بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیات کے نقش والے پانی اور دم کیے ہوئے پانی سے غسل خانے میں نہانے کا شرعی حکم


سوال

قرآنی آیات کو نقش میں تبدیل کر کے اس کو پانی میں ڈال کر اس پانی سے غسل خانے میں نہا سکتے ہیں؟ یعنی: قرآنی آیتوں کو  ہندسوں میں تبدیل کر کے جو نقش بنائے جاتے ہیں اس کو پانی میں ڈال کر اس پانی سے نہانا کیسا ہے؟

قرآنی آیات کو پڑھ کر پانی دم کر کے اس پانی سے غسل خانے میں نہا سکتے ہیں؟

جواب

علاج وغیرہ کی ضرورت کی بنیاد پرمنزل یا کوئی اور قرآنی آیات ہندسوں کی صورت میں لکھ کر پانی میں ڈال کر اس پانی سے غسل کرسکتے ہیں،اسی طرح قرآنی آیات پڑھ کر  دم کیے ہوئے پانی سے بھی غسل کرنے کی گنجائش ہے،  لیکن ایسے پانی کو نالی میں بہانا خلاف ادب ہے،بہتر ہےکہ کسی ٹب میں غسل کرکے پانی کو کیاریوں میں بہادینا چاہیے۔ تاہم اگر نالی میں بہا دیا گیا تو گناہ نہیں۔

حاشیۃ الطحطاوی علی ٰ مراقی الفلاح میں ہے:

 " يجوز الاغتسال والتوضؤ بماء زمزم إن كان على طهارة للتبرك فلا ينبغي ‌أن ‌يغتسل ‌به ‌جنب ولا محدث ولا في مكان نجس."

(کتاب  الطهارة، ص:22، ط: دارالکتب العلمية)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیۃ میں ہے:

"فذهب الجمهور إلى جواز الرقي من كل داء يصيب الإنسان بشروط ثلاثة:

أولها: أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته.

ثانيها: أن يكون باللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره.

ثالثها: أن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بإذن الله تعالى وقدرته لما روى عوف بن مالك رضي الله عنه قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال صلى الله عليه وسلم: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك."

(بحث ‌‌رقية، ج:23، ص:97، ط:مطابع دارالصفوة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101440

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں