
مسئلہ یہ ہے کہ کسی بات پر بحث ہو گئی بیوی کے ساتھ اور وہ ناراض ہو کر "بائے" کہہ کر چلی گئی، اس کے بعد میرے میسج کا جواب نہیں دیا اور میں نے بھی غصے میں آکر ان سے یہ کہا:"دفع ہو جاؤ میں تمہاری بائے کہنے سے نہیں ڈرتا" مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے یہ لفظ میں نے بیوی کو صرف غصہ دلانے کے لیے کہا تھا، آیا اس طرح کے الفاظ کہنے سے بیوی کو طلاق تو نہیں ہوئی ؟اگرچہ میرا ارادہ طلاق کا بالکل نہیں تھا ،اگر طلاق ہوئی تو دوبارہ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے مذکورہ خط کشیدہ الفاظ غصے کی حالت میں طلاق کی نیت کے بغیر کہے تھے تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، نکاح برقرار ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا... (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط)
(قوله: يتوقف الأول فقط) أي ما يصلح للرد والجواب لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد كما تصلح للطلاق دون الشتم وألفاظ الأول كذلك، فإذا نوى بها الرد لا الطلاق فقد نوى محتمل كلامه بلا مخالفة للظاهر فتوقف الوقوع على النية، بخلاف ألفاظ الأخيرين فإنها وإن احتملت الطلاق لكنها لاتحتمل ما تحتمله المذاكرة من الرد والتبعيد، فترجح جانب الطلاق ظاهرا فلايصدق في الصرف عنه فلذا وقع بها قضاء بلا نية.
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية وقد نظمت ذلك بقولي:
نحو اخرجي قومي اذهبي ردا يصح ... خلية برية سبا صلح
واستبرئي اعتدي جوابا قد حتم ... فالأول القصد له دوما لزم
والثاني في الغضب والرضا انضبط ... لا الذكر والثالث في الرضا فقط"
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101453
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن