
میری والدہ مرحومہ اپنی متروکہ جائیداد میں 312 گز زمین پرمشتمل گھر چھوڑ گئی ہیں۔
ان کے ورثاء میں چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، ان کے والدین اور شوہر کا ان کی زندگی میں ہی انتقال ہوچکا تھا ۔
تو ان میں یہ گھر کی زمین شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی ؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ والدہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحومہ پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد ،بقیہ کل ترکہ کو پندرہ (15) حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا ۔
صورت تقسیم یہ ہے :
میت (مرحومہ والدہ) :15
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ والدہ کے ہر ایک بیٹۓ کو 13.333فیصد ، اور ہر ایک بیٹی کو 6.666فیصد ملے گا ۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101693
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن