بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث تقسیم ہونے سے پہلے اپنے حصے سے رقم لینے کا حکم


سوال

ہمارے والد کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں  بیوہ ،چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ،پھر ایک بیٹے نے کہا کہ والد کے ترکہ میں سے 8 لاکھ مجھے دے دو، باقی جب تقسیم ہوگی تو مجھے دے دینا ،ہم نے ایسا ہی کیا ، اور اس کے بعد ہم نے ترکہ سے  ایک مکان بھی  خریدا۔

پھر ہماری والدہ کا انتقال ہوا ،ورثاء میں چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔مرحوم والدین کے والدین ان کی زندگی میں انتقال کرچکے تھے ۔

اب سوال یہ ہے کہ مرحوم والدین کا ترکہ ان کے ورثاء میں شرعی طور پر کس طرح تقسیم ہوگا؟اور جس بھائی نے 8لاکھ روپے پہلے لئے تھے تو کیا وہ اس کے حصے سے کاٹ دیے جائیں گے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی  تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد باقی ماندہ  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 9 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے کر کے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصہ مرحوم والدین کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

مرحوم والدین ۔۔۔۔9

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی
22221

اور فیصد کے اعتبار سے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 22.22 فیصد  اور مرحوم والدین کے اکلوتی بیٹی کو 11.11 فیصد ملے گا۔

اور میراث تقسیم ہونے سے پہلے جس وارث نے 8لاکھ روپے  لئے تھے ،تو تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے میراث تقسیم ہونے سے پہلے اس کا یہ  رقم لینا شرعا درست تھا، میراث تقسیم ہونے کے وقت یہ رقم اس کےحصے سے کاٹ لی جائے گی ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه".

(كتاب الشركة ، 2/ 301، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں