بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1448ھ 25 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

6 بیٹوں اور تین بیٹیوں میں والدہ کے ترکہ کی تقسیم


سوال

میری والدہ مرحومہ  اپنی متروکہ جائیداد میں 312 گز زمین پرمشتمل گھر چھوڑ گئی ہیں۔

ان کے ورثاء میں چھ بیٹے اور  تین بیٹیاں ہیں، ان کے والدین اور شوہر کا ان کی زندگی میں ہی انتقال ہوچکا تھا ۔

تو ان میں یہ گھر کی زمین شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ والدہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحومہ پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد ،بقیہ کل ترکہ کو پندرہ (15) حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک  بیٹی کو ایک حصہ ملے گا  ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت (مرحومہ والدہ) :15

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
222222111

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ والدہ کے ہر ایک بیٹۓ کو 13.333فیصد ، اور ہر ایک بیٹی کو 6.666فیصد ملے گا ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں