
کچھ غریب لوگوں نے ایسی بنجر، ویران، پہاڑی اور صحرائی زمین، جو غیر آباد اور ناقابلِ استعمال تھی آباد کی، اور اس پر تقریباًنوے سال تک مسلسل کاشت کاری کرتے رہیں۔ اس دوران وہ باقاعدگی سے عشر، زکوٰۃ اور دیگر سرکاری محصولات حکومت وقت کو ادا کرتےرہیں۔اور ان کاشت کاروں کے پاس اس مدت کے سرکاری مالیاتی و محصولی اسناد بھی موجود ہیں۔ بعد ازاں، وقت گزرنے کے ساتھ حکومت کی جانب سے کسی شخص کو اس علاقے کا امیرمقرر کیا گیا، اس شخص نے عوام کی آباد کردہ زمینوں کو سرکاری ریکارڈ (دفترِ دیوان) میں اپنے نام درج کروا لیاحالانکہ آباد کسی اور نے کی تھیں۔
پھر وقت گزرنے کے ساتھ حکومت تبدیل ہوگئی اور وہ زمینیں حکومتی ریکارڈ میں ان کسانوں کے نام درج کی گئیں جنہوں نے اُسے آباد کی تھیں اور جن کسانوں کے پاس کھیتی باڑی کے اسباب اورسائل موجود تھے ۔ یہ بات واضح رہے کہ ان کو صرف کاشت کرنے کی اجازت دی تھی نہ کہ ان کو ان زمینوں کا مالک بنایاگیا تھا، اور حکومت ان سے سالانہ مالیہ اور محصولات وصول کرتی رہی۔اب حکومت وقت کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ زمینیں حکومتی ہے اور بیت المال کو اختیار ہے کہ دیگر غریب لوگوں میں تقسیم کریں۔
اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1- جس شخص نے مردہ (موات) زمین کو حکومت وقت کی اجازت کے بغیر آباد کیا، اور برسوں تک اس پر کاشت کاری کی، اور حکومت کو باقاعدگی سے مالیہ بھی ادا کرتا رہا، کیا شرعاً وہ آباد شدہ زمین اسی شخص کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی یا نہیں؟ جبکہ ان کاشت کاروں کے پاس سرکاری مالیاتی و محصولی اسناد بھی موجود ہیں۔اور درمیان میں حکومتی ریکارڈ میں بھی ان کسانوں کے نام اندراج ہوا ہے۔ یعنی اُنہیں کاشت کاری کی اجازت دی گئی تھی۔
2- یا اس شخص کی ملکیت قرار پائے گی جس نے اس زمین کی آبادکاری میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، محض اپنے نام سرکاری اندراج کرا لیا؟
3- یا ایسی زمین شرعاً سرکاری اور ریاستی ملکیت شمار ہوگی؟
واضح رہے کہ مردہ زمین کو آباد کرنے کےلیے شریعت مطہرہ کے احکامات اور فقہ حنفی کے مطابق حکومت وقت کی اجازت ضروری ہے، حکومت وقت کی اجازت کے بغیر صرف مردہ زمین کو آباد کرنے سے زمین میں آباد کرنے والے کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ نیز جب حکومت وقت کسی فرد کوزمین میں کاشت کاری کی اجازت دے دیتی ہے تو جب تک وہ شخص حکومت کو مالی ٹیکس ادا کرتے رہے حکومت کے لیے ان لوگوں سے بلا عذر شرعی وہ زمین واپس لینے یا جبراً و قہراًلیکر دوسروں کو دینا درست نہیں ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے بیان مطابق کہ حکومت نے ان کسانوں کو زراعت یعنی کھیتی باڑی کی اجازت دی تھی جن کے پاس آلات واسباب کاشت موجود تھے اور وہ لوگ باقاعدگی سےحکومت کو مالیہ اد ا کرتے رہے اور ان کے پاس ادائیگی کی اسناد بھی موجود ہیں، تو اس کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ تمام زمینوں کی ملکیت تو حکومت کی ہے، نہ ان کسانون کی ملکیت ہے جنہوں اُسے حکومت وقت کی اجازت کے بغیر آباد کی تھیں، اور نہ ہی ان امراء کی ملکیت ہے جنہوں نے ان زمینوں کو محض ریکارڈ میں اپنےنام ثبت کی تھیں ۔
البتہ جن کسانوں کو حکومت نے زراعت کی اجازت دی تھی اگر وہ لوگ حکومت کو اپنا مالیہ وغیرہ ادا کرتے ہیں تو یہ آباد کرنے والے کسان دیگر کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اپنی آباد کردہ زمین کی قانونی مالیت ادا کرکے اپنی ملکیت میں شامل کریں، اور جب تک یہ زمین کاشتکاری کے نظام کے تحت رہے تو یہ زمینیں ان کے حولے ہی رہیں گیں حکومت وقت ان سےمذکورہ زمینیں بلا عذر شرعی واپس لیکر کسی اور کی کاشتکاری میں دینا درست نہیں ہے، جب تک وہ لوگ اپنی شرط کے مطابق عمل کرتے رہے یعنی حکومت کو مطلوبہ مالیہ ادا کرتے رہے۔ نیز جس وقت تک یہ زمینیں ان لوگوں کے پاس ہو یہ لوگ اس زمین میں زراعت کے متعلق تمام تصرفات کرسکتے ہیں، مگر ان کو فروخت کرنے، ہبہ کرنے، وغیرہ کے اختیارات حاصل نہیں ہوں گے۔
اوراگر یہ لوگ حکومت کو مالیہ نہیں دیتے یا زمینوں میں کاشت کاری نہیں کرتے تو اس صورت میں حکومت ان سے زمینیں لیکر دوسروں کو دے سکتی ہے۔
فتاوٰی شامی میں ہے:
" ثم اعلم: أن أراضي بيت المال المسماة بأراضي المملكة وأراضي الحوز إذا كانت في أيدي زراعها لا تنزع من أيديهم ما داموا يؤدون ما عليها، ولا تورث عنهم إذا ماتوا، ولا يصح بيعهم لها ولكن جرى الرسم في الدولة العثمانية أن من مات عن ابن انتقلت لابنه مجانا، وإلا فلبيت المال."
(کتاب الجھاد، باب العشر والخراجوالجزية، مطلب فيما تصير به دار الإسلام دار حرب وبالعكس، ج: 4، ص:180، ط: سعید)
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” اقطاع یعنی جاگیر کی مختلف صورتیں ۔۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کو زمین دی جائے اس کو زمین کا مالک نہ بنایا جائے بلکہ اس کے منافع اور آمدنی حاصل کرنے کا اختیار نسلاً بعد نسل دیاجائے۔ اس صورت میں امام بلاوجہ شرعی اس جاگیر دار یا اس کے وارثوں کو زمین سے بے دخل نہیں کرسکتے، ہاں وہ اس زمین کو معطل کرکے چھوڑدیں یا زمین کا عشر وخراچ ادا نہ کریں تو ان سے لیکر دوسروں کو دی جاسکتی ہے۔ نیز اس صورت میں جاگیر دار یا اس کے وارثوں کو بیع و ہبہ یا وقر کا اختیار نہیں ہوتا، باقی تصرفات جن کا تعلق پیداوار سے ہیں وہ سب جائز ہیں۔ ۔۔۔
فائدہ: جب سلطانِ مسلم نے کسی شخص کو جاگیر بصورتِ مذکورہ نسلًا بعد نسلٍ اس سے نفع اٹھانے کے لیے دے دی۔ جب یہ سلطان مر جائے، اور جاگیردار کا انتقال اس وقت ہو جبکہ دوسرا امام اس کی جگہ تخت نشین ہو تو اس کو اور اسی طرح اس کے بعد آنے والے سلاطین کو اس کی اولاد کے بارے میں سابق سلطان کے فرمان کا پابند رہنا لازمی ہوگا۔
یا سلطان اول کے انتقال پر جاگیردار کی اولاد کے حق میں یہ معاہدہ بھی ختم ہو جائے اور جدید سلطان کو اختیار ہوگا کہ اولاد کے لیے اس کو باقی رکھے یا واپس لے لے۔ ۔۔“
(اسلام کا نظامِ اراضی، ص: 22- 23- 24 ، ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101614
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن