
آج کل ایک مسئلہ درپیش آ رہا ہے، پولیس والے بیس، بیس ہزار اور چالیس، چالیس ہزار کے چالان بھیج رہے ہیں، جبکہ ہماری اگر غلطی ہے مثال کے طور پر کسی نے بیلٹ نہیں باندھی ہے، یا کوئی گاڑی کے دوران موبائل فون استعمال کرتا ہے یا اوور سپیڈ کر رہا ہے، تو حکومت نے چالان بہت بڑھا دیے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر بیس ہزار کا چالان ہے تو رشوت دے کر دو ہزار روپے دے کر چلان معاف کروانا جائز ہوگا یا نہیں؟
واضح رہے کہ ٹریفک قوانین عوام الناس کی سلامتی اور آسانی کے لیے بنائے جاتے ہیں، لہٰذا اگر ان قوانین میں شریعت کے خلاف کوئی قانون نہ ہو تو ان کی پاسداری کرنا ضروری ہوتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی نے واقعتًا ٹریفک کا کوئی قانون توڑا اور اس پر قانونی جرمانہ عائد ہوا، تو اس جرمانہ کو معاف کرانے کے لیے پولیس والے کو رشوت دینا اور پولیس والے کا رشوت لینا دونوں ناجائز و حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: «لعن رسول الله الراشي والمرتشي» رواه أبو داود، وابن ماجه.
(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة. وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."
(کتاب الأمارۃ و القضاء، باب رزق الولاۃ و هدایاهم، ج: 7، ص: 295، دار الکتب العلمیة)
رد المحتار میں ہے:
"وتجب طاعة الإمام عادلا كان أو جائرا إذا لم يخالف الشرع."
(کتاب الجھاد، باب البغاۃ، ج: 4، ص: 263، ط: سعید)
وفیہ ایضًا:
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لاستخراج حقّ له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ."
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ج: 6، ص: 423، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101342
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن