بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الاول 1448ھ 30 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

فاریکس ٹریڈنگ کے مقابلوں میں شرکت اور انعام حاصل کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں ایک اسٹاک ٹریڈر ہوں، ایک یوٹیوبر ایسا ہے جو فاریکس ٹریڈنگ کے مقابلے (competitions) کرواتا ہے، اور جیتنے والے کو انعام دیتا ہے، یہ مقابلے ڈیمو اکاؤنٹ پر ہوتے ہیں، یعنی اس میں حقیقی (ریئل) فاریکس ٹریڈنگ نہیں کی جاتی بلکہ فرضی پیسوں سے مشق کی جاتی ہے۔

 کیا اس طرح کے ڈیمو مقابلے میں جیتنے پر ملنے والا انعام لینا جائز ہے؟

میں نے بیرونِ ملک کی کچھ ویب سائٹس پر اس بارے میں مختلف آراء دیکھی ہیں: کچھ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ محض ڈیمو (فرضی) ٹریڈنگ ہے اور اصل پیسوں کا لین دین نہیں ہوتا، اس لیے یہ جائز ہے۔ جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ اس سے انسان کو ایسی چیز کی تربیت ملتی ہے جو ناجائز ہے۔ میری اپنی رائے میں یہ دوسرا نقطہ نظر درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اسی مہارت اور علم کو میں حقیقی زندگی میں حلال اسٹاکس کی ٹریڈنگ میں بھی استعمال کر سکتا ہوں۔

کیا یہ انعام میرے لیے جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ "فاریکس ٹریڈنگ" کے اس وقت جتنے طریقے رائج ہیں  وہ  شرعی اصولوں کی مکمل رعایت نہ ہونے اور شرعی سقم پائے جانے کی وجہ سے ناجائز ہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی یوٹیوبر فاریکس ٹریڈنگ کے مقابلے منعقد کرکے لوگوں کو اس میں شرکت کی ترغیب دیتا ہے اور مقابلے میں کامیاب ہونے والے شخص کو انعام دیتا ہے، تو وہ لوگوں کو ایک ناجائز معاملے میں مبتلا ہونے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس طرح وہ خود بھی ناجائز کام میں معاونت کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی اس ناجائز عمل میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

لہٰذا سائل کے لیے ایسے فاریکس ٹریڈنگ کے مقابلے میں شریک ہونا اور کامیابی کی صورت میں انعام حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ سائل کو چاہیے کہ ایسے مقابلوں میں شرکت سے اجتناب کرے۔

  تکملۃ فتح الملہم شرح صحیح مسلم میں ہے:

"فالضابط في هذا أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام اور مكروه تحريماً، وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة كان حراماً أو مكروهاً تحريماً،وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الإستحباب أو أعظم منه . . . وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الإنهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه".

(قبیل کتاب الرؤیا، ج:4، ص: 435،  ط:  دارالعلوم کراچی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101571

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں