بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الاول 1448ھ 09 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آنکھ کے قصاص اوردیت سے متعلق احکام


سوال

سائل اورا س کے تین بھائیوں پرمتعددافرادنےحملہ کیا،جس کے نتیجے میں سائل کومتعددجسمانی چوٹیں آئیں۔اس واقعہ کے متعلق فوجداری مقدمہ بھی زیرسماعت ہے،تاہم اس استفتاء کامقصد عدالتی کاروائی یافوجداری ذمہ داری دریافت کرنانہیں،بلکہ صرف شرعی حکم دیت وارش معلوم کرناہے۔

اس واقعہ کے بعدسائل کاعلاج مختلف اسپتالوں میں ہوتارہا،بعدازاں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹرکراچی سے جاری کردہ

Final Medico-Legal Reportمیں درج ذیل طبی حقائق بیان کیے گئےہیں:

1-بائیں آنکھ(Left Eye) پرشدیدضرب لگی۔

2-Left Orbital Bone(بائیں آنکھ کے گردموجودہڈی)میں Comminuted Fracture(شدیدفریکچر)تشخیص ہوا۔

3-بائیں آنکھ کے اندر Vitreous Hemorrhage(شدیداندرونی خون بہنا)پایاگیا۔

(جب کسی وجہ سے آنکھ کےاندرخون کی باریک نالیاں پھٹ جائیں اورخون اس شفاف جیلی میں پھیل جائے،تواسےکہتے ہیں۔خون روشنی کے راستے میں آجاتاہے،جس سے نظردھندلی یابہت کم ہوسکتی ہے۔)

4-Total Retinal Detachment(ریٹیناکامکمل اپنی جگہ سے الگ ہوجانا)تشخیص ہوا۔

5-علاج کے دورانVitreo-Retinal Surgeryبھی کی گئی۔

6-طویل علالت اورآپریشن کے باوجود Final Medico-Legal Report میں واضح طورپردرج کیاگیا:

"Parient has no vision in left eye"یعنی بائیں آنکھ میں بالکل بینائی باقی نہیں رہی۔سائل کواس آنکھ سے دیکھنے کی صلاحیت مکمل طورپرختم ہوچکی ہے۔

مندرجہ بالاحقائق کی روشنی میں درج ذیل امورمیں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

1-اگرکسی شخص کے حملہ اورضرب کی وجہ سےایک آنکھ کی بینائی مکمل طورپرہمیشہ کے لیےختم ہوجائے،جب کہ آنکھ اپنی جگہ موجودہو،لیکن دیکھنےکی صلاحیت بالکل باقی نہ رہے،توفقہ حنفی کے مطابق اس کاشرعی حکم کیاہے؟

2-کیافقہ حنفی میں آنکھ کاضائع ہونااورآنکھ کامکمل ختم ہوجانادونوں کاحکم ایک ہے،یاان میں کوئی فرق ہے؟

3-اگرحملہ کے نتیجہ میں :

  •  Orbital Bone Fracture(آنکھ کی بیرونی ہڈی کاٹوٹ جانا)
  •  Vitreous Hemorrhage(شدیداندرونی خون بہنا)
  • Total Retinal Detachment(آنکھ کے پردہ کامکمل اپنی جگہ سے الگ ہوجانا)

بھی ثابت ہوں توکیاان زخموں کی مستقل ارش یابینائی ختم ہونے کے حکم میں سب داخل شمارہوں گے؟

4-اگرعدالت یادیگرشرعی ذرائع سے یہ ثابت ہوجائےکہ مذکورہ تمام نقصانات حملہ آوروں کی ضربات ہی کے نتیجہ میں ہوئے ہیں توشرعاََان پرکیامالی ذمہ داری عائدہوگی؟

5-اگرمتاثرہ شخص مستقل طورپرایک آنکھ سے محروم ہوجائےاوراس کے علاج پربھی بہت زیادہ اخراجات آئے ہوں،توکیاشرعاََعلاج کے اخراجات الگ قابل مطالبہ ہیں یادیت وارش ہی واجب ہوگی؟

6-اگرعدالت میں فوجداری مقدمہ بھی جاری ہوتوکیاشرعی دیت وارش کاحق برقراررہتاہےیاعدالتی سزاکے ساتھ اس میں کوئی فرق آجاتاہے؟

جواب

1-اگرکسی شخص کے حملہ اورضرب کی وجہ سےمضروب کی ایک آنکھ کی صرف بینائی مکمل طورپرہمیشہ ہمیشہ کے لیےختم ہوجائے،لیکن آنکھ اپنی جگہ صحیح سلامت ہو،توفقہ حنفی کے مطابق اس صورت میں حملہ آورسے قصاص لیاجائےگا۔

2-فقہ حنفی میں آنکھ کےضائع ہونے(پھوڑنے)یاآنکھ کےمکمل ختم ہوجانےدونوں کاحکم یکساں  ہے،دونوں صور توں میں نصف دیت لازم ہوگی،البتہ آنکھ کے کسی حصہ کونقصان پہنچے بغیرصرف اس کی بینائی چلی گئی ہوتوپھرقصاص لیاجائےگا۔

3-4-اگرحملہ کے نتیجہ میں : Orbital Bone Fracture(آنکھ کی بیرونی ہڈی کاٹوٹ جانا) Vitreous Hemorrhage(شدیداندرونی خون بہنا)Total Retinal Detachment(آنکھ کے پردہ کامکمل اپنی جگہ سے الگ ہوجانا)بھی پایا گیا  ،اورعدالت یادیگرشرعی ذرائع سے یہ ثابت ہوجائےکہ مذکورہ تمام نقصانات حملہ آوروں کی ضربات ہی کے نتیجہ میں ہوئے ہیں ،توشرعاََان حملہ آوروں پرمستقل ارش یامالی ذمہ داری  عائدنہیں ہوگی، بلکہ   انہیں  آنکھ کی بینائی ختم ہونےمیں ہی شمارکیاجائےگا ،اورآنکھ کی بینائی ختم ہونے کے ساتھ آنکھ کے صحیح سلامت نہ ہونےکی جوسزا تجویزقرارپائےگی،وہی لازم ہوگی۔

5-اگرمتاثرہ شخص مستقل طورپرصرف ایک آنکھ کی بینائی سے  محروم ہوجائےیاپھرآنکھ اوربینائی دونوں  سے  محروم ہوجائے،اوراس کے علاج پربھی بہت زیادہ اخراجات آئے ہوں،توچوں کہ دونوں صورتوں میں شرعی سزا(قصاص یادیت )لازم ہوجاتی ہے،اس لیے   علاج کے اخراجات الگ سے قابل مطالبہ نہیں ہوں گے۔

6-اگرعدالت میں فوجداری مقدمہ بھی جاری ہوتوشرعی دیت وارش کاحق برقراررہتاہے،عدالتی سزاسے  اس میں کوئی فرق نہیں  آتا،تاہم شرعی دیت وارش نافذکرنے کی ذمہ داری بھی حکومت کی ہے،مضروب کے ورثاء اپنے طورپر دیت یاارش نافذنہیں کرسکتے۔

واضح رہےکہ ایک مکمل دیت کی مقدار 30.618 تیس کلو اور چھ سو اٹھارہ گرام چاندی یا اس کے برابر کی قیمت ہے، ایک آنکھ ضائع ہونے کی صورت میں اس کا نصف یعنی 15.309(پندرہ کلو تین سو نو گرام)  چاندی دیت میں دینا  عاقلہ پرلازم ہو گا۔

عاقلہ سے مراد وہ برادری، جماعت، تنظیم یا کمیونٹی ہے جس کے ساتھ اس کا تناصر (یعنی باہمی تعاون) کا تعلق ہو۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"عين ضربت فزال ضوءها وهي قائمة) غير منخسفة (فيجعل على وجهه قطن رطب وتقابل عينه بمرآة محماة، ولو قلعت لا) قصاص لتعذر المماثلة"

(کتاب الجنایات، باب القود فيما دون النفس، ج:6، ص:551، ط:سعید)

تكملة الطوری میں ہے: 

"لو ضرب العين فأذهب ضوءها، وهي قائمة يجب القصاص؛ لأنه أمكن بأن تحمى لها المرآة ويجعل على وجهه قطن رطب وتشد عينه الأخرى ثم تقرب المرآة من عينه بخلاف ما إذا انقلعت حيث لا يقتص منه لعدم إمكان رعاية المماثلة"

(کتاب الجنایات، باب القصاص فيما دون النفس،ج:8، ص:345، ط: دار الكتاب الإسلامي)

العقود الدریہ في تنقیح  الفتاوى الحامديہ میں ہے:

"في العينين الدية وفي إحداهما نصف الدية"

 (کتاب الجنایات، ج:2، ص:251، ط:دار المعرفة)

وفيه أيضًا:

" والظاهر أنه يحسب المصروف من الدية. اهـ. والله تعالى أعلم"

 (کتاب الجنایات، ج:2، ص:255، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:

"ولا يجب مع القود شيء من المال عندنا"

 (کتاب الجنایات، ج:7، ص:239، ط:دار الكتب العلمية)

تفسير القرطبی میں ہے:

"لا خلاف أن القصاص في القتل لا يقيمه إلا أولو الأمر، فرض عليهم النهوض بالقصاص وإقامة الحدود وغير ذلك، لأن الله سبحانه خاطب جميع المؤمنين بالقصاص، ثم لا يتهيأ للمؤمنين جميعا أن يجتمعوا على القصاص، فأقاموا السلطان مقام أنفسهم في إقامة القصاص وغيره من الحدود"

 (سورۃ البقرۃ، ج:2،ص: 245، ط:دار الكتب المصرية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں