بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1448ھ 26 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر ملکی مصنوعات کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

میرے ایک بھائی شدید مالی تنگی اور قرض کے بوجھ میں مبتلا ہیں، قرض کی ادائیگی کے لیے انہوں نے مختلف ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی مناسب ذریعہ معاش میسر نہ آ سکا، اب مجبوری کے پیش نظر انہوں نے کولڈ ڈرنکس کی سپلائی اور ان کی تجارت و کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے، واضح رہے کہ ان کا کاروبار صرف اسرائیلی کمپنیوں کی کولڈ ڈرنکس تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ مختلف کمپنیوں اور مختلف ممالک کی کولڈ ڈرنکس کی سپلائی پر مشتمل ہوگا، تاہم مارکیٹ کی طلب کے پیش نظر دیگر مصنوعات کے ساتھ اسرائیلی کمپنیوں کی کولڈ ڈرنکس بھی کاروبار کا ایک حصہ ہوگی۔ نیز یہ مصنوعات براہ راست غیر مسلم یا بیرون ملک کمپنیوں سے درآمد نہیں کی جاتیں، بلکہ پاکستان میں موجود ڈسٹریبیوٹرز، ہول سیلرز یا کمپنیوں (جو عموما مسلمان تاجروں کے زیر انتظام ہیں) سے خرید کر آگے سپلائی کی جائے گی۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1. مذکورہ صورت میں ایسا کاروبار کرنا شرعا جائز ہے یا ناجائز؟ اگر جائز ہے تو کیا بلا کراہت جائز ہے یا کراہت تنزیہی کے ساتھ؟ اور اگر ناجائز ہے تو کیا اس کی ممانعت کراہت تحریمی کے درجے میں ہے یا حرمت کے درجے میں؟

2. اگر مذکورہ کاروبار اختیار کیا جائے، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا وہ حلال ہوگی یا اس میں کوئی شرعی قباحت پائی جاتی ہے؟

3. اسرائیلی مصنوعات کیا کیا ہیں؟

جواب

1، 2: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کاروبار  اور اس کی آمدن جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی قومی یا مسلمانوں کی مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔اور اگر واقعتًا کسی چیز کے بارے میں اسرائیلی مصنوعات میں سے ہونا ثابت ہوجائے تو دینی حمیت کا تقاضا ہے کہ اس کے کاروبار سے احتیاط  کی جائے۔

3: اسرائیلی مصنوعات کی تفصیل کے لیے دیگر معتبر ذرائع سے تحقیق کر لی جائے۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام، ونحو ذلك إليهم؛ لانعدام معنى الإمداد، والإعانة، وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى."

(كتاب السير، ج:7، ص:102، ط:دار الكتب العلمية)

شرح السیر الکبیر میں ہے:

"ولا بأس بأن يبيع المسلمون من المشركين ما بدا لهم من الطعام والثياب وغير ذلك، إلا السلاح والكراع، والسبي سواء دخلوا إليهم بأمان أو بغير أمان، لأنهم يتقوون بذلك على قتال المسلمين، ولا يحل للمسلمين اكتساب سبب تقويتهم على قتال المسلمين، وهذا المعنى لا يوجد في سائر الأمتعة."

(باب هدية أهل الحرب، ج:4، ص:80، ط:دار الكتب العلمية)

و فيه أيضا:

"وقد بينا أنه لا يستحب للمسلمين أن يدخلوا دار الحرب شيئا مما فيه منفعة أهل الحرب لأن ذلك يقويهم على عبادة غير الله تعالى. فإن أدخلوا ذلك دارهم لم يمنعوا ما خلا الكراع والسلاح... فإن كان شيء من الدواب لا يصلح لذلك ولا يلقح أيضا وإنما يشترونه للأكل خاصة فلا بأس بإدخاله بلادهم، بمنزلة سائر الأطعمة... والحاصل أن ما ليس بسلاح بعينه فإن كان الغالب عليه أن يراد لغير السلاح، وقد يراد للسلاح، فلا بأس بإدخاله إليهم. لأن الحكم للغالب والنادر لا يظهر في مقابلة الغالب."

(باب ما يحل للمسلمين... من التجارات، ج:4، ص:284-285، ط:دار الكتب العلمية)

کفایت المفتی میں ہے:

"شریعت مقدسہ اسلامیہ کا یہ حکم نہیں ہے کہ کافر سے کوئی معاملہ نہ کرو، بیع و شر ا، داد و سِتَد کفار کے ساتھ جائز ہے... آنحضرت  صلی اللہ علیہ و سلم نے حربی کافر سے بھی بیع و شرا کی ہے... بہر حال کفار کے ساتھ معاملات رکھنا نا جائز نہیں ہے، نہ ممنوع ہے ... خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ ان کے مذہب کی پسندیدگی کے لحاظ سے دوستی اور محبت رکھنا تو حرام ہے اور محض یکجائی سکونت اور ہم سائیگی کے طور پر یا تمدنی اور معاشرتی ضرورتوں کی وجہ سے ان سے مانا اور بات چیت کرنا، ان کے ساتھ بیع و شر ا کر نا، ہد یہ دینا، ہدیہ قبول کرنا یہ سب جائز اور مباح ہے۔"

(کتاب السیاسیات، دوسرا باب، ج:9، ص:317، جواب:455، ط:دار الاشاعت)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں