بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو لنک کے ذریعے دی جانے والی گواہی معتبر نہیں


سوال

ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی کا کیا حکم ہے، اگر ویڈیو میں حتی الامکان تزویر اور تلبیس کو ختم کر دیا جائے، تو کیا پھر یہ درست ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ  شرعی طور پر گواہ کا قاضی کی مجلس میں حاضر ہو کر گواہی دینا ضروری ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ویڈیو لنک کے ذریعے دی جانے والی گواہی شرعاً معتبر نہیں ہوگی، اگرچہ اس میں تمام ممکنہ شبہات دور کر دیے جائیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويشترط حضور الشهود عند القضاء في قول العامة هكذا في التبيين."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:283، ط:دارالفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں