بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الاول 1448ھ 09 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت کی نماز میں مقتدی سے غلطی ہوجائے تو سجدہ سہو کا حکم


سوال

اگر ہم سے باجماعت نماز میں امام صاحب کے پیچھے کوئی غلطی ہو جائے،یا کوئی چیز چھوٹ جائے، یا کوئی بھی نماز میں کوتاہی ہو چکی ہو، اور امام اپنی نماز کی وجہ سے سجدہ سہو نہ کرے، تو اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہوگا؟ میری نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام کی اقتدا کے دوران کوئی ایسی غلطی ہو جائے یا کوئی چیز چھوٹ جائے جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں اقتدا کی وجہ سے مقتدی پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے :

فأما المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه؛ لأنه لايمكنه السجود؛ لأنه إن سجد قبل السلام كان مخالفًا للإمام، وإن أخره إلى ما بعد سلام الإمام يخرج من الصلاة بسلام الإمام؛ لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه، فكان سهوه فيما يرجع إلى السجود ملحقًا بالعدم لتعذر السجود عليه، فسقط السجود عنه أصلاً."

(کتاب الصلاۃ، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لايجب عليه سجود السهو،ج: 1،ص:  175، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں