بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1448ھ 31 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جانوروں کے کاروبار کے لیے رقم دے کر مقررہ منافع لینے اور اپنے ہی ذریعے جانور خرید و فروخت کرنے کا شرعی حکم


سوال

ہم دونوں دوست تھے۔ میرے پاس کچھ رقم تھی اور میں چاہتا تھا کہ اس سے مجھے نفع حاصل ہو۔ میرے دوست کا جانوروں کا کاروبار تھا اور اسے رقم کی ضرورت تھی۔ میں نے اسے 50 لاکھ روپے اس مقصد سے دیے کہ مجھے بھی اس سے نفع حاصل ہو۔

پھر ہم نے یہ صورت بنائی کہ میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کے 50 لاکھ روپے سے جانور خریدوں گا، پھر یہ رقم آپ کو منافع کے ساتھ واپس کر دوں گا۔ اس کی صورت یہ طے ہوئی کہ 12 قسطیں ہوں گی: پہلے 10 ماہ تک 90،90 ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جائیں گے، اور آخری دو ماہ میں 25،25 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

اس کے بعد میرے دوست نے ان پیسوں سے جانور خرید لیے اور مجھے تقریباً نو ماہ تک قسطیں ادا کرتا رہا۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا مذکورہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس نے مجھے تقریباً نو ماہ تک جو قسطیں ادا کی ہیں، کیا وہ میرے لیے جائز ہیں؟ اگر مذکورہ معاملہ ناجائز ہے تو اس کی صحیح اور جائز صورت کیا ہوگی؟

مزید یہ کہ میرے دوست نے میری طرف سے جانور خرید کر وہی جانور اپنے آپ کو 59 لاکھ روپے میں فروخت کر دیے، جبکہ اس معاملے میں مجھے ان جانوروں پر قبضہ بھی نہیں ملا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ ناجائز ہے؛ اس لیے کہ نفع کاروبار کے حقیقی منافع کے فیصد یا حصوں کے بجائے مقرر رقم کی صورت میں طے کیا گیا، اور نقصان کی صورت میں سائل پر کوئی ذمہ داری نہیں رکھی گئی، لہٰذا یہ مضاربت نہیں بلکہ قرض پر مشروط نفع ہے، جو سود ہے۔

نیز دوست کا سائل کا وکیل بن کر جانور خریدنا اور پھر وہی جانور خود اپنے ہاتھ فروخت کر دینا بھی درست نہیں؛ اس لیے کہ ایک ہی شخص بائع اور مشتری نہیں بن سکتا، اور سائل کو ان جانوروں پر قبضہ بھی حاصل نہیں ہوا۔

لہٰذا سائل صرف اپنی اصل رقم (پچاس لاکھ) کا حق دار ہے، اور اقساط میں جو زائد رقم وصول کی گئی ہے وہ اس کے لیے حلال نہیں، اسے واپس کرنا لازم ہے، اور دونوں توبہ و استغفار کریں۔

اس کی جائز صورت یہ ہے کہ باقاعدہ مضاربت کا معاہدہ کیا جائے، جس میں نفع کی تقسیم مقرر رقم کے بجائے حقیقی نفع کے فیصد کے اعتبار سے طے ہو، اور نقصان سرمایہ دار برداشت کرے، بشرطیکہ کام کرنے والے کی کوتاہی نہ ہو۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح."

( کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ج، 59،6، ص،ط،دارالکتب العلمیة)

وایضافیہ:

" والوضیعة علی قدر المالین متساویا ومتفاضلا؛ لأن الوضیعة اسم لجزء ہالک من المال فیتقدر بقدر المال."

کتاب الشرکة،فصل فی بیان شرائط جواز انواع الشرکة،ج،6،ص،62، ط، دار الکتب)

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: و تصح مع التساوي في المال دون الربح و عكسه) و هو التفاضل في المال والتساوي في الربح  وقال زفر والشافعي: لايجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثاً فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان؛ إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل، ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان؛ فيستحق بقدر الملك في الأصل.

و لنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة، وقد يكون أحدهما أحذق وأهدى أو أكثر عملاً فلايرضى بالمساواة؛ فمست الحاجة إلى التفاضل. قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة، ومن المضاربة أيضاً إلى قرض باشتراطه للعامل، أو إلى بضاعة باشتراطه لرب المال، وهذا العقد يشبه المضاربة من حيث أنه يعمل في مال الشريك ويشبه الشركة اسماً وعملاً فإنهما يعملان معاً، فعملنا بشبه المضاربة وقلنا: يصح اشتراط الربح من غير ضمان وبشبه الشركة حتى لاتبطل باشتراط العمل عليهما. وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملاً".

(کتاب الشرکة،شرکة العنان،ج،5،ص،188،ط،دارالکتاب)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں