بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

عارضی طور پر ماہواری نہ آنے والی مطلقہ کی عدت کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کو طلاق ہو گئی اور اس عورت کی ایک پانچ ماہ کی بیٹی بھی ہے،  تو شاید اس بچی کے دودھ کی وجہ سے اس عورت کو ماہواری نہیں آرہی اور اسکی مدت بھی حتمی نہیں کہ کب تک ماہواری آۓ گی، تو ایسی صورت میں یہ عورت عدت کس طرح شمار کرے گی ؟ کیا یہ بھی آئسہ کے حکم میں آجاۓ گی اور تین ماہ پورے کرے گی یا پھر ماہواری کا انتظار کرے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی عدت تین ماہواریاں ہی مقرر ہیں، اس لیے کہ عارضی طور پر (دودھ پلانے یا کسی اور عذر کی وجہ سے )جس عورت کو ماہواری نہ آرہی ہو تو ایسی عورت آئسہ(حیض آنے سے مایوس عورت)شمار نہیں ہوتی ،اورنہ ہی ایسی عورت کو تین ماہ عدت گزارنے کی اجازت ہے، لہذا مذکورہ عورت کو جب تک تین ماہواریاں نہیں آجاتیں اس وقت تک مذکورہ مطلقہ عورت عدت میں رہے گی،اس دوران  کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی، تین ماہواریاں جب مکمل ہوجائیں تب مذکورہ عورت کی عدت مکمل ہوگی اور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

رد المحتار میں ہے:

" (و) العدة (في) حق (من لم تحض) حرة أو أم ولد (لصغر) بأن لم تبلغ تسعا (أو كبر) بأن بلغت سن الإياس (أو بلغت بالسن) وخرج بقوله (ولم تحض) الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الأياس، جوهرة وغيرها، وما في شرح الوهبانية من انقضائها بتسعة أشهر غريب مخالف لجميع الروايات فلا يفتى به ."

(باب العدۃ، ج: 3، ص: 508، ط: سعید)

البحرالرائق میں ہے :

" ثم الأصح أن الحيض موقت إلى سن الإياس وأكثر المشايخ قدروه بستين سنة ومشايخ بخارى وخوارزم بخمس وخمسين فما رأت بعدها لا يكون حيضا في ظاهر المذهب وفي المجتبى والفتوى في زماننا أن يحكم بالإياس عند الخمسين ."

(باب الحیض، ج: 1، ص: 201، ط: دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں