بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الاول 1448ھ 07 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ مختلف روایات کی تحقیق وتفصیل


سوال

درج ذیل احادیث  کے بارے میں حوالہ ، سند اور تشریح کے ساتھ رہنمائی کیجیے :

1) حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ : تم میں سے جو شخص فتوی دینے اور مسئلہ بتانے میں زیادہ جلد بازی کرنے والا ہے وہ جہنم میں داخل ہونے میں زیادہ سبقت کرنے والا ہے۔

2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک کی اطاعت کو بندوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی محبت سے ملانے سے بچتے رہو ،کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔

3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان انسان کے دل پر اپنی سونڈ رکھ دیتا ہے ،اگر وہ اللہ پاک کا ذکر کرے تو وہ سکڑ جاتا ہے اور اگر اللہ پاک کو بھول جائے تو اس کے دل کو لقمہ بنا دیتا ہے۔

4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص ایسی قبر پر گزرے جسے دنیا میں جانتا تھا اور اس پر سلام کرے تو وہ مردہ اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔

5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو اللہ پاک کی راہ میں سر درد میں مبتلا ہو پھر اس پر صبر کرے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

جواب

مذكوره روايات كے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں : 

1۔ روایت ’’أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ‘‘ کی تحقیق وتفصیل :

’’سنن دارمي‘‘  ميں ہے : 

" أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ ﷺ: أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ. "

يعني عبیداللہ بن أبی جعفر ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو فتویٰ دینے میں سب سے جری ہے، وہی سب سے زیادہ جہنم میں جانے کے لئے جرأت کرنے والا ہے۔

(سنن الدارمي، باب الفتيا وما فيه من الشدة، (ص: 132) برقم (162 )، ط/ دار البشائر، بيروت)

حكمِ حديث:

عبید اللہ بن ابی جعفر ؒ تک یہ سند صحیح ہے، لیکن عبید اللہ بن ابی جعفر ؒ جن کی وفات 136ھ میں ہوئی، تبع تابعین میں سے ہیں، اور ان کی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے روایت معروف نہیں ہے، لہٰذا ان کی یہ حدیث ’’معضل‘‘  کہلاتی ہے، اور یہ حدیثِ ضعیف کی اقسام میں سے ہے، کیونکہ اس کی سند متصل نہیں ہے۔

’’ سیر أعلام النبلاء‘‘ میں ہے : 

" عُبَيْدُ اللهِ بنُ أَبِي جَعْفَرٍ المِصْرِيُّ الكِنَانِيُّ مَوْلاَهُم  ... وَعَنْهُ: عَمْرُوبنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ، وَعُمَارَةُ بنُ غَزِيَّةَ، وَسَعِيْدُ بنُ أَبِي أَيُّوْبَ ... وَقَالَ أَبُو سَعِيْدٍ بنُ يُوْنُسَ: تُوُفِّيَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاَثِيْنَ وَمائَةٍ." 

(سير أعلام النبلاء، (6/ 8 و9 و10) ، ط/ مؤسسة الرسالة)

’’الکفایۃ فی علم الروایۃ ‘‘ میں ہے :

  " أما ما رواه تابع التابعي عن النبي صلى الله عليه وسلم فيسمونه : المعضل، وهو أخفض مرتبة من المرسل. "

یعنی تبعِ تابعی جب نبی کریم ﷺ سے براہِ راست روایت نقل کرے تو اسے محدثین کی اصطلاح میں ’’معضل‘‘ کہتے ہیں، اور یہ مرسل سے بھی کم درجے کی روایت ہے۔

 (الكفاية، (ص: 21)، ط/ المكتبة العلمية، المدينة المنورة) 

لہذا یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم اس کا مفہوم درست ہے،  جو شخص بغیر تحقیق و تثبت کے اور دلائل میں غور وفکر کیے بغیر فتویٰ دینے کی جلدی کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو جہنم میں داخل ہونے کا سبب فراہم کرتا ہے۔

تشریح :

’’فيض القدير‘‘ للمناوی ؒ میں ہے : 

" (اجرؤكم على الفتيا) بضم الفاء أي أقدمكم على إجابة السائل عن حكم شرعي من غير تثبت وتدبر والإفتاء بيان حكم المسألة. قال في الكشاف: الفتوى الجواب في الحادثة اشتقت على طريق الاستعارة من الفتي في السن (أجرؤكم على النار) أقدمكم على دخولها لأن المفتي مبين عن الله خكمه فإذا أفتى على جهل أو بغير ما علمه أو تهاون في تحريره أو استنباطه فقد تسبب في إدخال نفسه النار لجرأته على المجازفة في أحكام الجبار {الله أذن لكم أم على الله تفترون} قال الزمخشري: كفى بهذه الآية زاجرة زجرا بليغا عن التجوز فيما يسأل من الأحكام وباعثة على وجوب الاحتياط فيها وأن لا يقول أحد في شيء جائز أو غير جائز إلا بعد إتقان وإيقان ومن لم يوقن فليتق الله وليصمت وإلا فهو مفتر على الله تعالى انتهى. وقال ابن النكدر: المفتي يدخل بين الله [ص:159] وبين خلقه فلينظر كيف يفعل فعليه التوقف والتحرز لعظم الخطر. كان ابن عمر إذا سئل قال: اذهب إلى هذا الأمير الذي تقلد أمر الناس فضعها في عنقه وقال: يريدون أن يجعلونا جسرا يمرون علينا على جهنم فمن سئل عن فتوى فينبغي أن يصمت عنها ويدفعها إلى من هو أعلم منه بها أو من كلف الفتوى بها وذلك طريقة السلف. وقال ابن مسعود: الذي يفتي عن كل ما يستفتى عنه مجنون. قال الماوردي: فليس لمن تكلف ما لا يحسن غاية ينتهي إليها ولا له حد يقف عنده ومن كان تكلفه غير محدود فأخلق به أن يضل ويضل وقال الحكماء: من العلم أن لا تتكلم فيما لا تعلم بكلام من يعلم فحسبك خجلا من نفسك وعقلك أن تنطق بما لا تفهم وإذا لم يكن إلى الإحاطة بالعلم من سبيل فلا عار أن تجهل بعضه وإذا لم يكن في جهل بعضه عار فلا تستحي أن تقول لا أعلم فيما لا تعلم وقال ابن أبي ليلى: أدركت مئة وعشرين صحابيا وكانت المسألة تعرض على أحدهم فيردها إلى الآخر حتى ترجع إلى الأول قال حجة الإسلام فانظر كيف انعكس الحال صار المرهوب منه مطلوبا والمطلوب مرهوبا؟ وبما تقرر علم أنه يحرم على المفتي التساهل وعليه التثبت في جوابه ولو ظاهرا فلا يطلق في محل التفصيل فهو خطأ وإذا سئل عن قائل ما يحتمل وجوها كثيرة فلا يطلق بل يقول إن أراد كذا فكذا وينبغي أن لا يفتي مع وجود شاغل لفكره كالقضاء

(الدارمي) عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي في سنده المشهور له بالترجيح المستحق لأن يسمى بالصحيح. قال الحافظ ابن حجر: مسند الدارمي ليس دون السنن في الرتبة بل لو ضم إلى الخمسة لكان أولى من ابن ماجه فإنه أمثل منه بكثير (عن عبد الله) بالتصغير (ابن أبي جعفر مرسلا) هو أبو بكر المصري الفقيه أحد الأعلام والأئمة الكبار. "

یعنی «أجرؤكم على الفتيا» میں فتیا کے فاء پر ضمہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص کسی شرعی حکم کے بارے میں سوال کرنے والے کو بغیر پوری طرح تحقیق، غوروفکر اور اطمینان کے جواب دینے میں زیادہ جلدی کرے،اور افتاء سے مراد کسی مسئلے کا شرعی حکم بیان کرنا ہے۔

امام زمخشری ؒنے ’’الکشاف‘‘ میں لکھا ہے کہ: فتویٰ کسی پیش آنے والے واقعے کا جواب ہوتا ہے، اور یہ لفظ بطورِ استعارہ ’’فتیٰ‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی جوانی کے ہیں۔

«أجرؤكم على النار»یعنی تم میں سے جو شخص فتویٰ دینے میں سب سے زیادہ بے باک ہے، وہ گویا آگ میں داخل ہونے کے معاملے میں بھی سب سے زیادہ بے باک ہے۔ اس لیے کہ مفتی اللہ تعالیٰ کے حکم کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، چنانچہ اگر وہ بغیر علم کے فتویٰ دے، یا اپنے علم کے خلاف حکم بیان کرے، یا مسئلے کی تحقیق و تنقیح اور شرعی حکم نکالنے میں سستی کرے تو اس کی یہ بے باکی اسے جہنم میں داخل ہونے کا سبب بن سکتی ہے؛ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ، جو زبردست حاکم ہے، کے احکام میں بے احتیاطی اور جسارت سے کام لیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿اللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ"کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو؟"

زمخشری ؒکہتے ہیں: یہ آیت شرعی احکام کے بارے میں بے بنیاد اور بے تکلف بات کرنے سے روکنے کے لیے کافی سخت تنبیہ ہے، اور اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ان مسائل میں پوری احتیاط لازم پکڑی جائے،کسی شخص کو کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم پوری طرح تحقیق اور یقین حاصل کیے بغیر نہیں لگانا چاہیے۔ اور جسے یقین نہ ہو، اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور خاموش رہے؛ ورنہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا ہوگا۔

ابن منکدر ؒ فرماتے ہیں:مفتی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ بنتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے، پس اتنے بڑے خطرے کی وجہ سے اس کے لیے ضروری ہے کہ فتویٰ دیتے وقت رک کر سوچے اور پوری احتیاط سے کام لے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب کوئی سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے:اس شخص کے پاس جاؤ جس نے لوگوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، اور یہ مسئلہ اس کی گردن میں ڈال دو۔ اور وہ یہ بھی فرماتے تھے:لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں جہنم کے اوپر سے گزرنے کے لیے پل بنا لیں۔

لہٰذا جس شخص سے کسی شرعی مسئلے کا فتویٰ پوچھا جائے، اسے چاہیے کہ اگر وہ اس مسئلے کا اہل نہ ہو تو خاموش رہے، اور مسئلہ اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے سپرد کر دے، یا اسے اس شخص کی طرف بھیج دے جسے فتویٰ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، یہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو شخص ہر اس مسئلے کا فتویٰ دینے لگے جس کے بارے میں اس سے پوچھا جائے، وہ دیوانہ ہے۔

امام ماوردی ؒ فرماتے ہیں:جو شخص ایسی چیز میں دخل دے جسے وہ اچھی طرح نہیں جانتا، اس کے لیے رکنے کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی اور نہ کوئی ایسی منزل ہوتی ہے جہاں وہ خود کو روک لے، اور جب اس کا یہ تکلف اور بے جا جسارت بے حد ہو جائے تو اس کے بارے میں یہی مناسب ہے کہ وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔

اہلِ حکمت نے کہا ہے:علم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جس بات کو تم نہیں جانتے، اس میں جاننے والے کی طرح گفتگو نہ کرو۔ اپنے نفس اور اپنی عقل کے لیے اس سے بڑھ کر شرمندگی کی بات کیا ہوگی کہ تم ایسی بات زبان سے نکالو جسے خود سمجھتے ہی نہیں، اور جب تمام علوم کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں تو بعض چیزوں سے ناواقف ہونا کوئی عیب نہیں۔ پھر جب کسی چیز سے ناواقف ہونا عیب نہیں، تو جس چیز کو تم نہیں جانتے اس کے بارے میں"میں نہیں جانتا"کہنے سے بھی شرمانا نہیں چاہیے۔

ابن ابی لیلیٰ  ؒ فرماتے ہیں:میں نے ایک سو بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پایا، ان میں سے کسی ایک کے سامنے جب کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو وہ اسے دوسرے کی طرف لوٹا دیتا، پھر دوسرا تیسرے کی طرف، یہاں تک کہ وہ مسئلہ گھوم پھر کر پہلے شخص ہی کے پاس واپس آجاتا۔

حجۃ الاسلام امام غزالی  ؒ فرماتے ہیں:ذرا دیکھو کہ حالات کیسے الٹ گئے ہیں! جو چیز پہلے باعثِ خوف تھی، آج وہی مطلوب بن گئی ہے، اور جو چیز پہلے مطلوب تھی، آج اسی سے خوف کیا جانے لگا ہے۔

ان تمام باتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مفتی کے لیے فتویٰ دینے میں سستی اور بے احتیاطی کرنا حرام ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ جواب دینے میں پوری تحقیق اور تثبت سے کام لے۔ اسی طرح جہاں مسئلے میں تفصیل ہو وہاں فوراً مطلق حکم لگا دینا بھی درست نہیں، بلکہ یہ غلطی ہوگی، اور اگر کسی شخص کی بات ایسی ہو جس کے کئی مختلف مفہوم نکل سکتے ہوں تو بھی فوراً قطعی حکم نہ لگایا جائے، بلکہ یہ کہا جائے:اگر اس شخص کی مراد یہ ہے تو حکم یہ ہوگا، اور اگر اس کی مراد وہ ہے تو حکم وہ ہوگا،اسی طرح مناسب ہے کہ مفتی ایسے وقت فتویٰ نہ دے جب اس کا ذہن کسی دوسرے کام میں مشغول ہو، مثلاً قضاء اور عدالتی فیصلے کی ذمہ داری میں مصروف ہو۔

امام دارمی ؒ: ان کا نام عبداللہ بن عبدالرحمن السمرقندی ہے، ان کی کتاب مسند الدارمی کی سند کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں خاص مقام ہے، یہاں تک کہ اسے صحیح کے درجے میں شمار کرنے کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔

حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:مسند دارمی مرتبے کے اعتبار سے سنن کی کتابوں سے کم نہیں، بلکہ اگر اسے پانچ مشہور کتبِ حدیث کے ساتھ شامل کیا جائے تو یہ ابن ماجہ سے شامل کیے جانے کے زیادہ لائق ہے؛ کیونکہ مسند دارمی ابن ماجہ کی کتاب سے بہت بہتر ہے۔

)عن عبد الله بن أبي جعفر مرسلاً)یعنی یہ روایت عبداللہ بن ابی جعفر رحمہ اللہ سے مرسلاً نقل کی گئی ہے، ان کا نام أبو بکر مصری تھا، وہ بڑے فقیہ، مشہور عالم اور جلیل القدر ائمہ میں شمار ہوتے تھے۔

(فیض القدیر، (1/ 158) برقم (183)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

2۔  روایت: ’’إياكم أن تخلطوا طاعة الله بحب ثناء العباد، فتحبط أعمالكم‘‘ کی تحقیق وتفصیل:

’’مسند الفردوس ‘‘ للدیلمی ؒ میں ہے : 

" ابْن عَبَّاس: إيَّاكُمْ أَن تخلطوا طَاعَته بحب ثَنَاء الْعباد إيَّاكُمْ، فتحبط أَعمالكُم. " 

(مسند الفردوس، (1/ 388) برقم (1563)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

مذكوره روايت كي سند: 

علامه ابن حجر  ؒ نے اس روایت کی سند کچھ یوں نقل فرمائی ہے :

"قال أخبرنا أبي، أخبرنا محمد بن عثمان الإمام، حدثنا أبو محمد الأبهري، حدثنا أبو علي أحمد بن محمد القومساني، حدثنا علي بن عامر، حدثنا حميد بن عبد الرحمن بن عبد الله، حدثنا خداش بن مخلد، حدثنا الفضل بن عيسى، عن عباد بن منصور ،عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إياكم أن تخلطوا طاعة الله بحُبّ ثناء العباد، فتحبط أعمالكم. "

( الغرائب الملتقطة، (3/ 233) برقم (1007)، ط/ جمعية دار البرّ، الإمارات العربية المتحدة دبي)

حكمِ حديث : 

یہ روایت ضعیف ہے، دیلمی ؒ کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس کی تخریج نہیں ملتی، بعد کے دیگر حضرت نے بھی دیلمی ؒ کے حوالہ سے اسے نقل فرمایا ہے،نیز  اس کی سند میں ’’عباد بن منصور الناجی‘‘ نامی ایک  راوی ہے جو ضعیف ہے۔

امام ابو حاتم ؒ نے فرمایا: یہ ضعیف  الحدیث تھا، اس کی حدیث لکھی جاتی تھی، لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس نے یہ احادیث ’’ابراہیم بن ابی یحییٰ‘‘ سے، اور انہوں نے داؤد بن حصین سے، اور انہوں نے عکرمہ سے حاصل کی تھیں۔ اور امام ابن حبان نےفرمایاکہ: وہ قدری (قدر کے منکر نظریے کا حامل) تھا اور لوگوں کو اس نظریے کی دعوت بھی دیتا تھا، اور جب بھی وہ عکرمہ سے روایت کرتا، تو دراصل اس نے اسے ابراہیم بن یحییٰ سے سنا ہوتا، انہوں نے داؤد بن حصین سے، اور انہوں نے عکرمہ سے روایت کیا ہوتا؛ لیکن وہ درمیان کے ان راویوں کو چھپا کر اسے براہِ راست عکرمہ سے روایت کر دیتا تھا۔

’’تہذیب التہذیب‘‘ لابن حجر ؒ میں ہے : 

" قال أبو حاتم: كان ضعيف الحديث، يكتب حديثه، ونرى أنه أخذ هذه الأحاديث عن إبراهيم بن أبي يحيى، عن داود بن الحصين، عن عكرمة ... وقال (ابن حبان) كان قدريا داعية إلى القدر وكلما روى عن عكرمة سمعه من إبراهيم بن يحيى بن أبي يحيى عن داود بن الحصين عنه فدلسها عن عكرمة. "

(تهذيب التهذيب، (5/ 119)، ط/ دار الفكر، بيروت)

تشریح :

اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کا اصل مقصد اس کی رضا اور خوشنودی ہے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، واہ واہ اور شہرت، جب انسان نیکی کرتے ہوئے یہ چاہنے لگے کہ لوگ اسے نیک، متقی یا عبادت گزار سمجھیں تو یہ ریاکاری ہے، اور ریا اخلاص کی ضد اور نہایت خطرناک بیماری ہے، یہ بظاہر نیکی کو خوب صورت بناتی ہے، مگر باطن میں اس کے اجر کو برباد کر سکتی ہے۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص کی حفاظت کرے، لوگوں کی مدح و تحسین سے بے نیاز رہے اور صرف یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل سے راضی ہے یا نہیں۔

3۔ روایت ’’إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خَطْمَهُ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ، وَإِنْ نَسِيَ الْتَقَمَ قَلْبَهُ، فَذَلِكَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ‘‘  کی تحقیق وتفصیل :

’’مسند أبو يعلى‘‘ ميں ہے : 

" حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خَطْمَهُ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ، وَإِنْ نَسِيَ الْتَقَمَ قَلْبَهُ فَذَلِكَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ. "

(مسند أبي يعلى، (7/ 278) برقم (4301)، ط/ دار المأمون للتراث، دمشق) 

حكمِ حديث : 

علامه هيثمي ؒ فرماتے ہیں کہ اس میں ایک راوی ’’عدی بن ابی عمارۃ‘‘  ضعیف ہے ، لہذا یہ ضعیف روایت ہے  ۔ 

’’مجمع الزوائد‘‘ للہیثمی ؒ میں ہے : 

" رواه أبو يعلى، وفيه عدي بن أبي عمارة وهو ضعيف. "

(مجمع الزوائد، (7/ 149) برقم (11560)، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

تشریح :

’’فیض القدیر ‘‘ للمناوی ؒ میں ہے :

" (إن الشيطان واضع خطمه) أي فمه وأنفه والخطم من الطير منقاره ومن الدابة مقدم أنفها وفمها (على قلب ابن آدم فإن) وفي نسخة فإذا والأولى هي الثابتة بخط المصنف (ذكر الله تعالى خنس) انقبض وتأخر (وإن نسي الله التقم قلبه) فبعد الشيطان من الإنسان على قدر ملازمته للذكر والناس في ذلك متفاوتون ولهذا تجنب أولياء الرحمن. "

 یعنی شیطان ابنِ آدم کے دل پر اپنی ناک اور منہ رکھے رہتا ہے، پرندے کی چونچ کو بھی خَطْم کہتے ہیں اور جانور کے ناک اور منہ کے اگلے حصے کو بھی یہی کہا جاتا ہے، پس جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے، سمٹ جاتا ہے اور دور ہوجاتا ہے، اور جب انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے تو شیطان اس کے دل کو اپنا لقمہ بنا لیتا ہے۔

لہٰذا انسان سے شیطان کی دوری یا قربت ذکرِ الٰہی کے ساتھ اس کی وابستگی کے بقدر ہوتی ہے، جو شخص جتنا زیادہ اللہ کو یاد کرتا ہے، شیطان اس سے اتنا ہی دور رہتا ہے، اور جو شخص ذکر سے غافل رہتا ہے، شیطان کو اس پر اتنا ہی غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ لوگوں میں ذکرِ الٰہی کی پابندی اور اہتمام کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے، اس لیے شیطان کا اثر بھی سب پر یکساں نہیں ہوتا،اسی لیے اللہ کے مقبول بندے شیطان کے تسلط اور اس کے اسباب سے ہمیشہ بچتے اور ذکرِ الٰہی کو لازم پکڑتے ہیں۔ 

(فيض القدير، (2/ 354) برقم (2031 )، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

4۔ روایت ’’مَا مِنْ أَحَدٍ مَرَّ بِقَبْرِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ إِلَّا عَرَفَهُ وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ‘‘ کی تحقیق وتفصیل :

’’الاستذکار ‘‘ لابن عبد البر ؒ میں ہے: 

"أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قِرَاءَةً مِنِّي عَلَيْهِ سَنَةَ تِسْعِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلِ قَالَ أَمْلَتْ عَلَيْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ الرَّيَّانِ الْمُسْتَمْلِيِّ فِي دَارِهَا بِمِصْرَ في شوال سنة اثنتين وأربعين وثلاث مئة قَالَتْ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ صَاحِبُ الشَّافِعِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ بن عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَا مِنْ أَحَدٍ مَرَّ بِقَبْرِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ إِلَّا عَرَفَهُ وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ. "

(الاستذكار، (1/ 185)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

حكمِ حديث : 

علامه عيني   ؒ فرماتے ہیں کہ یہ صحیح سند سے مروی ہے ،نيز مذکورہ روایت کو مُحدّث شیخ عبدالحق اشبیلی ؒ نے صحیح قرار دیا ہے جیساکہ مُلاّ علی قاری ؒ و  علامہ مناوی ؒ  وغیرہ نے نقل فرمایا ہے۔

’’عمدۃ القاری ‘‘ للعینی  ؒ میں ہے : 

" وَعند ابْن عبد الْبر بِسَنَد صَحِيح : مَا من أحد يمر بِقَبْر أَخِيه الْمُؤمن كَانَ يعرفهُ فِي الدُّنْيَا فَيسلم عَلَيْهِ إلاَّ عرفه ورد عَلَيْهِ السَّلَام. "

(عمدة القاري، (8/ 69)، ط/دار إحياء التراث العربي، بيروت)

’’شرح الصدور‘‘ للسیوطی ؒ میں ہے: 

" وَأخرج إِبْنِ عبد الْبر فِي الإستذكار والتمهيد عَن إِبْنِ عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مَا من أحد يمر بِقَبْر أَخِيه الْمُؤمن كَانَ يعرفهُ فِي الدُّنْيَا فَيسلم عَلَيْهِ إِلَّا عرفه ورد عَلَيْهِ السَّلَام صَححهُ عبد الْحق. "

(شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور، (ص: 201)، ط/ دار المعرفة ، لبنان)

’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ لعلی القاری ؒ میں ہے : 

" وَأَخْرَجَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي الِاسْتِذْكَارِ وَالتَّمْهِيدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُرُّ بِقَبْرِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا عَرَفَهُ وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، صَحَّحَهُ عَبْدُ الْحَقِّ، وَأَخْرَجَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرٍ يَعْرِفُهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَعَرَفَهُ، وَإِذَا مَرَّ بِقَبْرٍ لَا يَعْرِفُهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، أَيْ وَلَمْ يَعْرِفْهُ. "

(مرقاة المفاتيح، (4/ 1259)، ط/ دار الفكر)

’’فیض القدیر ‘‘ للمناوی ؒ میں ہے: 

" وممن صححه عبد الحق بلفظ: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. "

(فيض القدير للمناوي، (5/ 487) برقم (7062)، ط/  المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

’’تخريج أحاديث إحياء علوم الدين‘‘ میں ہے: 

" قلت: وهو هكذا بفتح السين بخط الحافظ الذهبي في الديوان وقال فيه تركوه وأما حديث ابن عباس الذي رواه ابن عبد البر في التمهيد فلفظه ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام وقد رواه كذلك في الاستذكار وهذا الذي صححه عبد الحق في العاقبة وروي نحو ذلك من حديث أبي هريرة ما من رجل يزور قبر أخيه فيسلم عليه ويقعد عنده إلا رد عليه السلام وأنس به حتى يقوم من عنده رواه أبو الشيخ والديلمي."

(تخريج أحاديث إحياء علوم الدين، (6/ 2612) برقم (4031)، ط/ دار العاصمة للنشر، الرياض)

تشریح :

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میت کو اس قدر ادراک عطا فرماتے ہیں کہ وہ اپنے دنیا کے شناسا شخص کو پہچان سکتی ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتی ہے، اس لیے قبروں کی زیارت کے وقت سلام کہنا اور اہلِ قبور کے لیے دعا کرناایک  باعثِ اجر عمل ہے۔ یہ حدیث ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اپنے مرحومین کو فراموش نہ کریں، بلکہ ان کے لیے سلام، دعا اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کرتے رہیں۔

’’فیض القدیر ‘‘ للمناوی ؒ میں ہے :

" (ما من عبد يمر بقبر رجل كان يعرفه في الدنيا) أي وهو غير شهيد كما قاله القرطبي حيث قال: عمومه محمول على غير الشهداء لأن أرواحهم في جوف طير خضر تأوي إلى قناديل معلقة بالعرش اه. (فسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام) فرحا به وقال الحافظ العراقي: المعرفة ورد السلام فرع الحياة ورد الروح ولا مانع من خلق هذا الإدراك برد الروح في بعض جسده وإن لم يكن ذلك في جميعه وقال بعض الأعاظم: تعلق النفس بالبدن تعلق يشبه العشق الشديد والحب اللازم فإذا فارقت النفس البدن فذلك العشق لا يزول إلا بعد حين فتصير تلك النفس شديدة الميل لذلك البدن ولهذا ينهى عن كسر عظمه ووطء قبره فإذا وقف إنسان على قبر إنسان قوي النفس كامل الجوهر شديد التأثير حصل بين النفسين ملاقاة روحانية وبهذا الطريق تصير تلك الزيارة سببا لحصول المنفعة الكبرى والبهجة العظمى لروح الزائر والمزور ويحصل لهما من السلام والرد غاية السرور وهذا هو السبب الأصلي في مشروعية الزيارة، وفي العاقبة لعبد الحق عن الفخر التبريزي: أنه كان يشكل عليه مسائل فيطيل الفكر فيها ويبذل الجهد في حلها فلا تنجلي حتى يذهب لقبر شيخه التاج التبريزي ويجلس بين يديه كما كان في حياته ويفكر فيها فتنجلي سريعا قال جربت ذلك مرارا وقال الإمام الرازي في المطالب: كان أصحاب أرسطو كلما أشكل عليهم بحث غامض ذهبوا إلى قبره وبحثوا فيه عنده فيفتح لهم وسره أن نفس الزائر والمزور شبيهان بمرآتين صقيلتين وضعتا بحيث ينعكس الشعاع من إحداهما إلى الأخرى فكلما حصل في نفس الزائر الحي من المعارف والعلوم والأخلاق الفاضلة من الخضوع لله والرضى بقضائه ينعكس معه نور ذلك الإنسان الميت وكلما حصل في نفس الميت من العلوم المشرقة ينعكس منها نور إلى روح هذا الزائر الحي.

<تنبيه> قال ابن القيم: هذا الحديث ونحوه من الآثار يدل على أن الزائر متى جاء علم به المزور وسمع سلامه وأنس به ورد عليه قال: وذا عام في حق الشهداء وغيرهم وأنه لا توقيت في ذلك قال: وذا أصح من أثر الضحاك الدال على التوقيت وقد شرع المصطفى صلى الله عليه وسلم لأمته أن يسلموا على أهل القبور سلام من يخاطبونه ممن يسمع ويعقل. "

(فيض القدير للمناوي، (5/ 487) برقم (7062)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

5۔روایت ’’مَنْ صُدِعَ رَأْسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْتَسَبْ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ‘‘ کی تحقیق وتفصیل:

مسند البزار ميں ہے : 

" حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْإِفْرِيقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صُدِعَ رَأْسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْتَسَبْ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ». "

(مسند البزار، (6/ 413) برقم (2437)، ط/ مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة)

حكمِ حديث : 

علامه هيثمي ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند حسن (درجہ کی) ہے۔

’’ مجمع الزوائد ‘‘ للہیثمی ؒ میں ہے : 

" رواه الطبراني في الكبير وإسناده حسن. "

(مجمع الزوائد، (2/ 302) برقم (3800)، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

’’فیض القدیر ‘‘ للمناوی ؒ میں ہے :

" (طب) وكذا البزار (عن ابن عمرو) بن العاص قال المنذري والهيثمي: سنده حسن." 

 (فيض القدير للمناوي، (6/ 163) برقم (8788)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر) 

تشریح :

’’فیض القدیر ‘‘ للمناوی ؒ میں ہے :

" (من صدع رأسه) أي حصل له وجع في رأسه والصداع وجع الرأس ويقال هو وجع أحد شقي الرأس والمتبادر من الحديث الأول لكن يكون من قبيل التجريد كقوله {سبحان الذي أسرى بعبده ليلا} الآية (في سبيل الله) أي في الجهاد أو الحج أو نحو ذلك (فاحتسب) أي طلب بذلك الثواب من عند الله (غفر الله له ما كان قبل ذلك من ذنب) مكافأة له على ما قاساه من مشقة السفر والغربة ومشقة الوجع ويؤخذ منه أنه نبه بالصداع على غيره من الأمراض لا سيما إن كان أشق والظاهر أن المراد الصغائر. "

«مَن صُدِعَ رَأسُهُ» یعنی جس شخص کے سر میں درد ہوگیا۔ صُداع سر درد کو کہتے ہیں، اور بعض اہلِ لغت کے نزدیک سر کے ایک جانب ہونے والے درد کو بھی صُداع کہا جاتا ہے۔ البتہ یہاں ظاہر یہی ہے کہ عام سر درد مراد ہے۔

«في سبيل الله» یعنی اللہ کی راہ میں، خواہ جہاد، حج یا اس طرح کے کسی نیک کام کے لیے ہو۔

«فاحتسب» یعنی وہ اس تکلیف پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے اجر و ثواب کی امید رکھے۔

ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کے بدلے، جو اسے سفر، اجنبیت اور سر درد کی وجہ سے برداشت ہوئی، اس کے پہلے کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ حدیث میں سر درد کا ذکر بطورِ مثال ہے؛ چنانچہ دوسری بیماریوں اور تکالیف میں بھی، خصوصاً جب وہ اس سے زیادہ شدید ہوں، اجر و ثواب کی امید کی جاسکتی ہے۔اور بظاہر یہاں صغیرہ گناہوں کی مغفرت مراد ہے۔

 (فيض القدير للمناوي، (6/ 163) برقم (8788)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100999

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں