ) سے مراد وہ خرچہ، طبیب کی فیس اور ادویات ہیں جو مجروح (یا مریض) کو صحت یاب ہونے تک درکار ہوتی ہیں۔
(2) ہڈی ٹوٹنے پر کوئی مقررہ بدلہ (ارش) لازم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجرم پر حکومت عدل (یعنی فدیہ یا جرمانہ) ہی لازم ہوتا ہے۔
(3) "اور ہاشمہ (ایسی چوٹ جس سے ہڈی ٹوٹ جائے) میں دیت کا دسواں حصہ (لازم) ہوتا ہے، اور دیت کا دسواں حصہ اگر دراہم کی شکل میں ہو تو 10000 ہزار دراہم میں سے 100 دراہم لازم ہونگے، اور اگر اونٹ ہو تو 10 اونٹ، اور اگر دینار سونے کی شکل میں ہو تو 10 دینار ادا کرنا لازم ہونگے ۔
(4) دامیہ میں بھی حکومت عدل (فدیہ یا جرمانہ) لازم ہو جاتا ہے۔
(5) اگر ایک ہی حملہ میں ایک عضو پر متعدد زخم ہوں تو سب میں تداخل ہو گا یعنی مجموعی حساب لگایا جائے گا الگ الگ حساب نہیں ہوگا، البتہ اگر مختلف اعضاء پر مختلف قسم کے زخم ہوں تو ہر زخم کا الگ الگ حساب کیا جائے گا۔
(6) اگر ہڈی صحیح جڑ جائے کوئی نشان اور اثر باقی نہ رہے، تو اس پر کوئی ضمان نہیں ہوگا اور اگر کوئی نشان، ورم یا تکلیف باقی رہے تو اسی حساب سے ضمان آئے گا۔
(7) مجنی علیہ نے اگر زخم پر دیت یا حکومت عدل وصول کیا ہو، تو جانی پر علاج اور آپریشن کے اخراجات لازم نہیں ہیں، اور اگر مجنی علیہ نے زخم پر دیت یا حکومت عدل وصول نہ کیا ہو تو جانی پر علاج اور آپریشن کے اخراجات لازم ہیں۔
(8) جس طرح متعدد افراد کسی شخص کو قتل کرتے ہیں تو سب پر قصاص آئے گا، اسی طرح اگر متعدد افراد کسی شخص پر حملہ کرے اور اس کو زخمی کرے تو ان سب پر برابر کے حساب سے ضمان آئے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"أما الأول فالأصل فيه أن ما لا قصاص فيه من الجنايات على ما دون النفس وليس له أرش مقدر ففيه الحكومة؛ لأن الأصل في الجناية الواردة على محل معصوم اعتبارها بإيجاب الجابر أو الزاجر ما أمكن إذا عرف هذا فنقول: في كسر العظام كلها حكومة عدل إلا السن خاصة لأن استيفاء القصاص بصفة المماثلة فيما سوى السن متعذر، ولم يرد الشرع فيه بأرش مقدر فتجب الحكومة، وأمكن استيفاء المثل في السن، والشرع ورد فيها بأرش مقدر أيضا فلم تجب فيها الحكومة."
(كتاب الجنايات ،فصل في الجنايات التي تجب فيها أرش غير مقدر،ج: 7،ص: 323، ط: سعيد )
وفیہ ایضا:
"ولا قصاص في عظم إلا في السن لأنه لا يعلم موضعه، ولا يؤمن فيه عن التعدي أيضا."
(كتاب الجنايات ،فصل في أحكام كل نوع من أنواع الجناية فيما دون النفس ،ج:7، ص: 308، ط: سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"وفي الموضحة إن كانت خطأ نصف عشر الدية، وفي الهاشمة عشر الدية، وفي المنقلة عشر الدية ونصف عشر الدية، وفي الآمة ثلث الدية، وفي الجائفة ثلث الدية، فإن نفذت فهما جائفتان ففيهما ثلث الدية كذا في الهداية وفي هذا كله إذا برأ، ولم يبق لها أثر لا يجب شيء إلا عند محمد - رحمه الله تعالى - فإنه قال: يجب مقدار ما أنفق إلى أن يبرأ هكذا ذكر شيخ الإسلام كذا في الذخيرة."
(كتاب الجنايات ،الباب الثامن في الديات ،فصل في الشجاج ،ج:6، ص: 29، ط:رشيديه )
الخراج لابی یوسف میں ہے:
"ما يجب في الجراح والأطراف وأجزاء الإنسان الأخرى:قال أبو يوسف: وفي الدامية من الشجاع وهي التي تدمى حكومة عدل."
(فصل في الدعارة والتلصص والجنايات وما يجب فيه من الحدود،ص:170، ط:المكتبة الأزهرية للتراث)
تبیین الحقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (شج رجلا موضحة فذهب عقله أو شعر رأسه دخل أرش الموضحة في الدية)؛ لأن فوات العقل يبطل منفعة جميع الأعضاء إذ لا ينتفع بها بدونه فصار بالنسبة إلى سائر الأعضاء كالنفس فيدخل أرشها كما في النفس وأرش الموضحة يجب بفوات جزء من الشعر حتى لو نبت يسقط وتجب الدية بفوات كل الشعر، وقد تعلقا بسبب واحد وهو فوات الشعر فيدخل الجزء في الجملة فصار كما إذا قطع أصبع رجل فشلت يده كلها فحاصله أن الجناية متى وقعت على عضو واحد فأتلفت شيئين وأرش أحدهما أكثر دخل الأقل فيه ولا فرق في هذا بين أن تكون الجناية عمدا أو خطأ وإن وقعت على عضوين لا يدخل ويجب لكل واحد منهما أرشه سواء كان عمدا أو خطأ عند أبي حنيفة رحمه الله لسقوط القصاص به عنده."
(كتاب الديات ،فصل في الشجاج ،ج:6 ،ص:135، ط:المطبعة الكبرى الأميرية بولاق القاهرة)
تکملہ فتح القدیر میں ہے :
"العقل في مسألة الشجة أيضا عضوا مغايرا لمحل الشجة حتى تكون هذه المسألة أيضا بذلك الاعتبار من قبيل ما وقعت الجناية على عضوين فلا يدخل الأرش في الدية كما في السمع والبصر."
(كتاب الجنايات ،باب في اعتبار حالة القتل ،ج:10، ص: 293، ط:دار الفكر بيروت)
الدرالمختار فی شرح تنویر الابصار میں ہے:
"(وإن ذهب سمعه أو بصره أو نطقه لا) تدخل لانه كأعضاء مختلفة، بخلاف العقل لعود نفعه للكل (ولا قود إن ذهبت عيناه، بل الدية فيهما)."
(كتاب الديات ،ص:713،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
البحر الرائق میں ہے :
"وذكر أبو سليمان عن محمد في كتاب الخراج قال أبو حنيفة: ما انكسر من إنسان يدا أو رجلا أو غير ذلك وبرئ وعاد كهيئته فليس فيه عقل، وإن كان فيه نقص بأن برئ العظم وبقي فيه ورم ففيه من عقله بحساب ما نقص، وكذلك في الجراحة الجسد إذا برئ وعاد كهيئته، فليس فيه شيء، ولو كان في شيء من ذلك شلل ففيه حكومة عدل إلا الجائفة، فإن فيها ثلث دية النفس."
(كتاب الجنايات ،باب القصاص فيما دون النفس ،ج:8، ص: 350، ط:دار الكتاب الإسلامي)
العقود الدریہ فی تنقیح فتاویٰ الحامدیہ میں ہے :
"(سئل) فيما إذا جرح زيد عمرا ببندقة عمدا في فخذه جرحا لا تمكن فيه المماثلة وصار صاحب فراش فما يلزم زيدا بعد برئه؟
(الجواب) : يلزمه حكومة عدل كما في الملتقى وغيره وهي هنا أن يقوم عبدا بلا هذا الأثر ثم معه فقدر التفاوت بين القيمتين من الدية وفي الجوهرة وقيل تفسير الحكومة هو ما يحتاج إليه من النفقة وأجرة الطبيب والأدوية إلى أن يبرأ والله أعلم."
(كتاب الجنايات،ج:2، ص: 254، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"والجراحات التي في غير الرأس والوجه ففيها حكومة إذا أوضحت العظم، أو كسرته إذا بقي لها أثر، وإن لم يبق للجراحة أثر فعند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - لا شيء عليه، وعند محمد رحمه الله يلزمه قيمة ما أنفق عليه إلى أن يبرأ كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الجنایات ،الباب الثامن في الديات ،فصل فی الشجاج ،ج:6،ص،29،ط:دار الفكر بيروت )
شرح مختصر الکرخی میں ہے:
" قال: وإن جنى رجلان على رجلٍ جنايةً فيما دون النفس مما يجب على الواحد فيها القِصَاص لو كان انفرد بها، فلا قِصَاص عليهما، قطعا يده أو رجله، أو قلعا سنًّا، أو كائنًا ما كان من الجوارح التي يجب على الواحد فيها القِصَاص، فلا قِصَاص عليهما، وعليهما الأَرْش نصفان، وكذلك ما زاد على ذلك من العدد، فهو بمنزلة هذا لا قصاص عليهم، وعليهم الأَرْش على عددهم بالسواء."
(كتابُ الجناياتِ ،بَاب في الجوارحِ الناقصةِ،فَصْل: جناية رجلين على رجل فيما دون النفس ،ج: 6، ص: 634، ط:دار أسفار الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101724
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن