
اگر کوئی شخص کسی باغ والے سے اس باغ کے سیب خریدے،اس حال میں کہ وہ کھلیوں سے نکل گئے ہوں،یعنی ظاہر ہوگئے ہوں ،اور یہ بیع کریٹ کے حساب سے کی گئی ہو،مثلاً یہ طے ہوا کہ پھل پکنے کے بعد ایک کریٹ کے اتنے روپے ہوں گے،اور تاجر نے کچھ رقم بھی بائع کو دیدی،باقی رقم باقی ہے،اچانک ژالہ باری ہو،جس سے باغ کے تمام سیب ہلاک ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ باغ کے مالک نے جو آدھی رقم لی ہے،کیا وہ اس کےلیے جائز ہے؟
کیا وہ باقی رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ شرعی اعتبار سے کئی ساری خامیوں(مثلاً مبیع کی جہالت،ثمن کی جہالت،پھل پکنے تک درخت پر رکھنا)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے فاسد ہے، ایسے معاملہ سے اجتناب کرنا لازم ہے تاہم اگر کوئی چیز خریدار کے قبضہ سے پہلے فروخت کنندہ کے قبضہ میں ہلاک ہوجائے تو شرعی اعتبار سے اس کا تاوان خریدار پر لازم نہیں ہوتا ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ باغ کا مالک نہ صرف یہ کہ مزید رقم کا مستحق نہیں بلکہ اس نے جو رقم وصول کی ہےاس کا واپس کرنا بھی باغ کے مالک پر لازم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال: في الفتح لا خلاف في عدم جواز بيع الثمار قبل أن تظهر ولا في عدم جوازه بعد الظهور قبل بدو الصلاح، بشرط الترك ولا في جوازه قبل بدو الصلاح بشرط القطع فيما ينتفع به، ولا في الجواز بعد بدو الصلاح."
(كتاب البيوع،مطلب في بيع الثمر والزرع والشجر مقصودا،ج: 4،ص: 555،ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة،فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود."
(كتاب البيوع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج: 5،ص: 156،ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع، فقال المشتري: تكون هنا الليلة، فإن ماتت ماتت لي فهلكت، هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان".
(كتاب البيوع،الباب الرابع،الفصل الثاني،ج: 3،ص: 20،ط: دارالفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101422
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن