
میری بیوی کا انتقال ہوا، اس کے بعد میری بیٹی جو فی الوقت ساڑھے چار سال کی ہے، اپنی نانی کی پرورش میں ہے۔
نو سال تک کے حقِ پرورش میں، میری اور سسرال والوں کی بچی کے حق میں کیا حدود ہیں؟ یہ واضح کر دیں اور بالخصوص درج ذیل امور پر رہنمائی فرمائیں:
بچی کی تعلیم کے معاملے میں کسی کا ایک طرفہ فیصلہ شرعاً درست ہے یا باہمی مشاورت ضروری ہے؟
بچی سے ملاقات کے سلسلے میں کیا مجھے مطلقاً اختیار حاصل ہے کہ جب چاہوں، جتنے وقت کے لیے چاہوں اپنے گھر لا سکوں؟
بچی کے نان و نفقہ وغیرہ میں والد کی مالی وسعت کا اعتبار کیا جائے گا یا سسرال والوں کا؟
کیا میں دوسری بیوی سے جوڑ بٹھانے کے لیے بچی کو نو سال سے کم عمر میں بھی اپنے پاس واپس لے سکتا ہوں یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر بیوی کا انتقال ہو جائے اور ان کا کوئی چھوٹا بچہ ہو، تو اگر لڑکا ہو تو سات سال تک اور اگر لڑکی ہو تو نو سال تک اس کی پرورش کی ذمہ داری نانی پر ہے۔ البتہ اس حالت میں بچے کے والد پر لازم ہے کہ وہ بچے کے تمام اخراجات اٹھائے، اس کی جو ضرورت ہو وہ پوری کرے؛ اس کی تعلیم، علاج اور دیگر تمام اخراجات والد ہی کے ذمہ واجب ہیں۔
ہاں، اس دوران والد اگر چاہے تو اپنے بچے سے ملاقات کر سکتا ہے، اس کی تعلیم کے متعلق ہدایات دے سکتا ہے، اور اس کی تربیت کے متعلق بھی رہنمائی کر سکتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بیوی کے انتقال کے بعد سائل کی جو بچی ہے، اس کی پرورش کی ذمہ داری سائل کی ساس یعنی بچی کی نانی پر ہے، اور شرعاً نو سال تک یہ حق نانی کے پاس رہے گی۔ بچی کے تمام اخراجات والد پر ہیں، اور والد اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بچی کے اخراجات ادا کرے گا۔ اس دوران سائل اپنی بچی سے ملاقات کر سکتا ہے، اور باہمی رضامندی کے ساتھ اگر چاہے تو اپنی بچی کو کچھ مدت کے لیے اپنے پاس بھی رکھ سکتا ہے، نیز تعلیم و تربیت کے متعلق ہدایات اور رہنمائی بھی دے سکتا ہے، اس معاملہ میں الجھنے اور لڑائی جھگڑے کے بجائے باہمی مشاورت اور رضامندی کے ساتھ ان امور کو طے کرلیا جائے ،باقی نو سال تک پرورش کا حق چونکہ نانی کا ہے اس لیے ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر سائل بچی کو مستقل اپنے پاس نہیں رکھ سکتا،ہاں وہ اس پر راضی ہوجائیں تو سائل نو سال کی عمر سے پہلے بھی اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔
فتاوی شامی ہے:
"وفي شرح النقاية للباقاني عن البحر المحيط: سئل أبو حفص عمن لها إمساك الولد وليس لها مسكن مع الولد؟ فقال: على الأب سكناهما جميعا. وقال نجم الأئمة: المختار أنه عليه السكنى في الحضانة، وكذا إن احتاج الصغير إلى خادم يلزم الأب به. وفي كتب الشافعية: مؤنة الحضانة في مال المحضون لو له وإلا فعلى من تلزمه نفقته. قال شيخنا: وقواعدنا تقتضيه فيفتى به ثم حرر أن الحضانة كالرضاع، والله تعالى أعلم."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3 ص: 526، ط: ایچ ایم سعید)
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
"وإذا انقضت عدة الأم فمكان الحضانة هو البلد الذي يقيم فيه والد المحضون أو وليه، وكذلك إذا كانت الحاضنة غير الأم، لأن للأب حق رؤية المحضون، والإشراف على تربيته، وذلك لا يتأتى إلا إذا كان الحاضن يقيم في بلد الأب أو الولي."
(حرف "حاء"، حضانة، مكان الحضانة، ج: 17 ص: 309 ط: دار السلاسل)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101513
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن