
میری نانی نے میری والدہ کو اپنے انتقال سے دو سال پہلے کچھ سونا گفٹ دیا تھا اور اس کو حوالے بھی کر دیا تھا تاکہ میری اور میری بہن اور بھائی کی شادی کے وقت کام آئے پھر نانی کا انتقال ہو گیا ،آیا یہ ترکہ میں شامل ہوگا؟ یا صرف ہمارا ہے ۔
تنقیح: دادی کے الفاظ یہ تھے:"میں رہوں یا نہ رہوں یہ سونا تم رکھ لو ،بچوں کی شادی میں کام آئے گا۔
صورت مسئولہ میں اگر آپ کی نانی نے آپ کی والدہ کو سونا یہ کہہ کرگفٹ کیا تھا کہ:"یہ سونا تم رکھ لو ،بچوں کی شادی میں آئے گا" اور باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی سائل کی والدہ کو دے دیا تھا تو شرعاً یہ سونا سائل کی والدہ کا ہوگیا ؛ لہذا اب نانی کی وفات کے بعد یہ سونا ورثاء میں تقسیم نہیں ہوگا ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل
(كتاب الهبة،ج:5، ص:691،ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101114
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن