
ہمارے والد کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں بیوہ ،چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ،پھر ایک بیٹے نے کہا کہ والد کے ترکہ میں سے 8 لاکھ مجھے دے دو، باقی جب تقسیم ہوگی تو مجھے دے دینا ،ہم نے ایسا ہی کیا ، اور اس کے بعد ہم نے ترکہ سے ایک مکان بھی خریدا۔
پھر ہماری والدہ کا انتقال ہوا ،ورثاء میں چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔مرحوم والدین کے والدین ان کی زندگی میں انتقال کرچکے تھے ۔
اب سوال یہ ہے کہ مرحوم والدین کا ترکہ ان کے ورثاء میں شرعی طور پر کس طرح تقسیم ہوگا؟اور جس بھائی نے 8لاکھ روپے پہلے لئے تھے تو کیا وہ اس کے حصے سے کاٹ دیے جائیں گے ؟
صورت مسئولہ میں مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 9 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے کر کے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصہ مرحوم والدین کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے :
مرحوم والدین ۔۔۔۔9
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 |
اور فیصد کے اعتبار سے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 22.22 فیصد اور مرحوم والدین کے اکلوتی بیٹی کو 11.11 فیصد ملے گا۔
اور میراث تقسیم ہونے سے پہلے جس وارث نے 8لاکھ روپے لئے تھے ،تو تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے میراث تقسیم ہونے سے پہلے اس کا یہ رقم لینا شرعا درست تھا، میراث تقسیم ہونے کے وقت یہ رقم اس کےحصے سے کاٹ لی جائے گی ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه".
(كتاب الشركة ، 2/ 301، ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101115
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن