
میں اپنے دوست کے کرائے کے مکان میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں دوست کے بھائی کے ساتھ گپ شپ کے دوران کچھ چھیڑ چھاڑ ہو رہی تھی، اس پر میرے دوست نے تکبر انہ لہجے میں کہا: "مکان میں بھی بیٹھے ہو اور لڑکے کو بھی چھیڑ رہے ہو۔" اس بات پر مجھے غصہ آ گیا اور میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہا تھا، اسی دوران میں نے پشتو میں یہ الفاظ کہے: "اوہ طلاق دی کہ پہ ٹول زوند تہ مکان تہ راغلم" ، یعنی "سات طلاقیں ہیں اگر میں ساری زندگی آپ کے مکان میں آیا۔" غصے میں یہ بات کرتے وقت جب میری زبان پر مکان کا لفظ آیا تو میں نے آنکھیں نیچے کر کے سر ہلا کر مکان کی طرف اشارہ کیا ، جب کہ ہاتھ سے میں نے کوئی اشارہ نہیں کیا،اس کے بعد میں فوراً کھڑا ہو کر اس گھر سے نکل گیا، اس کے بعد میں چار یا پانچ سال تک اس کے اس کرائے کے مکان میں نہیں گیا، پھر چار یا پانچ سال بعد میرے دوست نے وہ مکان چھوڑ دیا اور دوسری جگہ کرائے کا مکان لے لیا، انہوں نے مجھے کہا کہ اب ہمارے مکان آؤ، میں نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ کی مراد وہی سابقہ مکان تھا تو آپ اس کے دوسرے مکان میں جا سکتے ہیں اور آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ چناں چہ میں اپنے دوست کے دوسرے مکان میں چلا گیا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میں دوست کے دوسرے مکان میں بھی نہیں جا سکتا تھا۔ لہٰذا اب میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟
وضاحت: ہمارے عرف میں مکان رہائش کے لیے کرائے پر لیے ہوئے گھر کو کہتے ہیں، اور میں نے یہ جملہ کہتے وقت اس طرح تو نہیں کہا تھا کہ "آپ کے اس مکان" لیکن میرے ذہن میں آرہا ہے کہ میری مراد وہی گھر تھا، جس میں ہم بیٹھے تھے، نیز میرے دوست نے جو نیا مکان کرائے پر لیا تھا وہ اسے اپنی اور فیملی کی رہائش کے لیے بھی استعمال کرتا تھا، اور اس میں کاروبار کا سامان بھی رکھتا تھا، یعنی بطور گودام بھی استعمال کرتا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے دوست کے مکان میں بیٹھے ہوئے جب یہ جملہ کہا کہ " اوہ طلاق دی کہ پہ ٹول زوند تہ مکان تہ راغلم" ، یعنی "سات طلاقیں ہیں اگر میں ساری زندگی آپ کے مکان میں آیا۔"،اور تو اس جملے میں مکان سے مراد آپ کے اس دوست کا رہائشی مکان ہے، خواہ ذاتی ہو یا کرایہ کا ہو، لہذا اس دوست کے کسی بھی رہائشی مکان میں جانے پر تین طلاقیں معلق ہو گئی تھیں، دوم یہ کہ اگر سائل کا مقصد کوئی خاص مکان تھا تو سائل کے لیے ضروری تھا کہ اس مکان کی طرف نشاندہی کر کے وضاحت کر دیتا کہ اس مکان میں، لیکن ایسا کرنے کی بجائے صرف آنکھ سے اشارہ کرنا کافی نہ تھا، لہذا چار پانچ سال بعد جب دوست نے مکان تبدیل کر لیا، اور آپ اس کے رہائشی مکان میں چلے گئے، تو مکان میں داخل ہوتے وقت آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو چکا ہے ، اور بیوی آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے، اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، بیوی اپنی عدت مکمل تین ماہورایاں اگر حاملہ نہ ہو، حمل کی صورت میں وضع حمل تک کا عرصہ گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز ومعناه كون محل الحقيقة فردا من أفراد المجاز.
مطلب لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى
(قوله ولو تبعا) حتى لو حلف لا يدخل دار أمه أو بنته وهي تسكن مع زوجها حنث بالدخول نهر عن الخانية.
قلت: وهو خلاف ما سيذكره آخر الأيمان عن الواقعات لكن ذكر في التتارخانية أن فيه اختلاف الرواية ويظهر لي أرجحية ما هنا حيث كان المعتبر نسبة السكنى عرفا ولا يخفى أن بيت المرأة في العرف ما تسكنه تبعا لزوجها وانظر ما سنذكره آخر الأيمان (قوله أو بإعارة) أي لا فرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهر نهر أي لأنها ليست مسكنا له (قوله باعتبار عموم المجاز إلخ) مرتبط بقوله يراد يعني أن الأصل في دار زيد أن يراد بها نسبة الملك، وقد أريد بها ما يشمل العارية ونحوها وفيه جمع بين الحقيقة والمجاز وهو لا يجوز عندنا. فأجاب بأنه من عموم المجاز بأن يراد به معنى عام يكون المعنى الحقيقي فردا من أفراده وهو نسبة السكنى: أي ما يسكنها زيد بملك أو عارية، لكن بقي ما إذا دخل دارا مملوكة لزيد وساكنها غيره فحلف رجل لا يدخل دار زيد، فمقتضى كون المعتبر نسبة السكنى أن لا يحنث وفي المجتبى عن الإيضاح أن فيه عن محمد روايتين، وقيل: إذا كان لزيد دار غيرها يسكنها لم يحنث وإلا فيحنث. "
(كتاب الأيمان، باب اليمين في الدخول والخروج۔۔، ج:3، ص:760، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا حلف لا يدخل دار فلان فاستعار المحلوف عليه دارا لاتخاذ الوليمة فدخلها الحالف لا يحنث إلا أن ينتقل المعير من تلك الدار ويسلمها إلى المستعير والمستعير نقل متاعه إليها فإذا دخلها الحالف حينئذ يحنث في يمينه كذا في المحيط."
(كتاب الأيمان،الباب الثالث في اليمين على الدخول والسكنى وغيرهما،ج:2، ص؛71، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودةً ويكون المعنى فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولايلزم كون الإضافة صريحةً في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له: من عنيت؟ فقال: امرأتي، طلقت امرأته، العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله: إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها؛ لأنه يحتمله كلامه".
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، مطلب سن بوشن ،348/3، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر".
(كتاب الطلاق، فصل في النية في نوعي الطلاق، 102/3، دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101219
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن