
جب ہم غسل کرتے ہیں تو اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں کہ اچھی طرح غسل کریں لیکن اگر کبھی جسم کا کوئی حصہ سوکھا رہ جائے اور ہمیں پتہ نہ ہو، ہم اپنی طرف سے پوری طرح مطمئن ہوں کہ غسل ہو گیا ہے لیکن کوئی حصہ سوکھا ہو تو اس صورت میں غسل ہو گا کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل جب اچھی طرح غسل کر لے اور پوری طرح مطمئن ہو جائے کہ کوئی جگہ سوکھی نہیں ہے اور غسل ہو گیا، تو اس صورت میں سائل کا غسل ہو جاتا ہے، محض وہم اور وسوسہ کی وجہ سے غسل میں کوئی فرق نہیں آتا ہے۔ البتہ اگر بعد میں پتہ چلا کہ واقعتاً جسم کا کوئی حصہ خشک رہ گیا ہے، تو بعد میں اس جگہ کو دھونا ضروری ہے، اس کو دھوئے بغیر غسل نہیں ہوتا ہے۔
فتح القدیر میں ہے :
"ولو لزق بأصل ظفره طين يابس ونحوه أو بقي قدر رأس الإبرة من موضع الغسل لم يجز."
(كتاب الطهارات، ج:1، ص؛16، ط:دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو بقيت على العضو لمعة لم يصبها الماء فصرف البلل الذي على ذلك العضو إلى اللمعة جاز. كذا في الخلاصة."
(كتاب الطهارة ، الباب الأول في الوضوء ، الفصل الأول في فرائض الوضوء،ج: 1، ص: 5، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن