بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث اور غیر وارث کیے لیے وصیت کرنے کا حکم


سوال

میری وائف کے انتقال کے تقریباً دو ماہ ہو گئے ہیں۔ اس کی ملکیت میں کچھ سونا، نقد رقم اور کمرے کا سامان تھا۔ سونے کے بارے میں تو اس نے کچھ وصیت بھی کی تھی کہ میری ایک بالی ایک بیٹی کی ہے، دوسری بالی دوسری بیٹی کی ہے، اور انگوٹھی میری پوتی کی ہے۔

اور کمرے کے سامان کے بارے میں بتایا ہے کہ میرے بعد کمرے کا سامان بھی میری دونوں بیٹیوں کا ہے، البتہ نقد رقم کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی تھی۔

لہذا اس کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

مرحومہ کے ورثاء میں شوہر[سائل]، مرحومہ کی والدہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں حیات ہیں۔ مرحومہ کے والد کا انتقال پہلے ہوا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے جو صیت بیٹیوں کے حق میں کی ہے، اگر باقی تمام ورثاء[ مرحومہ کا شوہر، مرحومہ کی والدہ، اور ایک بیٹا ہے] اس کی اجازت دیں، تو وہ وصیت نافذ کی جا سکتی ہے، ورنہ تو اس وصیت کا کوئی اعتبار نہیں۔

البتہ پوتی کے حق میں جو وصیت کی ہے اگر وہ کل مال کے تہائی حصہ کے اندر پوری ہو سکتی ہو، تو اسے پورا کیا جائے گا، اور اگر وہ تہائی حصہ سے زیادہ بن رہی ہو، تو اگر تمام ورثاء اس کی اجازت دیں ، تو کل وصیت نافذ ہو گی، ورنہ تو یہ وصیت کل مال کے صرف تہائی حصہ کے بقدر میں نافذ ہو گی۔

مرحوم کےترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ : سب سے پہلے مرحومہ پر اگر کوئی قرض ہو ،تو  اسے ادا کیا جائے ، پھر اس کی وصیت کو ذکر کردہ بالا طریقہ پر نافذ کیا جائے، اس کے بعد  بقیہ کل ترکہ کو 48 حصوں میں تقسیم کرکے اس میں سے 12 حصے مرحومہ کے شوہر کو، 8 حصے مرحومہ کی والدہ کو، 14 حصے اس کے بیٹے کو، اور 7، 7  حصے ہر ایک بیٹی کو دے دیے جائیں۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت[بیوی]: 48/12

شوہروالدہبیٹابیٹیبیٹی
327
1281477

فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، اس کی والدہ 16.667 فیصد، اس کے بیٹے کو 29.1667 فیصد،  ہر ایک بیٹی کو 14.583 فیصد ملے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث...

ولو أوصى لبعض ورثته، فأجاز الباقون؛ جازت الوصية؛ لأن امتناع الجواز كان لحقهم لما يلحقهم من الأذى والوحشة بإيثار البعض، ولا يوجد ذلك عند الإجازة، وفي بعض الروايات عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة"

(كتاب الوصايا، الشرط الذي يرجع إلى الموصى له، ج: 7، ص: 738،737، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

" ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

(کتاب الوصایا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، ط: رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101391

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں