
فرض نمازوں کے بعد مسنون اذکار میں سلام پھیرنے سے متصلاً تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا سنت سے ثابت ہے کہ نہیں؟
مسلم شریف کی روایت میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كنا نعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير ۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ما كنا نعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بالتكبير . قال عمرو: فذكرت ذلك لأبي معبد فأنكره، وقال: لم أحدثك بهذا، قال عمرو: وقد أخبرنيه قبل ذلك.
حدثنا محمد بن حاتم، أخبرنا محمد بن بكر، أخبرنا ابن جريج، ح ، قال: وحدثني إسحاق بن منصور - واللفظ له - قال: أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جريج، أخبرني عمرو بن دينار، أن أبا معبد مولى ابن عباس، أخبره، أن ابن عباس رضي الله عنهما أخبره "أن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة، كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم" ، وأنه قال: قال ابن عباس رضي الله عنهما : كنت أعلم إذا انصرفوا بذلك، إذا سمعته.
ان سب روایات سے کیا ثابت ہوتا ہے ؟
خاص لفظ اللہ اکبر کہنے کے متعلق سوال ہے،میرا اصل سوال یہ ہے کہ جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک لفظ اللہ اکبر کہنا مسنون نہیں ایسا کیوں ہے؟ جبکہ حدیث میں صاف الفاظ تکبیر کے ہیں کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا تکبیر سے پتہ چلتا تھا پھر اس روایت میں تکبیر کے لفظ کو مطلق ذکر پر محمول کرنے کی کیا وجہ ہے؟
بالفاظ دیگر حقیقی معنی چھوڑ کر عموم مجاز کی طرف کیوں رخ کیا گیا ؟
فرض نماز کے بعد قدرِ بلند آواز سے ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے / ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر (یعنی اللہ اکبر ) کہنے سے ہوتا تھا۔
تاہم جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا مسنون نہیں، بلکہ اس سے مراد نماز کے بعد مطلق ذکر کرنا ہے، جس میں تکبیر، تسبیح، تحمید و دیگر تمام اَذکار شامل ہیں۔
تکبیر کے حقیقی معنی کو ترک کرکے اس سے عمومِ مجاز کے طور پر مطلق ذکر مراد لینے کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
فرض نماز کے بعد مختلف روایات میں مختلف اذکار و دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز پڑھنے کے بعد مانگی ہیں، جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز کے بعد کسی خاص قسم کی دعا مانگنے یا خاص ذکر کرنے کی قید نہیں ہے،اسی لیے علماء نے تکبیر کو "مطلق ذکر" کے مجازی معنیٰ میں لیا ہے۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے مذکورہ اثر میں "تکبیر" سے کیا مراد ہے؟اس سلسلے میں محدثینِ کرام نے مختلف احتمالات ذکر فرمائے ہیں ،جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد " اللہ اکبر " کہنا ہے ،جیسا کہ لمعات التنقیح میں یہ قول ذکر کیا گیا ہے کہ نماز کے بعد حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام ایک مرتبہ یا تین مرتبہ "اللہ اکبر " کہتے تھے۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ نماز کے بعد تسبیح و تحمید سے قبل اللہ اکبر کہتے تھے۔
تیسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضور علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو ذکرِ معتاد (یعنی جس ذکر کی عادتِ مبارکہ تھی) سےاللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان فرماتے تھے۔
بعض محدثین کرام نے فرمایا کہ اس حدیثِ مبارک میں تکبیر سے مراد مطلق ذکر ہے،جس کی تائید حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری روایت سے ہوتی ہے جس میں "رفع الصوت بالذکر " کے الفاظ آتے ہیں۔
اسی طرح علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے ابنِ بطال رحمہ اللہ کے حوالہ سے یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ"أن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة، كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم"کا جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کو بیان فرماتے وقت حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا عمل بھی اس حدیث پر نہیں تھا ،ورنہ " كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم " کے جملہ کا معنی درست نہیں ہوگا،چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں نماز کے بعد تکبیر کہنے پر مداومت اور ہمیشگی اختیار نہیں فرمائی ،اور صحابہ کرام نے بھی اس کو لازم نہیں سمجھا اور اس کو ترک کردیا کہ کہیں لوگ اس کو نماز کے لیے لازم ہی نہ سمجھ بیٹھیں۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فرض نماز کے بعد انفرادی طور پر ذکر اللہ اور دعا تو مسنون ہے ،البتہ کسی خاص ذکر کو یا اللہ اکبر کہنے کو سنت کہنا مشکل ہے،ہاں اس کے مستحب ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔
ذیل میں احادیثِ مبارکہ کے ذخیرہ میں سے کچھ احادیث ذکر کی جاتی ہے،جن میں نماز کے بعد بعض دعا ؤں اور اذکار کا ذکر ہے،جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نماز کے بعد تکبیر کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیگر دعائیں اور اذکار بھی پڑھا کرتے تھے :
(1)حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا سلام پھیرتے ، تو یہ دعا پڑھتے:
’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.‘‘
(2) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذات پڑھاکرو۔
(3) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے لوٹتے تو تین مرتبہ استغفار پرھتے، پھر فرماتے:
’’أللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام.‘‘
سنن أبی داؤد میں ہے:
"عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: كان النبي صلى عليه وسلم إذا سلم من الصلاة، قال: ’’اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت."
(أبواب فضائل القرآن، باب ما يقول الرجل إذا سلم، ج:2، ص:622،رقم:1510، ط:المكتبة العصرية)
وفیہ ایضاً:
"عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقرأ بالمعوذات دبر كل صلاة ."
(أبواب فضائل القرآن، باب في الاستغفار، ج:2، ص:631، رقم:1523، ط: دارإحياء التراث العربي)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ثوبان رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا انصرف من صلاته، استغفر ثلاثا، وقال "أللهم أنت السلام ومنك السلام. تباركت يا ذا الجلال والإكرام". قال الوليد: فقلت للأوزاعي: كيف الاستغفار؟ قال: تقول: أستغفر الله، أستغفر الله."
(كتاب المساجد ومواضع الصلاة،باب استحباب الذكر بعد الصلاة، وبيان صفة،ج:1، ص:414،رقم الحديث: 591،ط: دارإحياء التراث العربي)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن معاذ بن جبل رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيده، وقال: يا معاذ، والله إني لأحبك، فقال: أوصيك يا معاذ لا تدعن في دبر كل صلاة تقول " أللهم أعني على ذكرك، وشكرك، وحسن عبادتك". وأوصى بذلك معاذ الصنابحي، وأوصى به الصنابحي أبا عبد الرحمن."
(أبواب فضائل القرآن، باب في الاستغفار، ج:2، ص:631،رقم الحديث:1522، ط:دار الرسالة العالمية)
لمعات التنقیح میں ہے:
"اختلفوا في بيان المراد به فقيل: المراد به الذكر بعد الصلاة، وفي الصحيحين عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، وقال ابن عباس رضي الله عنهما: كنت أعلم إذا انصرفوا بذلك إذا سمعته، ثم ذكر البخاري هذا الحديث الذي أورده المؤلف، فدل على أن المراد بالتكبير مطلق الذكر،وقيل: التكبيرات التي في الصلاة عند كل خفض ورفع، والمراد: أعرف انقضاء كل هيئة يتحول منها إلى أخرى، قاله الطيبي، وقيل: التكبير الذي ورد مع التسبيح والتحميد كبر ثلاثًا وثلاثين أو عشرًا،وقيل: كانوا يقولون: اللَّه أكبر، مرة أو ثلاثًا بعد الصلاة."
(کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ،الفصل الأول، ج:3، ص:91، رقم الحديث:960، ط: دارالنوادر)
فتح الباری میں ہے:
"قوله: (بالتكبير) هو أخص من رواية ابن جريج التي قبلها، لأن الذكر أعم من التكبير، ويحتمل أن تكون هذه مفسرة لذلك فكان المراد أن رفع الصوت بالذكر أي بالتكبير،وكأنهم كانوا يبدءون بالتكبير بعد الصلاة قبل التسبيح والتحميد."
(کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ،ج:2،ص:326،ط:المکتبۃ السلفية)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(عن ابن عباس قال: كنت أعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أي: انتهاءها (بالتكبير) : متعلق ب (أعرف) يعني: إذا فرغ من الصلاة يقول: الله أكبر،قال الأشرف: يعني كان يكبر الله في الذكر المعتاد بعد الصلاة، فأعرف انقضاء صلاته......وقال ابن حجر: هو بمعنى رواية الصحيحين عنه أيضا أنه قال: إن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأراد بالتكبير في الأول مطلق الذكر."
(کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ،ج:2،ص: 760،رقم الحدیث: 959،ط:دارالفکر)
فتح الملہم میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كنا نعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير ۔
قوله : (بالتكبير) الخ :لعل المراد بالتكبير مطلق الذكر الدال على كبريائه وعظمته سبحانه وتعالى، بقرينة قوله في الرواية الآتية : رفع الصوت بالذكر والله أعلم."
(کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ،ج:3، ص:443،ط: دار القلم)
عمدۃ القاری میں ہے:
"وقال ابن بطال: وقول ابن عباس: كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، فيه دلالة أنه لم يكن يفعل حين حدث به، لأنه لو كان يفعل لم يكن لقوله معنى، فكان التكبير في إثر الصلوات لم يواظب الرسول، صلى الله عليه وسلم، عليه طول حياته، وفهم أصحابه أن ذلك ليس بلازم فتركوه خشية أن يظن أنه مما لا تتم الصلاة إلا به، فذلك كرهه من كرهه من الفقهاء. وفيه: دلالة أن ابن عباس كان يصلي في أخريات الصفوف لكونه صغيرا. قلت: قوله: (إذا انصرفوا) ظاهره أنه لم يكن يحضر الصلاة بالجماعة في بعض الأوقات لصغره."
(کتاب الصلاۃ،باب الذکر بعد الصلاۃ،ج:6،ص:126،ط:دار إحياء التراث العربي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101376
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن