بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الاول 1448ھ 09 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد شوہر کا مشترکہ گھر میں سے اپنے حصے کے بقدر رقم کا مطالبہ کرنا اور جہیز کے سامان میں شوہر کے تصرف کا حکم


سوال

29 سال قبل میری شادی ہوئی تھی، اب طلاق ہوگئی ہے، طلاق کے بعد میں جس گھر میں رہتی ہوں، اس گھر میں کچھ رقم میرے بھائیوں نے بطورِ تعاون دی تھی، اور تقریباً 11 لاکھ روپے دیور نے بطورِ قرض شوہر کو دیے تھے، اور شوہر نے مکان میں اس رقم سے حصہ شامل کیا تھا، شوہر نے دیور کا کچھ قرض ادا کردیا ہے، اور مزید تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کررہے ہیں، اب شوہر اس 11 لاکھ کا مطالبہ کررہا ہے، حالانکہ وہ 11 لاکھ روپے شوہر نے نہیں دیے، بلکہ دیور نے بطورِ قرض دیے۔

نیز شوہر نے میرا جہیز کا سامان میری اجازت کے بغیر وقفے وقفے سے فروخت کردیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ:

1۔شوہر ان 11 لاکھ روپوں کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ جبکہ یہ رقم دیور نے بطورِ قرض دی تھی۔

2۔اور میرے جہیز کے سامان کاکیا حکم ہے؟ میں اس کا مطالبہ شوہر سے کرسکتی ہوں یا نہیں؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں جس گھر میں سائلہ رہ رہی ہے، وہ گھر بھائیوں کے بطورِ تعاون دیے گئے پیسوں اور دیور کے بطورِ قرض دی گئی رقم سے خریدا گیا تھا، چونکہ 11 لاکھ قرض شوہر کو دیا گیا تھا، اور شوہر نے مذکورہ قرض کی رقم سے اپنا حصہ گھر میں شامل کیا تھا، اور شوہر ہی قرض کی ادائیگی کررہا ہے، اس لیے مذکورہ مکان میں 11 لاکھ روپے کے بقدر حصہ شوہر کی ملکیت ہے۔

لہٰذا اب طلاق کے بعد سائلہ چونکہ اس گھر میں رہائش پذیر ہے، تو شوہر کا اپنے ملکیتی حصے کے بقدر  رقم کا مطالبہ کرنا درست ہے،  سائلہ کو چاہیئے کہ وہ شوہر کے حصے کے بقدر روپے شوہر کو ادا کرکے شوہر کا ملکیتی  حصہ بھی حاصل کرلے، یا مکان فروخت کرکے شوہر کے حصے کے بقدر رقم شوہر کو ادا کرے۔بصورت دیگر سائلہ شوہر کے ملکیتی حق میں غاصبہ شمار ہوگی۔

نیز چونکہ شوہر نے سابقہ بیوی کو جہیز کے سامان کی قیمت دینی ہے، اور بیوی سے مذکورہ مکان میں اپنے حصے کے بقدر رقم لینی ہے، لہذا مکان کے حساب کا جہیز کے سامان سے موازنہ کرکے وضع قطع بھی کرسکتے ہیں، یعنی ایک دوسرے کے حصے میں سے کاٹ سکتے ہیں، اور جو اضافی رقم کسی کی دوسرے کے ذمہ واجب ہو وہ ادا کرنا لازم ہوگی۔

2۔والدین کی طرف سے بیٹی کو شادی کے موقع پر جو جہیز کا سامان دیا جاتا ہے وہ بیٹی کی ملکیت ہوتا ہے، اور بیٹی کی اجازت کے بغیر وہ سامان استعمال کرنا، یا فروخت کرنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کا بیان درست ہے کہ سابقہ شوہر نے بغیر اجازت کے جہیز کا سامان فروخت کیا،  تو شوہر کا اس طرح اجازت کے بغیر سامان فروخت کرنا جائز نہیں تھا، شوہر مذکورہ فروخت کردہ سامان کا سائلہ کے لیے ضامن ہوگا، اور  جتنی رقم میں وہ سامان فروخت کیا ہے اتنی رقم بیوی کو لوٹانا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها

قوله ( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع. "

(کتاب الخنثٰی، مسائل شتیٰ، ج:6، ص:747، ط:سعید)

وفيہ ايضا:

" لا يجوز التصرف في مال غيره ‌بلا ‌إذنه ‌ولا ‌ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه."

 

(كتاب الغصب، ج: 6، ص: 200، ط: سعید)

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ میں ہے:

" ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه لا يجب على المرأة أن تتجهز بمهرها أو بشيء منه، وعلى الزوج أن يعد لها المنزل بكل ما يحتاج إليه ليكون سكنا شرعيا لائقا بهما. وإذا تجهزت بنفسها أو جهزها ذووها فالجهاز ملك لها خاص بها."

(حرف الجیم، جھاز، ج:16، ص:166، ط:دار السلاسل)

فتاوی شامی میں ہے:

" فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."

(کتاب النکاح، باب النفقة، ج:3، ص:585، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں