بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الاول 1448ھ 07 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرچی پر لکھی گئی طلاق کا حکم اور بچوں کی پرورش اور نان و نفقہ کا حکم


سوال

1. میری بہن  کو ان کے شوہر نے تحریری طور پر طلاق دی ہے،ایک پرچی پر  یہ الفاظ لکھے گئے تھے :

”میں فلاں بن فلاں، اپنے ہوش و حواس سے فلاں بنت فلاں کو تین طلاقیں دیتا ہوں“

کیا ان الفاظ کے ذریعے شرعاً تینوں طلاقیں ایک ساتھ واقع ہو گئی ہیں، یا اس کی کوئی اور شرعی حیثیت ہے؟

2. عدت کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔ میری بہن کو تقریبا چارسے پانچ ماہ پہلے بچی بھی ہوئی تھی، اور ولادت کے بعد سے اب تک انہیں ماہواری نہیں آئی، غالباً دودھ پلانے کی وجہ سے حیض بند ہے، اس وقت معلوم نہیں کہ ماہواری کب شروع ہو گی؟ ممکن ہے کئی ماہ یا ایک سال تک بھی نہ آئے۔ ایسی صورت میں عدت کسی طرح شمار کی جائے گی؟ کیا تین قمری مہینے مکمل کرنے سے عدت پوری ہو جائے گی، یا پھر ماہواری آنے کا انتظار کیا جائے گا اور عدت کا حساب اس کے مطابق ہو گا ؟

3. میری بہن کی دوبیٹیاں ہیں، ایک کی عمر تقریبادو سال ہے، جبکہ دوسری کی عمر پانچ ماہ ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ان دونوں بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اور اس کی ترتیب کیا ہو گی ؟، اور ایسی صورت میں شرعا کس پر نفقہ لازم ہو گا، اور دونوں بچیوں کی رہائش اور میل جول اور جملہ حقوق کے حوالے سے کیا حکم ہے؟

جواب

1. واضح رہے کہ جس طرح زبان سے کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریر (لکھنے) سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب  سائل کی بہن کو اس کے شوہر نے ایک پرچی پر یہ الفاظ لکھے کہ ”میں اپنے ہوش و حواس میں فلاں بنت فلاں کو تین طلاقیں دیتا ہوں“ تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،سائل کی بہن اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔

2. حیض والی عورت کی عدت مکمل تین حیض ہے، اس کی عدت مہینوں کے حساب سے شمار نہیں ہوگی، اگر چہ عارضی طور پر حیض بند ہوچکا ہو، لہذا جب تک مکمل تین حیض نہیں آتے عدت مکمل نہیں ہوگی، چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگے۔

3. میاں بیوی کے درمیان جدائی کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، اس دوران ان  بچوں کے نان و نفقہ کی مکمل  ذمہ داری والد پر ہے، نیز اس دوران والد کو اپنے بچوں سے ملاقات کا حق بھی حاصل ہے۔

فتای شامی میں ہے:

"كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة."

"(قوله مطلقا) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو وقوله ولو على نحو الماء مقابل قوله إن مستبينا (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي."

(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 246، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"فالمرضع التي لا ترى الدم في مدة إرضاعها، لا تنقضي عدتها إلا بالحيض"

(كتاب الطھارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 304، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وكذا لو رأت دما يوما، ثم لم تر فعدتها بالشهور هو الصحيح ولو رأت ثلاثة دما، ثم انقطع فعدتها بالحيض، وإن طال إلى أن تيأس كذا في العتابية."

(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر، ج: 1، ص: 527، ط: مكتبه رشيديه)

وفیہ ایضاً:

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي....

والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر، ج: 1، ص: 542/541،  ط: مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101655

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں