
سائل پرمتعدد افراد نے حملہ کیا ، جس کے نتیجہ میں اسے متعدد شدید جسمانی چوٹیں آئیں۔
طبی معائنہ ، ریڈیالوجیکل رپورٹس اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی کی Report Finl Midico Legal کے مطابق درج ذیل زخم ثابت ہوئے:
سر پر شدید چوٹ، Acute Eztradural Hematoma(EDH) (دماغ میں خون جمع ہونا)تشخیص ہوئی۔
Neurosurgery وارڈ میں داخلہ ہوا، دماغی خون کے باعث علاج کرایا گیا، متعلقہ MLO میں بعض زخم شجاج خفیفہ قرار دیے گئے۔ ایک زخم جائفہ ہاشمہ زمرے میں درج کیا گیا ۔
اب سوال یہ ہے اگر یہ تمام حقائق شرعا ثابت ہوجائیں تو ، فقہ حنفی کے مطابق ان زخموں کا شرعی حکم کیاہے؟
1)شجاج خفیفہ کی موجودہ مالیت حیثیت کیا ہے؟
2) ہاشمہ کی موجودہ دیت یا ارش کتنی ہے؟
3)دماغ میں خون جمع ہونے کا شرعی اعتبار کیا ہوگا؟
4)اگر علاج کے بعد جان بچ گئی لیکن شدید تکلیف اور طویل علاج برداشت کرنا پڑا تو کیا اس پر الگ ضمان ہوگا؟
5)علاج کے اخراجات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر متعدد افراد حملہ آور ہوں تو ذمہ داری کس پر ہوگی؟
1،2،3) واضح رہے کہ نفس کے قتل کے علاوہ دیگر جنایات میں قصاص جاری نہیں ہوتا، کیونکہ نفس سے کم میں برابری ممکن نہیں، اس لیے ان جنایات میں قصاص کے بجائے دیت واجب ہوتی ہے۔ نیز جس زخم کے بارے میں شریعت نے کوئی متعین دیت مقرر نہ کی ہو، اس میں حکومت عدل واجب ہوتی ہے، یعنی حاکم وقت حالات کے مطابق جتنی مناسب سمجھے اتنی مالی تلافی مقرر کرسکتا ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سر کے زخم ہاشمہ، یعنی ایسا زخم جس میں سر کی ہڈی ٹوٹ جائے، کی صورت میں شریعت نے دیت کا دسواں حصہ مقرر کیا ہے۔
4) اسی طرح علاج معالجے کے اخراجات اور اس سلسلے میں جتنے اخراجات آئیں گے، وہ بھی حملہ آور پر لازم ہوں گے۔
5) اسی طرح اگر متعدد افراد مل کر حملہ کریں تو جس طرح قتل کی صورت میں تمام قاتل قصاص میں برابر شریک ہوتے ہیں، اسی طرح اس صورت میں بھی تمام حملہ آور دیت میں برابر شریک ہوں گے؛ کیونکہ یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ کس حملہ آور کی ضرب سے کتنا نقصان ہوا ہے، اس لیے سب کو برابر ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"أما الأول فالأصل فيه أن ما لا قصاص فيه من الجنايات على ما دون النفس وليس له أرش مقدر ففيه الحكومة؛ لأن الأصل في الجناية الواردة على محل معصوم اعتبارها بإيجاب الجابر أو الزاجر ما أمكن إذا عرف هذا فنقول: في كسر العظام كلها حكومة عدل إلا السن خاصة لأن استيفاء القصاص بصفة المماثلة فيما سوى السن متعذر، ولم يرد الشرع فيه بأرش مقدر فتجب الحكومة، وأمكن استيفاء المثل في السن، والشرع ورد فيها بأرش مقدر أيضا فلم تجب فيها الحكومة."
(كتاب الجنايات ،فصل في الجنايات التي تجب فيها أرش غير مقدر،ج: 7،ص: 323، ط: سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"وفي الموضحة إن كانت خطأ نصف عشر الدية، وفي الهاشمة عشر الدية ۔۔۔ وفي هذا كله إذا برأ، ولم يبق لها أثر لا يجب شيء إلا عند محمد - رحمه الله تعالى - فإنه قال:يجب مقدار ما أنفق إلى أن يبرأ هكذا ذكر شيخ الإسلام كذا في الذخيرة."
(كتاب الجنايات ،الباب الثامن في الديات ،فصل في الشجاج ،ج:6، ص: 29، ط:رشيديه)
وفیه أیضا :
"والجراحات التي في غير الرأس والوجه ففيها حكومة إذا أوضحت العظم، أو كسرته إذا بقي لها أثر، وإن لم يبق للجراحة أثر فعند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - لا شيء عليه،وعند محمد رحمه الله يلزمه قيمة ما أنفق عليه إلى أن يبرأ كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الجنایات ،الباب الثامن في الديات ،فصل فی الشجاج ،ج:6،ص،29،ط:دار الفكر بيروت)
شرح مختصر الکرخی میں ہے:
" قال: وإن جنى رجلان على رجلٍ جنايةً فيما دون النفس مما يجب على الواحد فيها القصاص لو كان انفرد بها، فلا قِصَاص عليهما، قطعا يده أو رجله، أو قلعا سنا، أو كائنا ما كان من الجوارح التي يجب على الواحد فيها القصاص، فلا قِصَاص عليهما، وعليهما الأَرْش نصفان، وكذلك ما زاد على ذلك من العدد، فهو بمنزلة هذا لا قصاص عليهم، وعليهم الأَرْش على عددهم بالسواء."
(كتاب الجنايات ،باب في الجوارح الناقصة،فَصْل: جناية رجلين على رجل فيما دون النفس ،ج: 6، ص: 634، ط:دار أسفار الكويت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قتل واحد جماعة فحضر أولياء المقتولين قتل بجماعتهم، ولا شيء لهم غيرذلك."
([كتاب الجنايات، الباب الثاني فيمن يقتل قصاصا ومن لا يقتل، ج: 6، ص: 4، ط: دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101723
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن