
اگر ایک شخص قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھا ئے کہ میں یہ کام آئندہ نہیں کروں گا ،اس کے بعد اگر یہ آدمی وہ کام کرے، اور کفارہ بھی ادا کردے ،تو اگر دوبارہ وہی کام کر ے گا ،تو کفارہ بھی دوبارہ دینا پڑے گا ؟یا پھر وہی ایک ہی کفارہ کا فی ہے ؟
صورت مسئولہ میں ایک قسم کھانے کے بعد اگر اس کو توڑدیا تو ایک کفارہ لازم ہے، ایک مرتبہ کفارہ ادا کرنے کے بعد اگر دوبارہ وہی کام کرلیا تو دوبارہ کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ اگر ایک دفعہ کفارہ ادا کرنے بعد دوبارہ قسم کھائی ہو تو پھر دوبارہ اس قسم کو توڑنے پر دوبارہ کفارہ لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا)."
(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:3،ص: 355، ط: سعید)
وفیه أیضا:
"و في البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل. وفيه معزياً للأصل: هو يهودي هو نصراني يمينان، وكذا والله والله أو والله والرحمن في الأصح. واتفقوا أن والله والرحمن يمينان، وبلا عطف واحدة."
(کتاب الأیمان،ج:3،ص:714، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101489
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن