
میری دکان مارکیٹ میں تھی،ایک مسجد کی انتظامیہ نے بغیر اجازت کے میری دکان مسجد میں شامل کردی۔ کیا ان کو یہ حق حاصل تھا کہ بغیر اجازت کے مسجد میں میری دکان شامل کردیں؟اور کیا ہم دکان کی قیمت کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟اب تو دکان مسجد میں شامل ہوگئی ہے بس ہمیں دکان کی آدھی قیمت چاہیے،کیونکہ اب میں کام نہیں کرسکتا اور باقی آدھی قیمت کا اللہ کے گھر کی خاطر میں مطالبہ نہیں کررہا۔
واضح رہے کہ کسی کی جائیداد(مکان،دکان وغیرہ)اس کی اجازت کے بغیر مسجد میں شامل کرنا غصب ہے جوکہ بہت بڑا گناہ ہے،پس صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ مسجد کے انتظامیہ نے سائل کی دکان کو بلااجازت مسجد میں شامل کردیا ہو،تو انتظامیۂ مسجد پر لازم ہے کہ سائل کو راضی کرے اور اس کو دکان کی پوری قیمت ادا کرے، قیمت ادا کیے بغیر مسجد انتظامیہ کا اس کو استعمال کرنا جائز نہیں اور اس حصے میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔
نیز اگر سائل دکان کی آدھی قیمت چھوڑ کر آدھی قیمت کا مطالبہ کررہا ہے تو جائز ہے اور یہ آدھی قیمت چھوڑنا سائل کی طرف سے تبرع اور نیکی ہوگی۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»متفق عليه."
"حضرت سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین اس کے گلے میں بطورِ طوق ڈالی جائے گی۔" ( بخاری ومسلم)
(كتاب البيوع،باب الغصب والعارية،الفصل الأول،ج: 2،ص: 887،رقم الحديث: 2938،ط: المكتب الإسلامي بيروت)
خیرالفتاوی میں ہے:
"ایسے مکانات جو کہ بلا اجازت حکومت کے مسجد بنا دیئے گئے ہیں اگر اہل حکومت ان مکانات کی قیمت طلب کرے تو بلا تامل قیمت ادا کر دی جائے تاکہ وہ مکانات صحیح معنی میں مسجد بن جائیں ورنہ ان کے اندر نماز مکروہ ہوتی رہے گی۔ فقط واللہ اعلم
الجواب صحیح
بندہ محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ، مفتی خیر المدارس ملتان۔ پاکستان۔"
وفیہ ایضاً:
"غصب شدہ زمین پر بنائی ہوئی مسجد میں نماز مکروہ ہے
ہماری مملوکہ زمین قدیم سے مسجد کے ساتھ متصل چلی آرہی ہے۔ اب مسجد کی تعمیرِ جدید کے وقت کچھ لوگوں نے جبراً ہماری زمین مسجد میں شامل کرلی ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب:
اگر واقعہ یہ مسجد کسی کی مملوکہ زمین میں اس کی رضا مندی کے بغیر تعمیر ہو رہی ہے تو اس حصہ میں نماز مکروہ ہے اور تعمیر درست نہیں۔
وكذا تكره في أماكن كفوق كعبة وفي طريق ۔۔۔۔۔۔۔ وأرض مغصوبة أو للغير ۔ اھ (درمختار علی الشامیہ ج1 ص351)۔فقط واللہ اعلم
الجواب صحیح
بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ ،مفتی خیرالمدارس ملتان۔"
(کتاب الصلاۃ،مایتعلق باحکام المساجد،ج: 2،ص: 751،725،ط: مکتبہ امدادیہ ملتان)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
"ناجائز قبضہ کی گئی زمین پر مسجد کی تعمیر اور اس میں نماز کا حکم
سوال:...ایک مسجد جس کی تعمیر ایسی جگہ پر کی گئی ہے جو کہ ایک بیوہ عورت کی ملکیت ہے، اور وہ عورت یہ جگہ مسجد کو دینے کے لئے ہرگز تیار نہیں، اس کی غصب کی جگہ پر زبردستی مسجد تعمیر کر دی گئی ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ مسجد جس کی تعمیر ناجائز جگہ پر ہوئی ہے، نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:...کسی بیوہ کی جگہ پر زبردستی مسجد تعمیر کر دینا، یہ غصب ہے، اور جتنے لوگ اس مسجد میں نماز پڑھیں گے، وہ سب کے سب گناہگار ہوں گے۔ مسجد کے نمازیوں کو چاہئے کہ اس بیوہ کو اس کی قیمت دے کر راضی کرلیں، تب یہ نماز صحیح ہوگی۔"
(مسجد کے مسائل،ج: 3،ص: 239،ط: مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101204
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن